بظاہر کہانی یہاں سے شروع ہوتی ہے۔دنیا نے ابتدا میں ایران پر امریکی و اسرائیلی کو حملے ایک محدود کارروائی سمجھا۔ کسی نے اسے جوہری خطرے کے خاتمے کا نام دیا، کسی نے طاقت کا مظاہرہ قرار دیا اور کسی نے اسے رجیم چینج کی ایک منظم کوشش کے طور پر دیکھا۔ لیکن محض چند ہفتوں کے اندر یہ حقیقت آشکار ہو گئی کہ یہ جنگ ویسی نہیں تھی جیسی امریکی استعمار نے منصوبہ بندی کی تھی۔ ایران، جسے دبا¶ میں آنے والا ملک سمجھا گیا، اس کی انقلابی قیادت نے نہ صرف مزاحمت کی بلکہ پورے خطے کی سٹرٹیجک بساط کو الٹ دیا۔آبنائے ہرمز پر ایرانی کنٹرول، بحیرہ احمر میں غیر متوقع سرگرمیاں اور یمن کی بطور ایک نئے مزاحمتی پلیئر شمولیت اس بات کا واضح اشارہ ہیں کہ یہ تنازع اب محض علاقائی جنگ نہیں رہا بلکہ عالمی اسٹریٹیجک چوک پوائنٹس کی جنگ بن چکا ہے۔ اب آبنائے ہرمز کی امریکی ناکہ بندی نے خاص طور پر چین کی توانائی سپلائی لائنز کو گھیرنے کی اس امریکی حکمت عملی کو بے نقاب کر دیا ہے، جس کا مقصد بیلٹ اینڈ روڈ منصوبے اور ایشیائی معاشی ترقی کو محدود کرنا تھا۔ امریکہ کا ایران کے جوہری پروگرام سے متعلق بیانیہ بھی تیزی سے اپنی ساکھ کھو رہا ہے۔ دنیا 2003ءمیں عراق پر حملے کے لیے پیش کیے گئے ”بڑے پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیاروں“کے جھوٹے دعوو¿ں کو نہیں بھولی، جنہیں ٹونی بلیئر اور امریکی قیادت نے جواز بنایا تھا۔ اسی تناظر میں ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ سید علی خامنہ ای کا وہ فتویٰ بھی نہایت اہم ہے جس میں جوہری ہتھیاروں کی تیاری اور استعمال کو انسانیت کے خلاف جرم قرار دیا گیا ہے، جو ایرانی بیانیے کی اخلاقی بنیاد کو مزید مضبوط کرتا ہے۔ دوسری جنگِ عظیم کے بعد سے عالمی تاریخ اس بات کی گواہ ہے کہ امریکی استعمار اور صیہونیت کے گٹھ جوڑ نے وسائل سے مالا مال خطوں کو مسلسل جنگوں میں جھونکا۔ ویتنام، افغانستان، عراق، لیبیا، سوڈان، اور حالیہ ادوار میں شام اور ایران، ان تمام خطوں میں مسلط کردہ جنگیں کسی عالمی قانون یا اقوام متحدہ کے چارٹر کے تحت نہیں بلکہ سرمایہ دارانہ اور صیہونی مفادات کے تحفظ کے لیے لڑی گئیں۔امریکہ کا دوہرا چہرہ اب دنیا کے سامنے پوری طرح عیاں ہو چکا ہے۔ ایک طرف امریکن ڈریم، جمہوریت، انسانی حقوق اور ٹیکنالوجیکل ترقی کا دلکش بیانیہ، جسے ہالی وڈ، این جی اوز، اقوام متحدہ کے پلیٹ فارمز اور تعلیمی اداروں کے ذریعے فروغ دیا گیااور دوسری طرف ایشیا، جنوبی امریکہ اور افریقہ کو جنگوں کا ایندھن بنا کر وسائل پر قبضہ کرنے کی حکمت عملی۔ اسلام کے خلاف دہشت گردی کے بیانیے کو فروغ دے کر یورپ کو ڈرانے کے لئے اسلاموفوبیا کو ہوا دی گئی، تاکہ صیہونی اور سرمایہ دارانہ مقاصد کے حصول کو آسان بنایا جا سکے۔ اس تناظر میں حال ہی میں عیسائیوں کے روحانی پیشوا، پوپ فرانسس کا بیان بھی قابلِ ذکر ہے، جنہوں نے عالمی طاقتوں خصوصاً امریکہ کی جنگی پالیسیوں اور مشرقِ وسطیٰ میں انسانی المیوں پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے انہیں عیسائیت کی تعلیمات کے منافی قرار دیا۔ یہ بیان اس امر کی عکاسی کرتا ہے کہ دنیا کے مختلف مذاہب اور خطوں سے تعلق رکھنے والی باشعور آوازیں اب امریکی استعمار اور صیہونیت کے خلاف یکجا ہو رہی ہیں۔ ڈونلڈ ٹرمپ کے دورِ صدارت نے امریکی استعمار کے اصل چہرے کو مزید بے نقاب کیا۔ چین کےخلاف تجارتی جنگ اور ٹیرف پالیسیوں کے ذریعے اس کی معاشی سپلائی لائنز کو محدود کرنے کی کوشش، وینزویلا کے صدر کااغوا اور حکومت کی تبدیلی کی کوششیں، گرین لینڈ پر قبضے کی دھمکیاں اور مشرقِ وسطیٰ کے حکمرانوں کی مسلسل تذلیل ،یہ تمام اقدامات اس بات کا ثبوت ہیں کہ امریکی پالیسی کا بنیادی مقصد عالمی وسائل پر قبضہ اور جغرافیائی برتری و کنٹرول ہے۔اسی طرح فلسطین میں اسرائیلی جارحیت اور نسل کشی کی غیر مشروط حمایت نے امریکی نظام اور صیہونیت کے گٹھ جوڑ کو مزید واضح کر دیا ہے۔ یہ اتحاد نہ صرف خطے کے امن کے لیے خطرہ بن چکا ہے بلکہ عالمی انصاف اور انسانی حقوق کے دعو¶ں کو بھی کھوکھلا ثابت کرتا ہے۔ اس کے نتیجے میں عالمی سطح پر ایک اور بڑی تبدیلی پیٹرو ڈالر سسٹم کے زوال کی صورت میں سامنے آ رہی ہے۔ تیل اور سونے کی تجارت میں متبادل کرنسیوں کا استعمال، روس اور چین کی مالیاتی حکمت عملی اور علاقائی اتحاد اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ دنیا ایک نئے معاشی اور سیاسی نظام کی طرف بڑھ رہی ہے، جو امریکی بالادستی کے خاتمے کا پیش خیمہ ثابت ہو سکتا ہے۔ سعودی عرب بھی اس بدلتی ہوئی عالمی سیاست میں ایک بیلنسنگ پاور کے طور پر ابھر کر سامنے آیا ہے۔ چین کے ساتھ معاشی تعاون، اوپیک میں روس کے ساتھ ہم آہنگی اور امریکہ کے ساتھ سکیورٹی تعلقات اس بات کا ثبوت ہیں کہ اب خطے کے ممالک یک قطبی نظام کے بجائے کثیر قطبی دنیا کی طرف بڑھ رہے ہیں۔پاکستان کے لیے یہ عالمی تبدیلیاں ایک سنہری موقع فراہم کرتی ہیں۔ اگر پاکستان دانشمندانہ اور متوازن حکمت عملی اپنائے رکھے تو وہ چین کے ساتھ دفاعی و تکنیکی تعاون، علاقائی سکیورٹی پارٹنرشپس اور نئے سٹرٹیجک معاہدوں کے ذریعے ایک“کنیکٹنگ پاور”کے طور پر ابھر سکتا ہے، جو مشرق اور مغرب کے درمیان پل کا کردار ادا کرے گا۔ ان مواقعوں سے بھرپور فائد ہ اٹھانے کے لئے پاکستان کو داخلی سطح پر سیاسی اور معاشی استحکام پیدا کرنے کی اشد ضرورت ہے۔ اس وقت آخر میں عالمی منظرنامہ کچھ یوں بنتا ہے۔ ایران مزاحمت کی علامت بن چکا ہے، روس عالمی اصولوں کو ازسرِ نو ترتیب دے رہا ہے، چین خاموشی سے معاشی میدان میں آگے بڑھ رہا ہے، سعودی عرب فی الحال توازن کی پالیسی اختیار کیے ہوئے ہے، جبکہ امریکی استعمار اور صیہونیت ایک ایسی دلدل میں پھنس چکے ہیں جس سے نکلنا دن بہ دن مشکل ہوتا جا رہا ہے۔ یوں محسوس ہوتا ہے کہ شکار کو پھنسانے نکلا ہوا شکاری اب خود اپنے ہی دام میں آ چکا ہے۔ ایرانی مزاحمت نے امریکی تابوت میں آخری کیل ٹھونک دی ہے اور دنیا ایک نئے، زیادہ منصفانہ اور کثیر قطبی عالمی نظام کے دہانے پر کھڑی ہے۔ پس نوشت امریکہ ایران مذاکرات میں ایرانی م¶قف نے دنیا کو امریکی اثر سے نکلنے کا مزید حوصلہ فراہم کیا ہے۔ یورپ اور کینیڈا جیسے اتحادی بھی امریکہ سے جان چھڑانا چاہتے ہیں۔ دنیا کے بڑے پلیئرز کونئے کثیر القطبی نظام میں انسانیت کے بنیادی اصولوں کو سامنے رکھتے ہوئے از سر نو تجدید کی ضرورت ہے جہاں سرمائے اور منافع کے حصول میں مفادات کے تصادم کی بجائے، احترام انسانیت کو فوقیت حاصل ہو۔ اس ضمن میں دین اسلام کا بطور نظام مطالعہ و رہنمائی، انسانیت کے مسائل حل کرنے کی استعداد رکھتا ہے۔ لیکن یہ سرمایہ داری نظام کی مرعوبیت سے نکل کر ہی ممکن ہو گا۔
ایران جنگ اور امریکی نظام کا زوال
RELATED ARTICLES



