75.9 F
Pakistan
Tuesday, April 21, 2026
HomeLifestyleاسرائیلی فوجی کی حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے مجسمے کی بے حرمتی،...

اسرائیلی فوجی کی حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے مجسمے کی بے حرمتی، وائرل تصویر پر ہنگامہ

جنوبی لبنان میں ایک اسرائیلی فوجی کی جانب سے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے مصلوب مجسمے کو ہتھوڑے سے توڑنے کی وائرل تصویر نے عالمی سطح پر شدید غم و غصے کو جنم دیا ہے۔ عرب نشریاتی ادارے الجزیرہ کے مطابق پیر کے روز جاری ایک بیان میں اسرائیلی فوج نے اس تصویر کی تصدیق کی، جو سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر بڑے پیمانے پر شیئر کی گئی اور اسے 50 لاکھ سے زائد مرتبہ دیکھا گیا۔ اسرائیلی فوج کے مطابق ابتدائی جائزے سے معلوم ہوا کہ تصویر میں ایک اسرائیلی فوجی جنوبی لبنان میں آپریشن کرتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔ فوجی بیان میں کہا گیا کہ واقعے کی تحقیقات شروع کر دی گئی ہیں اور تحقیقات کے نتائج کے مطابق ملوث افراد کے خلاف مناسب کارروائی کی جائے گی۔ اس واقعے پر ردعمل دیتے ہوئے اسرائیلی پارلیمنٹ (کنیسٹ) کے فلسطینی رکن ایمن عودہ نے سوشل میڈیا پر طنزیہ انداز میں لکھا کہ ہم انتظار کریں گے کہ پولیس کا ترجمان یہ دعویٰ کرے کہ فوجی کو حضرت عیسیٰ کے مجسمے سے خطرہ محسوس ہوا تھا۔ کنیسٹ کے ایک اور فلسطینی رکن احمد طیبی نے فیس بک پر اپنے بیان میں کہا کہ جو لوگ غزہ میں مساجد اور گرجا گھروں کو دھماکوں سے اڑاتے ہیں اور یروشلم میں عیسائی مذہبی رہنماؤں پر تھوکتے ہیں اور انہیں کوئی سزا نہیں ملتی، وہ حضرت عیسیٰ کے مجسمے کو تباہ کرنے اور اس کی تصویر شائع کرنے سے بھی نہیں ڈرتے۔ انہوں نے مزید کہا کہ شاید ان نسل پرستوں نے ڈونلڈ ٹرمپ سے بھی سیکھ لیا ہے کہ حضرت عیسیٰ کی توہین کیسے کی جاتی ہے اور پوپ لیو کی بھی بے حرمتی کیسے کی جاتی ہے؟ یہ بیان امریکی صدر کے حالیہ تنازعات کے تناظر میں دیا گیا، جن میں ان کی ایک مصنوعی ذہانت سے تیار کردہ تصویر شامل تھی جس میں وہ خود کو حضرت عیسیٰ جیسی شخصیت کے طور پر پیش کرتے نظر آئے تھے، جبکہ انہوں نے ایران کے خلاف جنگ پر تنقید کرنے والے رومن کیتھولک چرچ کے سربراہ سے بھی اختلاف کیا تھا۔ متعدد سماجی کارکنوں، ماہرین تعلیم اور لکھاریوں نے بھی اس واقعے کی مذمت کی ہے۔ یہ مجسمہ جنوبی لبنان کے گاؤں دیبل کے مضافات میں، اسرائیل کی سرحد کے قریب واقع تھا۔ سوشل میڈیا صارفین نے بھی مذہبی مقامات اور علامات پر اسرائیلی فوجیوں اور آبادکاروں کے حملوں پر عالمی خاموشی کی مذمت کی۔ رپورٹس کے مطابق اسرائیلی افواج نے غزہ میں جاری جنگ کے دوران متعدد مذہبی مقامات، بشمول مساجد اور گرجا گھروں کو نشانہ بنایا۔ اسی طرح مقبوضہ مغربی کنارے میں گزشتہ سال آبادکاروں نے 45 مساجد پر حملے یا توڑ پھوڑ کی، جس کی تصدیق فلسطینی اتھارٹی کی وزارت مذہبی امور نے کی۔ دوسری جانب مذہبی آزادی کے ڈیٹا سینٹر کے مطابق جنوری 2024 سے ستمبر 2025 کے درمیان عیسائیوں کے خلاف کم از کم 201 پرتشدد واقعات رپورٹ ہوئے، جن میں زیادہ تر حملے آرتھوڈوکس یہودیوں کی جانب سے بین الاقوامی مذہبی شخصیات یا عیسائی علامات ظاہر کرنے والے افراد کو نشانہ بنا کر کیے گئے۔

Read full story on Aaj

RELATED ARTICLES

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

- Advertisment -
Google search engine

Most Popular

Recent Comments