83.2 F
Pakistan
Sunday, May 10, 2026
HomeBreaking News11مئی 2025کی کہانی

11مئی 2025کی کہانی

یہ گیارہ مئی دوہزار پچیس کا دن تھا ۔ہندوستان ایک دن پہلے دس مئی کو براستہ امریکا پاکستان سے رحم کی بھیک مانگ چکا تھا۔سیز فائر کے دوران ہی طے پایا تھا کہ دودن بعد یعنی بارہ مئی کو دونوں اطراف کے ڈی جی ملٹری آپریشنز آپس میں بات کرکے جنگ بندی کا مستقبل طے کریں گے ۔بارہ مئی سے ایک دن پہلے پردھان منتری بھون(وزیراعظم ہاو¿س) دلی میں ایک اہم اجلاس بلایا گیا۔اس اجلاس کی صدارت نریندر مودی کررہے تھے جبکہ ہندوستان کی تینوں مسلح افواج کے سربراہ اور بھارتی چیف آف ڈیفنس سروسز انیل چوہان کے ساتھ ساتھ بھارتی نیشنل سکیورٹی ایڈوائزر اجیت دووال اور وزیرداخلہ امیت شا بھی اس اجلاس میں موجود تھے ۔ وزیراعظم نریندر مودی کو جب تمام شرکا کے آجانے کی اطلاع دی گئی تو وہ آر ایس ایس کے چیف موہن بھگوت کے ساتھ پردھان منتری بھون میں بات چیت کررہے تھے ۔آر ایس ایس چیف موہن بھگوت پہلگام کے فالس فلیگ آپریشن کے ساتھ ہی ناگ پور سے دلی وزیراعظم ہاو¿س میں ڈیرہ ڈال کر بیٹھ گئے تھے ۔اور میرے ذرائع نے بتایا کہ پہلگام یعنی بائیس اپریل سے لے کر گیار ہ مئی تک آرایس ایس چیف موہن بھگوت بھارت کے عملی پردھان منتری تھے جبکہ نریندر مودی صرف کٹھ پتلی کے کردار میں میڈیا اور اجلاس مینج کررہا تھا۔تمام اجلاسوں کا ایجنڈا نریندر مودی موہن بھگوت سے پوچھ کر بنارہے تھے ۔نریندر مودی نے گیارہ مئی کو موہن بھگوت سے ہدایات لے کر سروسز چیفس کی اہم ترین میٹنگ میں جانے کی اجازت چاہی ۔مودی اپنے دفتر سے کچھ ہی فاصلے پر اس میٹنگ روم میں پہنچے تو شرکا کو توقع تھی کہ وزیراعظم ان سے ہندوستان کے ناکام آپریشن سندور کی بریفنگ مانگیں گے اور ناکامیوں کی ذمہ داری کا تعین کریں گے لیکن وہاں کچھ الگ ہی ماحول تھا۔نریندر مودی کے چہرے پر سخت پریشانی اور ناگواری تھی ۔چیف آف ڈیفنس سروسز انیل چوہان نے کہا پی ایم صاحب سروسز چیف کی بریفنگز تیار ہے ۔اجازت دیں تو شروع کریں ؟نریندر مودی نے کہا کہ بریفنگ کی ابھی ضرورت نہیں ۔ آپریشن سندور ابھی نامکمل ہے ۔اس کو جاری رکھنا ہے اس لیے حکومت نے فیصلہ کیا ہے کہ کل بارہ مئی کو جب ہمارا ڈی جی ملٹری آپریشن پاکستانی ہم منصب سے ملے گا تو جنگ بندی پر کوئی لائحہ عمل طے کرنے نہیں بلکہ جنگ بندی ختم کرنے کے لیے ملے گا۔انیل چوہان نے پہلو بدلتے ہوئے کہا کہ پی ایم صاحب کیا مطلب ؟ ہم جنگ بند کرچکے ہیں ۔ہمارا بہت نقصان ہوچکا ہے پاکستان کی گرفت اس آپریشن میں بہت زیادہ مضبوط ہے حکمت یہی ہے کہ ہم اس جنگ بندی کو مستقل امن میں بدلنے کی ہی بات کریں لیکن مودی نے کہا کہ آپریشن سندور کے مقاصد پورے ہونے کی بجائے سرکار کو بہت ذلت کا سامنا ہے ۔اپنی اپوزیشن اور عوام تو ایک طرف پوری دنیا کا میڈیا ہما رامذاق اڑارہا ہے اس لیے جب تک برتری نہیں مل جاتی ”یُدھ“ کو جاری رکھنا پڑے گا۔اپنے پردھان منتری کی یہ بے تکی باتیں سن کر اس باربھارتی پنجاب سے تعلق رکھنے والا سکھ ایئر چیف جے پی سنگھ بول اٹھا ” پی ایم صاحب اس وقت صورت حال یہ ہوگئی ہے کہ پاکستان ہماری طرف والاجنگ کا مکمل نقشہ دیکھ رہا ہے ۔مانیٹر کررہاہے۔ اسے یہ تک پتہ ہے کہ ہمارا کونساطیارہ کس ہینگر میں کھڑا ہے لیکن ہم مکمل طورپر بلائنڈ ہیں ۔پاکستان نے جو ملٹی ڈومین وار فیئر کا مظاہرہ کیا ہے ہمیں اس کو سمجھنے کے لیے وقت درکار ہے ۔ہمارا کوئی بھی جہاز ہینگر سے نکل کر رن وے پر آیا وہ تباہ ہوجائے گا ۔پاکستانی ایئر فورس نشانے سادھے بیٹھی ہے اس لیے جنگ بندی کو ختم کرنا اپنی مزید تباہی کو دعوت دینا ہے ۔ایئر فورس فی الحال کوئی بھی جنگ لڑنے کی کی پوزیشن میں نہیں ہے ۔مودی سمجھ گئے کہ ایئر فورس کے کیا حالات ہیں ۔مودی نے اپنے آرمی چیف یوپندر دویدی کی طرف دیکھا اور پوچھا کہ آپ کی سینا کی کیا حالت ہے کیا ہم دوبارہ یُدھ کا اعلان کرکے پاکستان کو سرحدوں پر انگیج کرسکتے ہیں ؟ اتنی دیر تک کہ ایئر فورس سمجھ لے کہ اس کے ساتھ پاکستان نے کیا کیا ہے؟ آرمی چیف نے کہا پی ایم صاحب پاکستان نے جنگ کو بہت ہی ماڈرن کردیا ہے اب روایتی جنگ کا دور گزر گیا ہے ۔ہم ڈرون بھیج کر دیکھ چکے ہیں لیکن سب برباد ہوا۔سرحدوں پر کچھ گولہ باری ہوسکتی ہے لیکن پاکستان جنگ وہیں سے دوبارہ شروع کرے گا جہاں اس نے بریک لی ہے اور لائن آف کنٹرول کی بہت سی چوکیاں پہلے ہی پاکستان کے قبضے میں جاچکی ہیں اور ہمارے جوانوں نے سفید جھنڈے لہرا کر جانیں بچائی ہیں میں بھی ایئر چیف سے متفق ہوں کہ فی الحال جنگ بندی کو قائم رکھا جائے ۔ یہ سب سننے کے بعد فیصلہ ہوا کہ ڈی جی ایم او جنگ بندی ختم کرنے کی بات کی بجائے اس میں توسیع پر اتفاق کریں گے اور سیاسی طرف سے یہ بیان دیا جائے گا کہ آپریشن سندور ابھی جاری ہے ۔یہ ختم نہیں ہوا بلکہ اس میں ” وقفہ“ لیا گیا ہے۔یہ اعلیٰ عسکری قیادت کی میٹنگ وہیں اختتام کو پہنچ گئی اور نریندر مودی منہ لٹکائے واپس اپنے آفس پہنچا تو وہاں آر ایس ایس چیف موہن بھگوت یہ سننے کے انتظار میںتھے کہ کل جنگ بندی ختم کرکے دوبارہ پاکستان پر حملے کا اعلا ن کرنے کا فیصلہ ہوگالیکن مودی کا لٹکا منہ دیکھ کر موہن بھگوت اضطراب میں آگئے ۔پوچھا کیا سینا کل دوبارہ پاکستان پر حملے کے لیے تیار ہے؟ مودی نے کہا کہ پاکستان کے ساتھ فوری جنگ بندی ختم کرکے دوبارہ جنگ شروع کرنے کا آپشن ہمارے پاس نہیں ہے۔عسکری قیادت کا خیال ہے کہ جنگ بندی ختم کرنے سے ہماری ایئر فورس مکمل برباد کردی جائے گی اور ہندوستان کی دنیا میں مزید جگ ہنسائی ہوگی اس لیے کل جنگ بندی میں توسیع کا فیصلہ کیا جائے گا ۔یہ بات سن آر ایس ایس چیف کی امیدوں پر گھڑوں پانی پڑگیا ۔وہ مودی سے ناراض ہوکر اسی وقت وزیراعظم ہاو¿س سے نکلے اور گیارہ مئی دوہزار پچیس کو ہی سیدھے آر ایس ایس کے ہیڈکوارٹر ناگ پور چلے گئے ۔اور وہاں جاکر یہ پیان دیا کہ مودی ستر سال کا ہوگیا ہے ستر کے بعد قیادت چھوڑ نا ہی بہتر ہوگا۔پاکستان پر حملہ کرکے ہمیں سبق سکھانے کا منصوبہ آر ایس ایس کا تھا کیونکہ دوہزار پچیس کو راشٹریہ سوائم سیوک سنگ (آر ایس ایس ) کو بنے سو سال ہونے جارہے تھے ۔بی جے پی یہ سوسالہ جشن بڑی دھوم دھام سے منانے کی تیاریاں کررہی تھی اس میں یہ طے پایا کہ پاکستان کے اندر حملے کرکے ایک نیو نارمل تخلیق کرلیا جائے ۔پاکستان سے آگے سے کچھ ہوگا نہیں اس لیے ہم سوسالہ جشن ہندوستان کی پاکستان کے خلاف فتح کے طورپر منائیں گے ۔اس لیے پہلگام میں فالس فلیگ کروایا گیا تاکہ اس کو بنیاد بناکر پاکستان پر حملہ کیا جاسکے ۔پہلگام بھی ہوا۔اور دنیاکے منع کرنے کے باجود پاکستان پر حملہ بھی ہوا لیکن وہ کچھ نہیں ہوا جو بھارتی منصوبہ تھا کیونکہ پاکستان اور پاکستان کی قیادت وہ تھی ہی نہیں جو بھارت سوچے اور سمجھے بیٹھا تھا۔پاکستان نے ملٹی ڈومین وار فیئر کا کامیاب تجربہ کیا اور ہندوستان کو واپس اپنے بل میں چھپنے پر مجبور کردیا۔

Read full story on Nai Baat

RELATED ARTICLES

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

- Advertisment -
Google search engine

Most Popular

Recent Comments