طبی ماہرین اور فٹنس کے شعبے سے وابستہ افراد اکثر پٹھوں کو طویل اور صحت مند زندگی کا بنیادی عضو قرار دیتے ہیں۔ آخرکار یہی عضلات ہمیں حرکت کرنے، خوراک کو توانائی میں تبدیل کرنے اور بھرپور زندگی گزارنے کے قابل بناتے ہیں۔ تاہم ایک چھوٹا سا پٹھا، جسے اکثر نظرانداز کر دیا جاتا ہے، مستقبل کی صحت کے لیے غیرمعمولی اہمیت رکھ سکتا ہے اور اسے مضبوط بنانا حیرت انگیز طور پر آسان ہے۔ ٹانگ کے نچلے حصے کے پچھلے رخ پر موجود سولیئس پٹھا ایک ’دوسرے دل‘ کی طرح کام کرتا ہے۔ کتاب ’Walk: Your Life Depends On It‘ کی مصنفہ ڈاکٹر کورٹنی کونلی کے مطابق جب یہ پٹھا متحرک ہوتا ہے تو پمپ کی طرح کام کرتے ہوئے خون کی گردش اور لمفی نظام (Lymphatic System) دونوں کو بہتر بناتا ہے۔ اس کے نتیجے میں دورانِ خون کا نظام جسم کے مختلف حصوں تک زیادہ غذائی اجزا پہنچاتا ہے، جس سے ہاضمہ، دماغی صحت اور دیگر جسمانی افعال بہتر ہوتے ہیں۔ دوسری طرف لمفی نظام جسم سے فاضل مادوں اور زہریلے اجزا کو خارج کرتا ہے، جس سے انسان خود کو زیادہ توانا اور بہتر محسوس کرتا ہے۔ متعدد تحقیقات سے یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ سولیئس کو درست انداز میں متحرک کرنے سے میٹابولزم، خون میں شکر کی مقدار کے نظم و ضبط اور ہاضمے میں بہتری آ سکتی ہے۔ اس مقصد کے لیے محققین نے ایک نہایت آسان ورزش استعمال کی جسے ’سولیئس پش اَپ‘ کہا جاتا ہے اور اسے آپ اپنی میز پر بیٹھے بیٹھے باآسانی کر سکتے ہیں۔ soleus. jpg سولیئس پش اَپ کیسے کریں؟ ۔ کرسی پر سیدھے بیٹھ جائیں۔ ۔ دونوں پاؤں فرش پر رکھیں اور پنجے سیدھے سامنے کی طرف ہوں۔ ۔ جسم اور ٹانگوں کے پٹھوں کو ڈھیلا چھوڑ دیں۔ ۔ پنجوں کو زمین پر جمائے رکھتے ہوئے ایڑیاں جتنا ممکن ہو اوپر اٹھائیں۔ ۔ پھر پاؤں کو ڈھیلا چھوڑ دیں تاکہ ایڑیاں خود بخود واپس زمین پر آ جائیں۔ ۔ یہی عمل بار بار دہرائیں۔ تحقیق سے پتہ چلا ہے کہ پیدل چلنے سے زندگی میں کئی برس کا اضافہ ہو جاتا ہے (اینواتو) تحقیق کیا کہتی ہے؟ 2022 میں امریکی ریاست ٹیکساس کی یونیورسٹی آف ہیوسٹن کے محققین نے اسے ایک ایسی انقلابی دریافت قرار دیا جو بیٹھے رہنے والے طرزِ زندگی کے بارے میں ہماری سوچ بدل سکتی ہے۔ مزید پڑھ اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field) تحقیق کے دوران شرکا کو شکر سے بھرپور مشروب پلایا گیا، جس کے بعد انہوں نے سولیئس پش اَپ کیے۔ نتائج سے معلوم ہوا کہ ان کے جسم کی خون میں شکر کو قابو میں رکھنے کی صلاحیت نمایاں طور پر بہتر ہوئی اور اگلے چند گھنٹوں میں انسولین کی ضرورت بھی کم ہو گئی۔ اس ورزش نے کئی گھنٹوں تک آکسیڈیٹو میٹابولزم کو فعال رکھا، کھانوں کے درمیان چربی جلانے کی شرح تقریباً دوگنی کر دی اور خون میں موجود مخصوص چکنائی (VLDL Triglycerides) کی مقدار کو بھی کم کیا۔ سولیئس پٹھا توانائی کے لیے زیادہ تر خون میں موجود گلوکوز اور چکنائی استعمال کرتا ہے، جبکہ دوسرے عضلات نسبتاً زیادہ گلائیکوجن استعمال کرتے ہیں، اسی لیے اسے بار بار متحرک کرنے کے باوجود تھکن کم محسوس ہوتی ہے۔ سادہ الفاظ میں، اگر آپ دن میں مختلف اوقات، خصوصاً کھانے کے بعد، چند سولیئس پش اَپ کر لیں تو اس سے وزن کے انتظام، خون میں شکر کے توازن اور ذیابیطس سے بچاؤ میں مدد مل سکتی ہے۔ کیا سولیئس واقعی جسم کا ’دوسرا دل‘ ہے؟ سولیئس پش اَپ اس پٹھے کو چلنے پھرنے سے مختلف انداز میں متحرک کرتا ہے۔ تحقیق کے سربراہ ڈاکٹر مارک ہیملٹن کے مطابق چلتے وقت جسم توانائی کی بچت کرتا ہے، جبکہ سولیئس پش اَپ اس پٹھا سے زیادہ سے زیادہ توانائی استعمال کرواتا ہے۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ چلنے کے دوران سولیئس غیر فعال رہتا ہے۔ درحقیقت پیدل چلنے کے بے شمار فوائد ہیں۔ ڈاکٹر کورٹنی کونلی کے مطابق: ’چلنا جسم کے تقریباً ہر نظام کو متحرک کرتا ہے۔ مثال کے طور پر یہ میٹابولک نظام کو بہتر بناتا ہے، خون میں گلوکوز کی سطح کو متوازن رکھتا ہے اور انسولین حساسیت میں اضافہ کرتا ہے۔ اسی لیے کھانے کے فوراً بعد چہل قدمی کرنا بہترین عادتوں میں سے ایک ہے۔‘ تیز چلنے کے دوران سولیئس عضلہ دورانِ خون اور لمفی نظام دونوں کو مؤثر انداز میں پمپ کرتا ہے، جس سے جسمانی بافتوں، اعصابی نظام اور دماغی صحت کو فائدہ پہنچتا ہے۔ لمفی نظام جسم کا دوسرا گردشی نظام ہے جو فاضل مادوں کو خارج کرنے کا کام کرتا ہے۔ چونکہ اس کے پاس دل جیسا کوئی پمپ نہیں ہوتا، اس لیے یہ عضلاتی حرکات پر انحصار کرتا ہے۔ اور اس عمل میں سولیئس ایک انتہائی مؤثر پمپ ثابت ہوتا ہے۔ طویل عمر کے لیے سولیئس کیوں اہم ہے؟ سولیئس کے فوائد صرف جسم کے اندرونی نظام تک محدود نہیں۔ مضبوط پنڈلیاں بیرونی طور پر بھی صحت کی علامت سمجھی جاتی ہیں۔ ڈاکٹر کونلی کے مطابق: ’بہت سی تحقیقات سے معلوم ہوا ہے کہ چلنے کی رفتار انسان کی چھٹی اہم حیاتیاتی علامت (Vital Sign) سمجھی جا سکتی ہے۔ اگر کوئی شخص آہستہ چلتا ہے تو یہ مستقبل میں ذہنی صحت کے مسائل کی پیش گوئی بھی کر سکتا ہے، بعض تحقیقات کے مطابق سات سال پہلے تک۔‘ نو مختلف مطالعات کے مشترکہ تجزیے ’Gait Speed and Survival in Older Adults‘ میں بھی یہ نتیجہ اخذ کیا گیا کہ چلنے کی رفتار مجموعی صحت اور جسمانی کارکردگی کی عکاسی کرتی ہے۔ سست رفتار سے چلنا توازن، پاؤں یا پنڈلی کے عضلات کی کمزوری کی علامت بھی ہو سکتا ہے۔ تیزی سے چلنے کے لیے پاؤں اور ٹخنے میں زیادہ طاقت پیدا کرنا ضروری ہے اور اس طاقت کا بڑا حصہ سولیئس پٹھا فراہم کرتا ہے۔ عمر بڑھنے کے ساتھ طاقت کیوں ضروری ہے؟ ڈاکٹر کونلی کے مطابق عمر بڑھنے کے ساتھ انسان طاقت (Power) کو قوت (Strength) سے زیادہ تیزی سے کھوتا ہے۔ ’طاقت صرف کھلاڑیوں کے لیے ضروری نہیں۔ کرسی سے اٹھنا، اچانک خطرے کی صورت میں فوری ردعمل دینا یا سڑک عبور کرتے وقت تیزی سے حرکت کرنا بھی طاقت کا تقاضا کرتا ہے۔‘ اس طاقت کو جمپنگ، اچھلنے، ایک طرف سے دوسری طرف حرکت کرنے اور دیگر دھماکہ خیز ورزشوں سے بہتر بنایا جا سکتا ہے، لیکن باقاعدہ چہل قدمی بھی سولیئس عضلے کو مضبوط رکھنے میں مدد دیتی ہے۔ اس علم کو اپنی صحت کے لیے کیسے استعمال کریں؟ بطور فٹنس صحافی اور کوچ، میں ہر اس دعوے پر احتیاط سے غور کرتا ہوں جو حد سے زیادہ اچھا معلوم ہو۔ سوشل میڈیا اور تجارتی مفادات کے باعث ورزش کے میدان میں غلط دعوے عام ہیں۔ اسی لیے کسی ایک ورزش کو مکمل علاج یا معجزاتی حل سمجھنا درست نہیں ہوگا۔ خود یونیورسٹی آف ہیوسٹن کے محققین نے بھی واضح کیا ہے کہ سولیئس پش اَپ کوئی جادوئی فٹنس نسخہ نہیں بلکہ ایک مخصوص تکنیک ہے جسے تجربہ گاہ کے ماحول میں خاص شرائط کے تحت آزمایا گیا۔ تاہم اس ورزش کا بنیادی تصور نہایت سادہ اور قابلِ عمل ہے۔ آپ دفتر میں، ٹرین میں سفر کے دوران یا کھانے کے بعد کرسی پر بیٹھے بیٹھے بھی اسے انجام دے سکتے ہیں۔ آپ کو صرف اپنی ایڑیاں اوپر اٹھانی ہیں۔ میں نے گذشتہ چند ہفتوں کے دوران روزانہ مختلف اوقات میں 30 سے 60 بار یہ ورزش کی، خصوصاً کھانے کے بعد اور دفتر میں طویل وقت بیٹھنے کے دوران۔ اگرچہ یہ ایک ذاتی مشاہدہ ہے اور اس میں نفسیاتی اثرات کا امکان بھی موجود ہے، لیکن مجھے محسوس ہوا کہ کھانے کے بعد میری توانائی پہلے کے مقابلے میں زیادہ مستحکم رہتی ہے۔ اسی لیے میں آپ کو بھی یہ تجربہ آزمانے کی دعوت دیتا ہوں۔ اگر فائدہ نہ ہوا تو آپ نے بہت کم وقت صرف کیا ہوگا اور اگر فائدہ ہوا تو کم محنت سے بہتر صحت کے کئی فوائد حاصل ہو سکتے ہیں۔ سولیئس پش اَپ پیدل چلنے یا باقاعدہ ورزش کا متبادل نہیں ہیں، لیکن یہ ایک ایسی سادہ عادت ضرور ہو سکتی ہے جسے آزمانا فائدہ مند ثابت ہو۔ صحت دل تحقیق ورزش ایک چھوٹا سا پٹھا، جسے اکثر نظرانداز کر دیا جاتا ہے، مستقبل کی صحت کے لیے غیرمعمولی اہمیت رکھ سکتا ہے اور اسے مضبوط بنانے کی ورزش حیرت انگیز طور پر آسان ہے۔ ہیری بل مور ہفتہ, جون 27, 2026 – 08: 30 Main image:
یہ ورزش دفتر کی کرسی پر سیدھے بیٹھ کر بھی کی جاسکتی ہے (اینواتو)
صحت type: news related nodes: روزانہ دس ہزار قدم یا صرف 500، سائنس صحت مند رہنے کے لیے کیا بتاتی ہے؟ ’لوگ پہلے اپنی روٹی خریدیں گے یا ہمارے آم؟‘ سینے کی ہڈی کاٹے بغیر بچوں کے دل کا آپریشن: ’جلد صحت یابی بڑا فائدہ‘ ہلکی پھلکی گپ شپ انسانی صحت کے لیے فائدہ مند: تحقیق SEO Title: کیا سولیئس پٹھا واقعی جسم کا ’دوسرا دل‘ ہے؟ copyright: IndependentEnglish origin url: https: //www. independent. co. uk/health-and-fitness/muscle-soleus-strength-exercise-longevity-b2998979. html Translator name: ہارون رشید show related homepage: Hide from Homepage



