لڑائی جھگڑوں سے کچھ نہیں بنتا۔ اس لئے ہم نہ کسی جنگ کے حق میں ہیں اور نہ ہی کسی محاذ آرائی کے خواہاں، جنگوں سے تو قومیں تباہ ہوتی ہیں۔ ہمارا ماننا ہے کہ جیواورجینے دوپرزندگی گزارنی چاہئیے لیکن ہاں اگر مودی کاکوئی بھائی ماتھے پربارہ بجا کر ہمارے اس ملک اورقوم کے بارے میں کسی خوش فہمی یاغلط فہمی میں مدہوش رہے تواسے پھردس مئی جیسا بھولاسبق یادکرکے ہوش میں لاناضروری نہیں بلکہ فرض اور لازم ہو جاتا ہے۔ افغانیوں کے لئے ہمارا رویہ ہمیشہ نرم اوردل کھلارہالیکن لگتاہے ہماری اس شفقت اورمحبت کا ان پرالٹااثرہواہے جس کی وجہ سے افغانی مودی جی کارنگ پکڑنے لگے ہیں۔ ویسے افغانی مودی کارنگ پکڑیں یانیتن یاہوکاہمیں اس سے کوئی لینادینانہیں مگرایک بات ان کے لئے ضرورہے کہ افغانی اپنے حال پر اگر رحم نہیں کھاتے توکم ازکم ہمارے حال پرتوکچھ رحم کر لیں۔ ہم انہی بہادروں کی وجہ سے گزشتہ چار دہائیوں سے جنگ، بدامنی، دہشتگردی اور عدم استحکام کے اثرات برداشت کرتے چلے آ رہے ہیں۔ پاکستان سوویت یلغار سے لے کر دہشتگردی کے خلاف عالمی جنگ اور پھر افغانستان میں بدلتی ہوئی سیاسی صورتحال تک ہر مشکل مرحلے میں افغان عوام کے ساتھ رہا۔ نیٹووارکے دوران بھی پاکستان نے افغان عوام کے لئے اپنے دروازے کھلے رکھے۔ لاکھوں افغان مہاجرین کوچالیس پچاس سال تک پناہ دینا، انہیں تعلیم، علاج اور روزگار کی سہولتیں فراہم کرنایہ کوئی عام اورمعمولی بات نہیں۔ہجرت کے بعدپاکستان میں افغان مہاجرین کووہ آزادی ملی جوانہیں کبھی اپنے افغانستان میں بھی نہیں ملی تھی۔افغانی مانیں یانہ لیکن عالمی سطح پراب بھی یہ حقیقت تسلیم کی جاتی ہے کہ پاکستان طویل عرصے تک دنیا کے ان ممالک میں شامل رہا جنہوں نے سب سے زیادہ افغان مہاجرین کی میزبانی کی۔۔ اس کے ساتھ بین الاقوامی برادری کے ساتھ مل کر افغانستان میں امن کی کوششوں کا حصہ بننابھی پاکستان کی ان خدمات میں شامل ہے جسے کوئی انسان نظر انداز اور فراموش نہیں کر سکتا۔ آج بھی بعض دہشت گرد تنظیمیں افغان سرزمین کو استعمال کرتے ہوئے پاکستان میں حملے کر رہی ہیں۔ یہ عناصر سرحد پار محفوظ ٹھکانے، تربیت اور سہولتیں حاصل کرتے ہیں جس کے باعث پاکستان کے قبائلی اضلاع، خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں سکیورٹی کے مسائل پیدا ہو رہے ہیں۔پاکستان ہمیشہ اس م¶قف پر قائم رہا ہے کہ ایک پرامن، مستحکم اور خوشحال افغانستان دراصل پاکستان کے اپنے مفاد میں ہے۔یہی وجہ ہے کہ پاکستان نے مختلف ادوار میں نہ صرف افغان دھڑوں کے درمیان مذاکرات کی حمایت کی بلکہ اس سلسلے میں عالمی طاقتوں کے ساتھ بھرپورتعاون بھی کیا اور ہر اس سفارتی کوشش کا حصہ بنا جس کا مقصد افغانستان میں دیرپا امن قائم کرنا تھالیکن افسوسناک حقیقت یہ ہے کہ ان تمام قربانیوں اورکوششوں کے باوجودآج بھی پاکستان کو سرحد پار دہشت گردی کا سامنا ہے۔ اسلام کی تعلیمات امن، رواداری اور انسانی جان کے احترام پر زور دیتی ہیں۔ بے گناہ انسانوں کو خون میں نہلانے اوربارودمیں اڑانے والے بدبختوں کواسلامی نمائندہ کہناتودورایسوں کوانسان کہنابھی انسانیت کی توہین ہے۔ بعض بیرونی طاقتیں خصوصاً بھارت خطے میں اپنے ناپاک عزائم کی تکمیل اورمفادات کے لئے ایسے شیطانوں کو پاکستان کےخلاف استعمال کر رہے ہیں۔ خیبرپختونخوا اور بلوچستان میں آئے روز آگ اور بارود کا جو کھیل کھیلاجارہاہے وہ کسی سے ڈھکا چھپا نہیں۔ بھارت کی تو شروع سے یہ کوشش ہے کہ پاکستان بدامنی اور دہشتگردی کی وجہ سے کسی طرح کمزور ہو۔ دس مئی کے منہ توڑ سرپرائزکے بعدتوپاکستان کے بارے میں بھارت کے مودیوں اورموذیوں کے عزائم اورخیالات اور بھی خطرناک ہوگئے ہیں۔اس لئے اسے افغانستان سمیت دنیاکے جس کونے میں بھی پاکستان مخالف کرائے کے ٹٹوملیں گے وہ انہیں پاکستان کے خلاف استعمال کرنے سے ہرگزدریغ نہیں کریں گے۔ پاکستان نے بارہا واضح کیا ہے کہ یہ افغانستان سے محاذ آرائی نہیں بلکہ تعاون چاہتا ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان مذہبی، ثقافتی اور تاریخی رشتے اتنے مضبوط ہیں کہ انہیں وقتی سیاسی اختلافات کی نذر نہیں ہونا چاہیے۔ دونوں طرف بسنے والے عوام امن، ترقی اور خوشحالی کے خواہاں ہیں نہ کہ نفرت جنگ اور خونریزی کے پرکابل میں بیٹھے حکمرانوں کویہ حقیقت کون سمجھائے۔انہیں نہ تواپنے ملک کی کوئی فکرہے اور نہ ہی پڑوسیوں کے حقوق کاکچھ خیال اور لحاظ۔ پاکستان کی منت سماجت کے باوجودسرحدپارسے خوارج کاپاکستان کی طرف اخراج بند نہیں ہو رہا۔ امن کے یہ دشمن اب بھی جب اورجہاں چاہیں امن کوآگ لگارہے ہیں۔وقت کا تقاضا ہے کہ افغان عبوری حکومت اپنی سرزمین کو ہر قسم کی دہشت گرد سرگرمیوں سے پاک بنانے کے لئے عملی اقدامات کرے اور یہ یقین دہانی کرائے کہ افغانستان کسی بھی ملک خصوصاًپاکستان کے خلاف استعمال نہیں ہوگا۔ افغانیوں کوایک بات جان لینی چاہئیے کہ افغانستان کاامن،ترقی اورخوشحالی پاکستان سے جڑی ہوئی ہے،ان کی وجہ سے اگرہمیں سکون نہیں ملے گاتوپھرسکون سے یہ بھی نہیں رہیں گے۔
پاکستان میں بدامنی….سکون سے تم بھی نہیں رہوگے
RELATED ARTICLES



