89.1 F
Pakistan
Monday, July 6, 2026
HomeBreaking Newsامریکہ کا یوم آزادی : پاکستان کیلئے سبق !

امریکہ کا یوم آزادی : پاکستان کیلئے سبق !

4 جولائی امریکہ کا یوم آزادی ہے۔ اڑھائی سو سال پہلے یعنی 1776 میں تیرہ امریکی نو آبادیات نے برطانوی سلطنت سے آزادی کا اعلان کیا تھا۔ اعلان کرتے وقت امریکی راہنماوں نے ایک تاریخی دستاویز (ڈیکلیریشن آف انڈیپنڈنس) منظور کی تھی۔اس دستاویز کا بنیادی پیغام ،جو اس زمانے کے حساب سے نہایت انقلابی تھا، آنے ولے برسوں میںپاکستان سمیت بہت سے آئینی اور جمہوری نظاموں پر اثر انداز ہوا۔مثال کے طور پر یہ کہ تمام انسان برابر ہیں، انہیں اپنی آزادی اور خوشی کے مطابق زندگی گزارنے کا حق حاصل ہے۔ حکومت کی طاقت کا اصل سرچشمہ عوام ہیں۔ وغیرہ وغیرہ۔ ان اصولوں نے بعد ازاں شہری حقوق ، غلامی کے خاتمے، مساوات کی تحریکوں یا جدوجہد کو فکری بنیادیں فراہم کیں۔ ان اڑھائی سو سالوں میں امریکہ کو داخلی اختلافات درپیش رہے۔ اسے معاشی مشکلات اور سیاسی بحرانوں کا بھی سامنا کرنا پڑا ۔ اس کی تاریخ جنگوں سے اٹی پڑی ہے۔ تاہم اس ساری صورتحال میں اس نے شخصیات کے بجائے اداروں کو فوقیت دی۔ آئین کی تشکیل ہو یا اختیارات کی تقسیم، عدلیہ کی آزادی ہو ، انتخابات یا امریکی سرزمین پر بسنے والوں کے حقوق ، ان تمام عوامل پر عمل درآمد کا نتیجہ ریاستی نظام کی بتدریج مضبوطی کی شکل میں سامنے آیا۔ آپ امریکہ کو پسند کریں یا ناپسند، اس کے عالمی کردار اور پالیسیوں سے اتفاق کریں یا اختلاف ، اس حقیقت کو تسلیم کرنا پڑتا ہے کہ آج اڑھائی سو سال گزرنے کے بعد، امریکہ کا شمار دنیا کی بڑی معاشی طاقتوں میں ہوتا ہے۔ تعلیم و تحقیق ہو، سائنس و ٹیکنالوجی، کاروباری جدت، نوجوانوں کیلئے مواقع کی فراہمی یا دیگر میدان ۔ امریکہ نے نہایت کامیابی سے اپنی طاقت کے جھنڈے گاڑے ہیں۔ یہ تمام کامیابیاں کسی ایک شخص، حکومت، سیاسی جماعت، یا نسل کی مرہون منت نہیں ہیں۔ ان کے پیچھے مضبوط ادارے، آئین و قانون کی بالادستی، تعلیم و تحقیق پر سرمایہ کاری، ٹھوس منصوبہ بندی اور اپنی غلطیوں سے سیکھنے کا عمل دکھائی دے گا۔ امریکی آئین دنیا کے قدیم ترین تحریری آئینوں میں شمار ہوتا ہے۔ یہ آج بھی نافذ العمل ہے اور امریکہ کی اصل طاقت ہے ۔ آئین کی تشکیل کے بعد امریکہ نے ایک وفاقی نظام کی بنیاد رکھی۔ مقننہ، عدلیہ اور انتظامیہ کے اختیارات وضع کئے۔اختیارات کو مختلف اداروں میں تقسیم کیا تاکہ کوئی ایک ادارہ مکمل طاقت کا حامل نہ بن سکے۔ اس طرح اس نے اپنے سیاسی استحکام کو یقینی بنایا۔ آنے والے برسوں میں شدید داخلی سیاسی اختلافات، شدید معاشی بحران ، عالمی جنگیں ، نسلی کشیدگی اور خانہ جنگی جیسے بحران بھی آئینی نظام کو متاثر نہیں کر سکے۔ آج امریکہ کا ادارہ جاتی تسلسل دنیا کے بہت سے ممالک کے لئے قابل غور اور قابل تقلید ہے۔ امریکی صدر کو دنیا کی طاقتور ترین شخصیت سمجھا جاتا ہے۔ یہاں مختلف صدور آتے جاتے رہے۔ سیاسی جماعتیں اقتدار سنبھالتی رہیں، پالیسیاں بھی بدلتی رہیں،تاہم ریاستی ادارے اپنا کام بغیر کسی رکاوٹ کے کرتے ہیں۔ اکثر کہا جاتا ہے کہ امریکہ کی ترقی اس کے قدرتی وسائل کی مرہون منت ہے۔ سوال اٹھتا ہے کہ فقط قدرتی وسائل ہی ترقی کے ضامن ہوتے تو دنیا کے بہت سے ممالک قدرتی وسائل کی دولت سے مالا مال ہیں ، لیکن وہ امریکہ سے اس قدر پیچھے کیوں ہیں؟ ایسا نہیں ہے کہ امریکہ کو مسائل درپیش نہیں ہیں۔ یا تمام امریکی شہری ہنسی خوشی اپنی زندگی بسر کرتے ہیں۔یا وہاں مہنگائی اور بیروزگاری نہیں ہے۔نسلی تقسیم یا دنگا فساد نہیں ہوتا۔ یہ سب مسائل وہاں موجود ہیں۔ مگر امریکی شہریوں کے پاس مسائل کے حل کیلئے فعال عدالتیں ہیں۔آئین و قانون کی طاقت ہے۔انصاف پسند ادارے ہیں۔ کھلی بحث کے فارم اور شراکت کے مواقع ہیں۔ امریکی سماج میں مختلف مذاہب، رنگ و نسل، عقائد ، ثقافتو ں اور سیاسی نظریات کے لوگ بستے ہیں۔ تاہم اس اختلاف اور اختلاط کو جمہوری عمل کا حصہ سمجھا جاتا ہے۔ یہی امریکی معاشرے کا حسن ہے۔ شعبہ اعلیٰ تعلیم سے منسلک ہونے کی وجہ سے میری دلچسپی کا محور امریکی شعبہ تعلیم ہے۔ امریکی نظام تعلیم دنیا کا بہترین نظام ہے۔ دنیا کی بہترین جامعات امریکہ میں موجود ہیں۔برس ہا برس سے یہ جامعات عالمی درجہ بندی میں نمایاں درجے پر موجود ہیں۔یہ تعلیمی ادارے محاورتا نہیں ، واقعتا طالب علموں کو نئی تحقیق، اختراع، سائنسی دریافتوں اور صنعتی ترقی کی راہ دکھانے کی بنیاد فراہم کرتے ہیں۔ یہ جامعات حکومت کیساتھ ساتھ صنعت کو بھی صحیح معنوں میںعلمی اور تحقیقی معاونت فراہم کرتی ہیں۔ امریکہ ہر سال تحقیق کے شعبے کیلئے بھاری بھرکم بجٹ مختص کرتا ہے۔ اس بجٹ کو اخراجات یا خرچہ نہیں بلکہ سرمایہ کاری کا درجہ حاصل ہوتا ہے۔ نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ ان اداروں میں ہونے والی تحقیق صرف جرائد اور رسالوں تک محدود نہیں رہتی، بلکہ مارکیٹ کو عملی معاونت فراہم کرتی ہے۔ برسوں سے امریکہ کو سائنس و ٹیکنالوجی، میڈیکل ، خلائی تحقیق، مصنوعی ذہانت اور دیگر شعبوں میں جو نمایاں مقام حاصل ہے ، اس کی وجہ اس کا تعلیمی نظام ہے۔امریکی نظام تعلیم کی کامیابی کا اندازہ اس امر سے لگائیے کہ دنیا بھر کے لاکھوں نوجوان امریکی جامعات میں تعلیم حاصل کر نے کے خواہاں رہتے ہیں۔امریکہ کو یہ کریڈٹ بھی دیں کہ یہ دنیا بھر سے آنے والے محنتی اور باصلاحیت نوجوانوں کو کھلے دل سے مواقع فراہم کرتا ہے۔ انہیں اپنی معیشت، جامعات ، صنعت اور سماج کا حصہ بننے کے مواقع فراہم کرتا ہے۔ آج بھی لاکھوں پاکستانی نژاد ڈاکٹر ، انجینئر، سائنس دان، آئی۔ ٹی ماہرین ، کاروباری شخصیات، وکلائ، اساتذہ، امریکہ میں اپنے فرائض سرانجام دیتے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ گزشتہ سات دہائیوں میں پاکستان اور امریکہ کے تعلقات میں اتار چڑھاو آتے رہے۔ گرم جوشی اور سرد مہری دیکھنے کو ملی۔ اس کے باوجود ہمارے علمی، تحقیقی اور معاشی تعلقات قائم رہے اور آگے بڑھے۔بطور استاد میرے لئے پاکستان امریکہ تعلقات کا سب سے مثبت پہلو یہ ہے کہ اس نے ہمارے ہزاروں طالب علموں کو وظائف بھی دئیے اور تعلیم حاصل کرنے کے مواقع فراہم کئے ہیں۔ ہم پاکستانیوں کیلئے امریکہ کا یوم آزادی اہم ہے۔ وجہ یہ ہے کہ امریکہ کیساتھ ہمارا دیرینہ تعلق ہے۔ یہاں ہر دوسرا نوجوان امریکہ جانا چاہتا ہے۔ تعلیم حاصل کرنے، نوکری یاکاروبار کرنے ،یا وہاں مستقل آباد ہونے کیلئے۔ امریکہ اور پاکستان کا جغرافیہ، اس کی تاریخ ، سماجی حالات ایک دوسرے سے بالکل مختلف ہیں اور دونوں ممالک کا تقابل قابل جواز نہیں ہے۔تاہم ہمارے لئے اس میں سبق پوشیدہ ہے۔ لازم ہے کہ پاکستان سیکھے کہ امریکی قوم نے کس طرح اداروں کو مضبوط بنایا۔ معیاری تعلیم اور تحقیق پر مسلسل سرمایہ کاری کی۔ آئین و قانون کی بالادستی اور مساوات کو یقینی بنایا۔ محنتی اور باصلاحیت نوجوان خواہ وہ اس کے اپنے شہری ہوں یا دوسرے ممالک سے آکر ہجرت کرنے والے ان کے لئے ترقی کے مواقع فراہم کئے۔امریکی تاریخ کے مطالعے سے پتہ چلتا ہے کہ قوموں کی تعمیر ایک جہد مسلسل کا نام ہے۔ آئین و قانون کی بالادستی کا نام ہے۔ شخصیات کے بجائے اداروں کو مضبوط بنانے کا نام ہے۔ کاش پاکستان بھی امریکہ سے یہ سبق سیکھے۔

Read full story on Nai Baat

RELATED ARTICLES

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

- Advertisment -
Google search engine

Most Popular

Recent Comments