دنیا بھر میں پاکستانی پاسپورٹ اجرا سروسز آج چار روزہ تعطل کے بعد بحال کر دی گئی ہیں۔ پاکستان پاسپورٹ آفس کا کہنا ہے کہ یہ تعطل ٹیکینیکل خرابی تھی جب کہ بیرون ملک پاکستانی سفارتی مشن میں کام کرنے والے اہلکار تنخواہوں میں تاخیر کو اصل مسئلہ بتا رہے ہیں۔ ڈی جی پاسپورٹس اینڈ امیگریشن محمد علی رندھاوا نے آج کہا ہے کہ ’فنی خرابی کا مسئلہ حل کر لیا گیا ہے۔‘ ان سروسز کی معطلی کے بارے میں سعودی عرب،عمان، قطر، یورپ اور متحدہ عرب امارات سمیت کئی ممالک نےسوشل میڈیا پر مطلع کیا تھا۔ سوشل مییڈیا پر شئیر کیے گئے بیانات میں لکھا گیا تھا کہ پاکستان کے تمام بیرون ملک مشنز میں پاسپورٹ آپریشنز اگلے نوٹس تک بند رہیں گے۔ اس فیصلے کے بعد مختلف ممالک میں موجود پاکستانی سفارت خانوں نے اوورسیز پاکستانیوں کو اس صورتحال سے آگاہ کرنا شروع کر دیا تھا۔ بتائے گئے تکنیکی مسائل کے حوالے سے انڈپینڈنٹ اردو نے اسلام آباد پاسپورٹ آفس میں موجود افسر سید عدیل سے سوال کیا کہ ’اگر صرف ہیڈکوارٹر میں مسئلہ تھا تو تمام مشنز نے ایک ساتھ سروسز کیوں معطل کرنے کا اعلان کیا؟‘ اس پر ان کا کہنا تھا کہ ’کچھ تکنیکی مسائل ہیں اور تمام مشنز ایک ہی نیٹ ورک سے جڑے ہیں اور مرکزی سرور ایک ہی ہے۔ ‘اس وجہ سے تمام مشنز نے سروسز اکٹھی معطل کیں۔ دوسری جانب ایک اہم مغربی ملک میں ایک سفارتی مشن میں کام کرنے والے اہلکار (جن کا پیغام انڈپینڈنٹ اردو کے پاس محفوظ ہے) نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ ’پاسپورٹ عملے کی تنخواہوں میں تاخیر اصل مسئلہ ہے۔‘ ان کا کہنا ہے کہ ’کئی مشنز میں پاسپورٹ عملے کو تین ماہ سے تنخواہ نہیں ملی، جس کے باعث آپریشنز متاثر ہوئے ہیں۔‘ مزید پڑھ اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field) پاکستان کے ایک اور غیر ملکی مشن میں تعینات ایک اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا: ’تنخواہوں کے مسئلے پر آپریشن معطل کیا گیا۔ ڈی جی آئی پی کے ملازمین کو تنخواہوں میں تاخیر کا سامنا ہے، اور بطور احتجاج آپریشن بند کر دیا گیا ہے۔‘ تاہم جب انڈپینڈنٹ اردو نے وزارت خارجہ کے ترجمان سے یہ سوالات پوچھے کہ پاسپورٹ سروسز کی معطلی کی اصل فنی وجوہات کیا ہیں؟ کیا بیرون ملک پاکستانی مشنز میں پاسپورٹ عملے کی تنخواہوں میں تاخیر کی اطلاعات درست ہیں؟ اور اگر تنخواہوں میں تاخیر وجہ نہیں تو کیا وزارت اس کی واضح طور پر تردید کرتی ہے؟ تو وزارت خارجہ کی جانب سے انڈپینڈنٹ اردو کو اس خبر کی اشاعت تک جواب نہیں دیا گیا۔ سفارتی مشن میں اہلکار کا مزید کہنا تھا کہ ’مسائل مجموعی طور پر موجود ہیں۔ تمام مشنز میں تنخواہوں کے مسائل چل رہے ہیں اور کم از کم تین ماہ کی واجبات بقایا ہیں۔ بعض اوقات تنخواہیں بروقت مل جاتی ہیں لیکن اکثر تاخیر کا شکار رہتی ہیں۔ آمدن کے حوالے سے بھی کئی مشکلات ہیں۔ ادارے کافی آمدن حاصل کر رہے ہیں مگر اسے مؤثر طریقے سے استعمال نہیں کر پا رہے۔‘ اہلکار نے مزید کہا کہ ’پاسپورٹس کی طلب پاکستان کے اندر اور بیرونِ ملک دونوں جگہوں پر بہت بڑھ گئی ہے، جس کے باعث ان کی پیداوار میں بھی نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ اگر گزشتہ برسوں کے اعدادوشمار کا تقابلی جائزہ لیا جائے تو رجحان واضح ہو جاتا ہے۔ مجموعی طور پر خدمات میں بہتری آئی ہے، ماضی میں ایک ماہ میں بھی پاسپورٹ حاصل کرنا ممکن نہیں ہوتا تھا، تاہم دیگر مسائل اب بھی موجود ہیں۔‘ ان کے بقول ’کچھ تکنیکی مسائل ضرور ہوتے ہیں، لیکن اس کے ساتھ ساتھ تنخواہوں کی ادائیگی سے متعلق مسائل بھی بیک وقت چل رہے ہیں۔‘ پاکستان پاسپورٹ وزارت خارجہ پاکستان پاسپورٹ آفس کا کہنا ہے کہ یہ تعطل ٹیکینیکل خرابی تھی جب کہ بیرون ملک پاکستانی سفارتی مشن میں کام کرنے والے اہلکار تنخواہوں میں تاخیر کو اصل مسئلہ بتا رہے ہیں۔ رمنا سعید منگل, مئی 5, 2026 – 18: 15 Main image:
10 جنوری 2025 کو اسلام آباد بین الاقوامی ہوائی اڈے پر پیرس جانے والی پاکستان انٹرنیشنل ایئر لائنز پرواز کے مسافر امیگریشن کاؤنٹر پر انتظار کر رہے ہیں (فاروق نعیم / اے ایف پی)
پاکستان type: news related nodes: کراچی ایئر پورٹ پر مسافر کا پاسپورٹ پھاڑنے کا معاملہ کیا ہے؟ پاسپورٹ بلاک ہے، اس کے بغیر بھی افغانستان جا سکتا ہوں: گنڈاپور پاسپورٹ پر ’اسرائیل کے لیے ناقابل استعمال‘ کی شق برقرار: پاکستان پاکستان، بنگلہ دیش کا سرکاری پاسپورٹس کے لیے ویزا فری انٹری کا فیصلہ SEO Title: پاکستانی پاسپورٹ اجرا سروسز بحال، مسئلہ ’فنی خرابی‘ یا ’عملے کی تنخواہوں میں تاخیر؟‘ copyright: show related homepage: Hide from Homepage



