75.3 F
Pakistan
Wednesday, May 6, 2026
HomeBreaking Newsخود کشی حرام ہے

خود کشی حرام ہے

اس ہفتے خانیوال سے ایک برقیاتی خط ملا۔ خط میں ایک جان لیوا سوال موصول ہوا۔ سوال یوں ہے: خودکشی حرام ہے، لیکن خودکشی کے ذریعے ہلاک ہونے والے کی زندگی اتنی مشکل کیوں ہے؟ یہ زندگی جینا خودکشی کی تکلیف اور پھر بعد کے عذاب سے بھی کٹھن کیوں ہو جاتا ہے؟ اللہ تعالیٰ کو تو معلوم ہے کہ یہ بندہ ٹھیک ہے لیکن اس کے ارد گرد اسے لوگ جینے کیوں نہیں دیتے؟۔اس سوال کا جواب دینے سے پہلے چند بنیادی نکات سمجھنا ضروری ہیں۔ زندگی میں اگر ہمیں کوئی راحت میسر نہ آئے تو بھی یہ زندگی ایک نعمت ہے۔ زندگی بجائے خود ایک نعمت ہے۔ زندگی ایک ایسی نعمت ہے جو ہمیں ہمارے استحقاق سے کہیں بڑھ کر ملی ہے۔ آخر ہمیں کیا حق حاصل تھا کہ ہمیں زندگی دی جاتی۔ بعض لوگ یہ اعتراض کرتے ہیں کہ یہ زندگی ہمیں پوچھ کر کیوں نہیں دی گئی. .. . اگر زندگی ایک امتحان ہے تو اس امتحان گاہ میں ہمیں داخل کرنے سے پہلے ہم سے پوچھا کیوں نہیں گیا؟ یہ سوال داغنے سے پہلے یہ سوال بنتا ہے کہ آیا یہ سوال کرنے والا اِس زندگی کو کسی خالق ذات کی تخلیق مانتا ہے؟ اگر وہ زندگی کو ایک بے تدبیر حادثہ تصور کرتا ہے تو بارِ سوال کسی پر نہیں۔ بس ایک حادثہ تھا، جس نے کسی کی زندگی کو خوشگوار کر دیا ، کسی کی زندگی ناخوشگوار حالات کا شکار ہو گئی۔ اس ”حادثے“ کا جب کوئی ذمہ دار ہی نہیں تو ہم آخر کسے جواب دہ کریں۔ ایک ملحد کی طرف سے کیا گیا یہ سوال اس طرح اپنی موت آپ ہی مر جاتا ہے۔ البتہ ماننے والوں کے ساتھ اس مسئلے پر گفتگو ہو سکتی ہے۔ ان کے ساتھ سوال و جواب کسی مکالمے کی شکل اختیار کر سکتے ہیں. .. . کوئی نکتہ وا ہو سکتا ہے. .. . ماننے کے بعد سمجھنے کی جستجو کرنے والے کا کوئی فکری اشکال PARADOX حل ہو سکتا ہے۔جاننا چاہیے کہ خالق اور مخلوق کے شعور میں اتنا ہی فرق ہوتا جتنا خود خالق اور مخلوق میں ہے۔ جو شخص خدائے واحد کو اس زندگی کا خالق و مالک مانتا ہے، وہ اسے علیم اور حکیم بھی مانتا ہے۔ وہ ماتنا ہے کہ یہ کائنات اپنے خالق کی بے پناہ علم و حکمت کا شاہکار ہے۔ یہاں کچھ بھی عبث نہیں۔ اس کائنات کا ذرہ ذرہ ایک زبردست حکمت کی ڈوری سے ایک دوسرے سے بندھا ہوا ہے۔ ہر چیز ہی ہر چیز سے متعلق ہے۔ دور کسی کہکشاں میں جھلملانے والا ستارہ کسی نہ کسی طرح ہمارے سورج پر اثر انداز ہو رہا ہے. .. . سورج ہماری زمین پر. .. . اور زمین اور اس کے لیل و نہار اہلِ زمین پر۔ اس ہست و بود کے ٹھہرے ہوئے مہیب پانی میں ایک کنکر بھی گر جائے تو اِس سے پیدا ہونے والی لہریں ایک کنارے سے دوسرے کنارے تک اس وجود پر اثر انداز ہوتی ہے۔ یہ کنکر کسی کی تلخ بات بھی ہو سکتی ہے. .. . کسی کے طعن تشنیع کا پتھر بھی۔ تلخ و شیریں، اچھا بُرا، کم زیادہ، بلند و پست. .. . یہ سب پیمانے ہمارے اپنے اختیار کردہ ہیں۔ ہم کسی کے لیے پھول ہیں تو کسی کے لیے کانٹا ہے، کوئی ہمارے لیے دوست ہے تو کوئی دشمن. .. . یہ سب ہمارے اپنے مزاج اور مفاد کے اعتبار سے قائم کیے ہوئے پیمانے ہیں۔ مرشدی حضرت واصف علی واصفؒ کا شعر ہے: وہ بھی ہو گا کسی کا نورِ نظرجو کھٹکتا ہے خار آنکھوں میںیہ سوال کہ زندگی کی امتحان گاہ میں بھیجنے سے پہلے ہم سے پوچھا نہیں کیوں گیا؟ خالق اور مخلوق کے شعور میں بے پناہ فرق ہے۔ باپ مجازی خالق ہوتا ہے. .. . باپ اپنے بچے سے پوچھ کر اسے سکول میں داخل نہیں کراتا۔ بچے کو یہ معلوم ہی نہیں کہ کون سا سکول اس کے لیے بہتر ہے، بچہ اس کا شعور ہی نہیں رکھتا کہ اس نے کب سکول جانا ہے۔ بچہ جب باپ کی فراست پر یقین کرتا ہے تو اپنے باپ کا شکر گزار ہوتا ہے۔ وہ اس کے متعین کردہ راستہ پر چلتا ہوا تعلیم اور شعور کے زیور سے خود کو آراستہ بھی کرتا رہتا ہے. .. . یہاں تک کہ اُس پر ازخود یہ راز منکشف ہو جاتا ہے کہ اُس کا اِس امتحان گاہ میں داخل ہونا کیوں ضروری تھا۔ اُس پر یہ حکمت خود ہی کھل جاتی ہے کہ اِس مشقت گاہ میں قیام کرنا کس قدر ضروری تھا۔ اپنے خالق کی محبت پر یقین، اُس کی ذات پر اعتبار اور اُس کی حکمت پر اعتماد. .. . زندگی میں پیش آنے والی کٹھن مشکلات کو بآسانی جھیلنے کی ہمت عطا کر دیتے ہیں۔زندگی میں پیش آنے والی کوئی مشکل اتنی مشکل نہیں ہوتی کہ زندگی سے استعفیٰ دے دیا جائے۔ یہ تو ایسے ہی جیسے کوئی طالب علم مشکل سوالات دیکھ کر پرچہ پھاڑ کر کمرہِ امتحان سے واک آو¿ٹ کر جائے۔ اب اس شخص کی کامیابی کا کوئی سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ زندگی کے شب و روز کے جن اوراق اسے مشکل سوالوں کے گریس مارک ملنے تھے، وہ خود ہی پھاڑ کر پھینک آیا ہے۔ اگر سوال مشکل ہوں تو جواب میں ایک معذرت نامہ بھی داخل کر دیا جائے. .. . اپنی کم ہمتی، کم علمی اور کم عملی کا اعتراف کرتے ہوئے معافی کی درخواست دے دی جائے تو ممتحن مہربان ہو سکتا ہے۔ غیر حاضر طالب علم خود کو اپنے استاد کی کسی بھی ممکنہ شفقت و شفاعت سے محروم کر لیتا ہے۔ کیا خوب ہے غالب کا یہ شعر: اب تو گھبرا کے یہ کہتے ہیں کہ مر جائیں گےمر کے بھی چین نہ پایا تو کدھر جائیں گےجاننا چاہیے کہ ہم سب ایک دوسرے کے لیے امتحان ہیں۔ ہمارے مزاجوں میں عدم مطابقت، نظریات میں عدم موافقت ہمیں ایک دوسرے سے مخاصمت پر مجبور کر دیتی ہے۔ اگر زندگی میں مشکلات زیادہ ہیں تو زندگی کے بعد آسانیاں بھی زیادہ ہیں۔ قرآن میں ہے کہ ہر مشکل کے ساتھ آسانی ہے۔ کوئی زندگی اچھی ہوتی، نہ بُری. .. . یہ زندگی بسر کرنے والے پر منحصر ہے کہ وہ اپنی زندگی کو کیا عنوان دیتا ہے۔ پیغمبروں کی زندگی سب سے زیادہ کامیاب ہے، اور ان کی زندگی میں مصائب و مشکلات سب سے زیادہ ہیں۔ وفا و کربلا کے سبھی مسافر اس زندگی میں کٹھن مراحل میں سے گذرے ہیں۔ صبر کرنے والے ہی اللہ کی معیت میں بتلائے گئے ہیں۔ کس قدر حیرت انگیز معاملہ ہے کہ مسجد میں تلوار کی ضربت سے جان لیوا زخم کھانے والے کہہ رہے: ”رب کعبہ کی قسم! میں کامیاب ہو گیا“۔لوگوں کے رویوں سے دل برداشتہ نہ ہونا چاہیے۔ جاننا چاہیے کہ ہر شخص اپنے مزاج کے مطابق رویہ اختیار کرتا ہے۔ ہم کسی کا مزاج نہیں بدل سکتے۔ ہاں! اپنا مزاج. .. . چاہیں تو بدل لیں. .. . اس کا نام تزکیہِ ہے۔ اپنے نفس کو برداشت کی ریاضت میں ڈالنے والے مشکلات میں رہتے ہوئے اپنی زندگی کو آسان کر لیتے ہیں۔ ایک بدمزاج شخص کو کڑوے بادام کی طرح نگل لینا چاہیے۔ نگلنا، اُگلنے سے بہتر ہے۔ اگر اُگل دیا جائے تو ماحول خراب ہوتا ہے۔ درحقیقت ایک برداشت میں سب مسئلوں کا حل موجود ہے۔ لوگوں کو آپ کی زندگی سے کچھ غرض نہیں. .. . وہ صرف اپنی زندگی، اپنے مزاج کے مطابق گذار رہے ہوتے ہیں۔ یقین رکھیں کہ آپ کے ساتھ کسی کی دشمنی نہیں۔ لوگوں کے متعلق بدگمانی انہیں آپ کے ذہن میں آپ کا دشمن بنا دے گی۔ لوگوں کے بارے میں گمان اچھا رکھیں. .. . کتنی بار ہی کیوں نہ ٹوٹے، لوگوں سے اچھا گمان قائم رکھیں۔اللہ جانتا ہے کہ آپ ٹھیک ہیں، لیکن اللہ یہ بھی جانتا ہے کہ آپ کا مخالف بھی ٹھیک ہے۔ وہ سب کا رب ہے، وہ آپ کے دشمن کو بھی پالتا ہے۔ اگر آپ خیر کے راستے پر ہیں، تو یہ بھی مانیں کہ اہل شر کو بھی وہی قوتیں فراہم کرتا ہے۔ اگر آپ خیر ہیں تو پھر اہل شر کو خندہ پیشانی سے برداشت کرنے کا سلیقہ سکھیں۔ خیر باادب لوگوں کی قیام گاہ ہے۔ زندگی کا سارا بوجھ، زندگی کو خوشگوار رکھنے کی ذمہ داری اہلِ خیر پر ڈال دی گئی۔ شر عجلت پسند ہوتا ہے، کم ہمت اور کم ظرف پایا جاتا ہے. .. . وہ جھٹ سے اپنا بوجھ دوسروں پر ڈال کر خود کو ”ہلکا پھلکا“ کر لے گا۔ اُس کا میزانِ عمل بھی اس لیے ہلکا ہوتا ہے۔ اخلاق بوجھ اُٹھانے کا نام ہے. .. . دوسروں کی بداخلاقی برداشت کرنے کا نام۔ یہی اُٹھائے ہوئے بوجھ کل میزانِ عمل کو بھاری کریں گے۔ تعلقات و معاملات کی دنیا میں یہ مشکلات ہمیں تراشنے کے لیے آتی ہیں: سو بار جب عقیق کٹا، تب نگیں ہوا

Read full story on Nai Baat

RELATED ARTICLES

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

- Advertisment -
Google search engine

Most Popular

Recent Comments