گزشتہ کالم کے تسلسل میں آج سوال یہ ہے کہ اسلامی جمہوریہ پاکستان میں اصل حاکم کون ہے اور محکوم کون؟ کیا ریاستی ادارے شہریوں کی خدمت کے لیے قائم ہیں یا شہری اپنی ہی ریاست کے اہلکاروں کی آسائش، پروٹوکول اور غیر ضروری اخراجات کا بوجھ اٹھانے کے لیے ہیں؟ آئین کی روح کے مطابق اقتدار کا سرچشمہ عوام ہیں، لیکن عملی زندگی میں اکثر شہری اپنے ہی سرکاری ملازمین. .. ۔



