84.1 F
Pakistan
Monday, July 6, 2026
HomeHealthبلڈ پریشر، کولیسٹرول اور بلڈ شوگر لیول کی باقاعدگی سے نگرانی کریں:...

بلڈ پریشر، کولیسٹرول اور بلڈ شوگر لیول کی باقاعدگی سے نگرانی کریں: ماہرینِ امراضِ قلب

ماہرین< امراضِ قلب نے بلڈ پریشر، کولیسٹرول اور شوگر لیول کی باقاعدگی سے نگرانی کرنے کی اہمیت پر زور دیا ہے، جو دل کی بیماریوں کی بڑی وجوہات ہیں، کیونکہ جدید تکنیکوں کی مدد سے ان کا علاج کیا جا سکتا ہے۔ ماہرِ امراضِ قلب ڈاکٹر راجکمار سچدوانی کے مطابق، ہارٹ فیل ہونا پاکستان سمیت دنیا بھر میں موت کی واحد سب سے بڑی وجہ بن چکا ہے۔ لیکن اچھی خبر یہ ہے کہ علاج کے جدید طریقوں نے دل کے مریضوں کو طویل عمر تک، یعنی 70 سے 80 سال کی عمر تک جینے میں مدد فراہم کی ہے۔ انہیں صرف ایک کام کرنے کی ضرورت ہے۔ انہیں اپنے نمبر معلوم ہونے چاہئیں جن میں بلڈ پریشر، کولیسٹرول اور بلڈ شوگر لیول شامل ہیں۔ یہ تمم باتیں ڈاکٹر راجکمار سچدوانی نے پاکستان کارڈیک سوسائٹی کی چھبیسویں سالانہ کارڈیالوجی اپڈیٹ سے خطاب کے دوران کہیں۔ اس تقریب کا عنوان ’کارڈیالوجی میں ایجادات: ثبوت سے فضیلت‘ تک تھا۔ پاکستان کارڈیک سوسائٹی کی یہ تین روزہ کانفرنس رواں ماہ کے اوائل میں بھوربن میں منعقد ہوئی تھی، جسے آرمڈ فورسز انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیالوجی اور نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف ہارٹ ڈیزیزز نے مشترکہ طور پر ترتیب دیا تھا، اور اس میں متعدد سیشنز اور ورکشاپس شامل تھیں۔ ‘ایڈوانسڈ ہارٹ فیلر: مینجمنٹ اینڈ فیوچر ڈائریکشنز‘ کے موضوع پر بات کرتے ہوئے ڈاکٹر راجکمار سچدوانی نے وضاحت کی کہ نیویارک ہارٹ ایسوسی ایشن اب ہارٹ فیل ہونے والے مریضوں کو چار الگ الگ کلاسوں میں تقسیم کرتی ہے۔ ان کے مطابق، کلاس ون کے تحت، دل کے مریضوں میں بیماری کی کوئی علامات ظاہر نہیں ہوتیں۔ البتہ، ان کی فیملی ہسٹری میں شوگر، بلڈ پریشر اور ہارٹ فیل ہونا شامل ہوتا ہے۔ کلاس ٹو کے تحت بھی مریضوں میں علامات ظاہر نہیں ہوتیں۔ لیکن جب ان کے ٹیسٹ کیے جاتے ہیں تو ان کے دل کے کام کرنے کے انداز میں تبدیلیاں تشخیص ہوتی ہیں۔ وہ غیر کنٹرول شدہ شوگر یا بلڈ پریشر کے ساتھ زندگی گزار رہے ہوتے ہیں۔ کلاس تھری میں، دل کے مریضوں میں علامات ظاہر ہوتی ہیں، جن میں سانس پھولنا شامل ہے۔ جب چیک کیا جائے تو ان کا دل ٹھیک طرح کام نہیں کر رہا ہوتا۔ وہ آرام کی حالت میں تو ٹھیک رہتے ہیں، لیکن عام سے کم جسمانی سرگرمیوں میں بھی انہیں مشکل کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ اور کلاس فور میں، مریضوں کو سانس پھولنے کی شدید ترین صورتحال کا سامنا ہوتا ہے۔ ڈاکٹر سچدوانی نے کہا کہ ہارٹ فیل ہونے کی علامات آرام کے وقت بھی موجود ہوتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ان دنوں، ماہرینِ امراضِ قلب کلاس ون کے مریضوں پر توجہ مرکوز کر رہے ہیں، اور انہیں اپنی خوراک، وزن اور ورزش پر توجہ دینے کا مشورہ دے رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وزن اب صرف ایک خطرہ نہیں رہا، بلکہ یہ خود ایک بیماری بن چکا ہے۔ مارکیٹ میں وزن کو کنٹرول کرنے کے لیے جدید ترین ادویات موجود ہیں۔ انہوں نے اس بات کا اعادہ کیا کہ ہارٹ فیل ہونا بہت خطرناک ہے۔ یہ کینسر سے بھی زیادہ خطرناک ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ پرہیز علاج سے بہتر ہے۔ ایسے معمولات ہائی بلڈ پریشر کا باعث بنتے ہیں، جو کہ ایک خاموش قاتل ہے۔ یہ دل کی بیماریوں کے پیچھے واحد سب سے بڑی وجہ ہے، اور پاکستان میں آبادی کا ایک بڑا حصہ اس بات سے ناواقف ہے کہ وہ اس میں مبتلا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ لوگوں کو جنگک اور گہرے تلے ہوئے کھانے کے ساتھ ساتھ شکر والے مشروبات سے پرہیز کرنا چاہیے اور پیدل چلنے اور ورزش کے لیے وقت نکالنا چاہیے۔ ڈاکٹر راجکمار سچدوانی نے کہا کہ روزانہ تیس سے چالیس منٹ پیدل چلنے کی عام طور پر ہر ایک کو سفارش کی جاتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر کسی خاندان میں چالیس سال سے زائد عمر کے چار افراد ہوں تو ان میں سے ایک بلڈ پریشر کا مریض ہوگا، اور بلڈ پریشر کے تقریباً پچاس فیصد مریض اس بات سے ناواقف ہیں کہ وہ ایک خاموش قاتل کے ساتھ جی رہے ہیں۔ اس پچاس فیصد میں سے جو لوگ واقف ہیں، ان میں سے صرف آدھے ڈاکٹروں کے پاس جاتے ہیں، اور ان میں سے بھی صرف آدھے صحیح ادویات لیتے ہیں۔ ڈاکٹر سچدوانی نے چالیس سال سے زائد عمر کے لوگوں کو مشورہ دیا کہ وہ ڈاکٹر کی نگرانی میں خون پتلا کرنے والی دوا، یا تو اسکارڈ یا ڈسپرین کی 75 ملی گرام کی گولی لیں، کیونکہ ضرورت سے زیادہ خوراک کے نتیجے میں اندرونی خون بہنے اور انیمیا یعنی خون کی کمی ہو سکتی ہے۔ پی ٹی / آئی این آر نامی خون کا ٹیسٹ خون کے پتلے پن کی نگرانی کرنے میں مدد کر سکتا ہے۔ میمن میڈیکل انسٹی ٹیوٹ ہسپتال کی رپورٹ کے مطابق پاکستان میں سال 2016 میں تقریباً انیس فیصد اموات دل سے متعلقہ امراض کی وجہ سے ہوئیں، جو کہ اب بڑھ کر انتیس فیصد ہو چکی ہیں۔ پاکستان میں ہارٹ اٹیک کے تناسب پر ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن کے تازہ ترین ڈیٹا کے مطابق، سال 2020 میں پاکستان میں کورونری ہارٹ ڈیزیز سے دو لاکھ 40 ہزار 720 افراد لقمہ اجل بنے، جو کہ کل اموات کا 16. 49 فیصد بنتا ہے۔ پاکستان دنیا میں تیسرے نمبر پر ہے جہاں اموات کی شرح فی ایک لاکھ افراد میں 193. 56 ہے۔ عالمی ادارہ صحت کی رپورٹوں کے مطابق، ایک اندازے کے مطابق 38. 6 ملین پاکستانی بالغ افراد، جن کی عمریں 30 سے 79 سال کے درمیان ہیں، ہائی بلڈ پریشر کے ساتھ جی رہے ہیں۔ یہ بالغ آبادی کے 42 فیصد سے زیادہ کے برابر ہے، جو کہ 34 فیصد کی عالمی اوسط سے نمایاں طور پر زیادہ ہے۔ افسوسناک بات یہ ہے کہ ان افراد میں سے صرف بارہ فیصد کی حالت کنٹرول میں ہے۔ ایسوسی ایٹ پروفیسر آف کارڈیالوجی اور ڈائریکٹر کیتھ لیب ڈاکٹر اویس احمد نظامی نے کہا کہ معاشرے میں ایک مفروضہ پایا جاتا ہے کہ عمر کے ساتھ بلڈ پریشر بڑھتا ہے اور ساٹھ سال کی عمر کے آس پاس 140/90 کی ریڈنگ بالکل ٹھیک ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ غلط ہے۔ 120/80 سے اوپر کے بلڈ پریشر کا خیال رکھنے کی ضرورت ہے۔ اسے ورزش، غذا میں تبدیلی یا دوا کے ذریعے کنٹرول کیا جانا چاہیے۔ ورنہ، یہ کمزور ہوتی بینائی، گردے فیل ہونے اور دل کی بیماریوں کا باعث بنے گا۔ انہوں نے کہا کہ ڈیش ڈائیٹ بشمول پھل اور سبزیاں کھانا بلڈ پریشر کو دوا کے بغیر کنٹرول کرنے میں مدد دے سکتا ہے، اگر کوئی شخص ہائی بلڈ پریشر کے ابتدائی مراحل میں ہو۔ نمک کا استعمال بھی آہستہ آہستہ کم کرنا چاہیے۔ ڈاکٹر نظامی نے کہا کہ ڈاکٹر نئے تشخیصی مریضوں کا اڑتالیس گھنٹے تک جائزہ لینے کے لیے ایک ایمبولیٹری بلڈ پریشر مانیٹرنگ ڈیوائس کا استعمال کرتے ہیں اور یہ طے کرتے ہیں کہ آیا ان کے بلڈ پریشر کو طرزِ زندگی میں تبدیلیوں کے ذریعے اور دوا کی ضرورت کے بغیر کنٹرول کیا جا سکتا ہے یا نہیں۔ کانفرنس کو بتایا گیا کہ شریانوں اور کورونری رگوں میں کیلشیم کے جماؤ کا علاج جدید طبی آلات جیسے کہ انٹراواسکولر لیتھو ٹرپسی اور روٹیشنل ایتھریکٹومی کے ذریعے کیلسیفائیڈ کورونری زخموں کے لیے کیا جا سکتا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ مخصوص قسم کے کورونری زخموں کے علاج کے لیے ڈرگ ایلوٹنگ بیلونز بھی استعمال کیے جا رہے ہیں۔ اس تین روزہ کانفرنس میں اہم موضوعات کی ایک وسیع رینج پر تفصیلی بحث کی گئی، جس میں پریوینٹیو کارڈیالوجی، ہارٹ فیلر اور کارڈیک ڈیوائسز، انٹرونشنل کارڈیالوجی، ہائی بلڈ پریشر، اسٹرکچرل ہارٹ ڈیزیزز، کارڈیک امیجنگ، کارڈیک الیکٹرو فزیالوجی، پیدائشی اور بچوں کی کارڈیالوجی، اور کارڈیک سرجری شامل تھے۔

Read full story on Aaj

RELATED ARTICLES

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

- Advertisment -
Google search engine

Most Popular

Recent Comments