60.3 F
Pakistan
Saturday, October 24, 2026
HomePoliticsبخاری صاحب

بخاری صاحب

بخاری صاحب کوئی سیلیبرٹی نہیں تھے۔ اعلیٰ ظرف کے بڑے انسان تھے۔ بڑا آدمی ہونے کے لیے مشہور و مقبول ہونا سماج و تاریخ نے کبھی لازمی شرط نہیں رکھی ہے۔ بڑے لوگوں کی صرف باتیں بڑی نہیں ہوتیں، ان کا کردار اور اخلاق بھی بلند ہوتا ہے۔ وہ ہمارے ہاسٹل کے پہلے ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ اور پھر سپرنٹنڈنٹ تعینات ہوئے، ہماری رخصتی کے بعدبھی وہ دس سال تک اس منصب پر فائز رہے۔ بنیادی طور پر وہ معاشیات کے پروفیسر تھے۔ پڑھانے سے بہتر کام بھلا کون سا ہو سکتا ہے؟ یہ ایسا پیغمبری پیشہ ہے جو بلا استثنا ہر پیغمبر نے اختیار کیا۔ تمام پیمبرانِ خدا استاد تھے۔ میری نظر میں پڑھنا اور پڑھانا دنیا کے سب سے اچھے کام ہیں۔مرزا غالب کے مطابق جیسے شاعری ذریعہ عزت نہیں تھی، اسی طرح بخاری صاحب پروفیسری بارے رائے رکھتے تھے۔ کبھی کبھی طنزیہ انداز میں کہتے کہ میں ”’ذات کا پروفیسر ہوں“، اس کی وجہ مگر قطعاً وہ نہیں تھی جو مرزا غالب نے سو پشت سے اپنے آباؤ اجداد کے سپہ گری کے حوالے سے کہی تھی، گرچہ سید جمشید حسین بخاری ملتان کے معروف سادات خاندان کے چشم و چراغ تھے، وہ خود کو ”ذات کا پروفیسر“ کہہ کر ہمارے معاشرے میں استاد کی ناقدری کا گلہ کر رہے ہوتے تھے۔ ان کی اضافی خوبی یہ تھی کہ وہ ایک بہترین منتظم تھے۔ اس کی وجہ شاید ان کی زمانہ طالب علمی کی تربیت بھی تھی۔ قائد اعظم یونیورسٹی اسلام آباد میں جب زیرِ تعلیم تھے تو مقبول طالب علم رہنما کے طور پر پہچانے جاتے تھے۔ وہ یونیورسٹی کی طلباء یونین کے منتخب رہنما رہے تھے۔ نئی نسل کو تو شاید پتہ بھی نہیں ہوگا کہ طلباء سیاست کیسی ہوا کرتی تھی اور کالجز و یونیورسٹیز کی اسٹوڈنٹ یونین کتنی موثر، اہم اور نئی سیاسی قیادت کی نرسری ہوا کرتی تھیں، افسوسناک پہلو یہ ہوا کہ ان میں تشدد کا پہلو در آیا جس سے یہ اہم ادارہ تباہ ہو گیا۔ بخاری صاحب ترقی پسند سوچ کے حامی تھے مگر طلباء سیاست میں تشدد کے شدید مخالف تھے۔ ضیاء الحق کا مارشل لاء آیا تو ان کی یونین پر بھی باقی ملک کی طرح پابندی عائد کر دی گئی۔ ایک سیاسی جماعت کی جانب سے انہیں اسلحے کی ایک پیٹی اور کافی بڑی رقم کی پیشکش کی گئی، جو کہ انہوں نے ٹھکرا دی۔ حالانکہ وہ مارشل لاء کے شدید مخالف تھے۔ امن پسند ہونے کے علاوہ وہ بکنے والوں میں سے نہیں تھے۔گورنمنٹ کالج اورپنجاب یونیورسٹی میں بھی وہ زیرِ تعلیم رہے اور بطور اتھیلیٹ پوری درسگاہ میں اپنی پہچان رکھتے تھے۔ انتہائی ذہین اور قابل طالب علم تھے، یہ وضاحت اس لیے کرنا پڑتی ہے کہ عمومی طور پر کھیلوں میں نام کمانے والے کھلاڑی پڑھائی میں کمزور اور کند ذہن مشہور ہوتے ہیں – بڑی بھرپور زندگی گزاری مگر بڑی مختصر سی تھی۔ ایسے بلند کردار کے وضع دار لوگ اب کم کم ہی نظر آتے ہیں۔ تعلیمی اداروں میں تو یہ قحط الرجال مزید نمایاں ہے، جو زیادہ تشویشناک بات ہے۔ چونکہ اساتذہ نے ہی قوم کی تعمیر و تشکیل اور مستقبل کی سمت متعین کرنا ہوتی ہے۔ بخاری صاحب کے جانے کا دکھ اس لیے بھی زیادہ ہے چونکہ ان جیسے بڑے لوگ اب گاہے بگاہے ہی دکھائی دیتے ہیں۔ مگر کیا کیا جائے؟ سوائے صبر کے کوئی چارہ بھی تو نہیں ہے۔ موت سے کس کو رُستگاری ہے آج وہ کل ہماری باری ہے ہاسٹل میس پر بھی نظر رکھتے تھے۔ جس طالب علم نے کھانے کے پیسے دینے میں تاخیر کی ہوتی، منشی اس کا میس بند کر دیا کرتے ہیں، مگر بخاری صاحب کسی کا کھانا بند نہیں ہونے دیتے تھے۔ نیک دل، ہمدرد انسان تھے۔ بے حد سخی تھے۔ ذاتی جیب سے طالب علموں کو پیسے ادھار دے دیا کرتے تھے۔ ایک بار تو میں نے خود بخاری صاحب سے پیسے ادھار لیے تھے۔ میں نے ضرورت بیان کرتے ہوئے وضاحت کرنا چاہی کہ کتنے دن بعد واپس کروں گا تو انہوں نے مجھے فوراً ٹوک دیا، اور پوچھا کتنے پیسے چاہئیں؟ اس کے بعد انہوں نے جیب سے روپے نکال کر مجھے تھماتے ہوئے اس موضوع پر مزید بات کرنے سے منع کر دیا۔ہاسٹل میں مقیم ہم جیسے پردیسی طلباء کاوہ ایسے خیال رکھتے جیسے مرغی اپنے پروں کے نیچے چوزوں کوچھپاکرمحفوظ رکھتی ہے۔ اپنے ذاتی تعلقات استعمال کر کے کالج اور ہاسٹل کی بہتری کے لیے کچھ نہ کچھ کرتے رہتے تھے۔ مخیر حضرات کو طالب علموں کی براہِ راست مدد پر آمادہ کرتے تھے۔ ذاتی دوستوں کے ذریعے طالب علموں کے لیے کھیل کا سامان مہیا کرتے، سرکاری ادارے میں نجی دوستوں سے تعمیرکاکام کرواتے رہتے تھے فی سبیل اللہ۔ کہیں کارپٹ بھجوا رہے ہیں،توکبھی طلباء کیلئے ٹیلی ویژن کا بندوبست کر رہے ہیں۔ ایک دن ہمارے ہی کالج کے ایک مشہور زمانہ پروفیسر نے ان کو سمجھایا کہ وہ بڑے ہی بے وقوف لوگ ہوتے ہیں، جولوگ ذاتی تعلقات کو اداروں کے لیے استعمال کرتے ہیں۔بخاری صاحب نے بات سن لی، کوئی جواب نہ دیا، بعد میں ہمیں کہنے لگے کہ یار! اس ملک کے ادارے بھی تو آخر ہمارے ہی ہیں۔ ان کا خیال بھی تو ہمیں ہی کرنا پڑے گا۔ ان کی بہتری کے لئے بھی تو ہمیں ہی آگے آنا پڑے گا۔ پاکستان اگر اپنے محدود وسائل اور بے پناہ مسائل کے باوجود چل رہا ہے اور معاشرے کا نظم و نسق قائم ہے، دھیمی اور سست رفتار سے ہی سہی مگر ترقی کر رہا ہے تو اس کی وجہ بخاری صاحب جیسے نیک دل لوگ ہیں – ایسے لوگ جو اپنی ذات اور ذاتی مفادات سے آگے بڑھ کر سوچتے ہیں۔ دوسرے لوگوں کی زندگی میں آسانیاں پیدا کرنے کی کوشش کرتے ہیں اور صلے میں کسی سے بھی کچھ نہیں مانگتے۔لاہورمیں ہماری مادرعلمی سائنس کالج سے سبکدوشی کے بعدوہ ایک معروف تعلیمی ادارے کے سربراہ رہے،بڑی خوش اسلوبی سے اورجان فشانی سے فرائضِ منصبی اداکئے اوراس کالج کی علمی فضامیں واضح نکھار لے کرآئے۔ بخاری صاحب جیسی شخصیات کوزمین کا نمک کہاجاتا ہے جنہیں پس مرگ بھی موت نہیں آتی، کیونکہ وہ ان گنت لوگوں کے قلوب و اذہان میں زندہ رہتے ہیں۔ہم جیسے بے شمار طالب علموں میں زندگی کو گوارا بنانے کی تحریک کو مہمیز بخشتے ہیں۔ این سی سی آئی کا کراچی میں پورنوگرافک اینیمیشن سرگرمیوں میں ملوث کمپنیوں پر چھاپہ، 42 افراد گرفتار

Read full story on Daily Pakistan

RELATED ARTICLES

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

- Advertisment -
Google search engine

Most Popular

Recent Comments