نقل بھی اصل کی جانب نقل و حرکت کرتی کرتی اصل کے قریب آ چکی ہے اور آج کل نقل بھی اصل کو آنکھ مار کر کچھ دیر کے لئے چپ کرا دیتی ہے اور خریدار کی آنکھوں پر پردہ ڈال دیتی ہے اس کا دماغ سودا خریدکر لفافے میں ڈالنے تک الٹا دیتی ہے گھر سے دودھ خریدنے جائیں اور اس کا تجربہ کر لیں بس نقل الٹ سے ذرا مختلف ہے۔



