76.2 F
Pakistan
Sunday, April 26, 2026
HomeBreaking Newsاگر امن نہ ہوا تو....؟

اگر امن نہ ہوا تو….؟

گزراہفتہ بہت ہی اعصاب شکن رہا۔امن کے لیے اسلام آباد میں مذاکرات کی ٹوٹتی بنتی امیدیں ۔ایرانی وفد کے آنے اور انکار کرنے کی کہانیاں۔امریکی صدر کے اپنے مذاکرات کاروں کو اسلام آباد بھیجنے کے بدلتے بے شمار بیانات اورسانس بند کیے انتظارکرتا ہمارا اسلام آباد۔میں گزشتہ ہفتے اسلام آباد میں تھا ۔خواہش تھی کہ امریکا اور ایران کے درمیان امن مذاکرات اور خاص طورپر کامیاب ہوتے امن مذاکرات کا تاریخی لمحہ اپنی موجودگی میں خود دیکھیں ۔یا تاریخ کا حصہ بن جائیں اور آنے والی نسلوں کو پاکستان کی طرف سے دیئے گئے اس امن کے تحفے کی کہانی سنائیں۔لیکن طے شدہ تاریخوں میں یہ مذاکرات کی بیل منڈھے نہیں چڑھ سکی کہ اس طرح کے گہرے تنازعات کا حل کوئی آسان تھوڑی ہوتا ہے ۔نصف صدی کی نفرت، نصف صدی کی دشمنی اور نصف صدی کی بداعتمادی کو اعتماد دیتے دیتے بہت سارا وقت لگ جاتا ہے ۔یہی وقت اس وقت لگ رہا ہے۔جب میں یہ کالم لکھ رہا ہوں تو امن مذاکرات کی پاکستان کی کوششیں دوبارہ ثمر آور ہورہی ہیں ۔ایرانی وزیرخارجہ مختصر وفد کے ساتھ اسلام آباد میں موجود ہیں ۔ ان کی جمعہ کی رات آمد ہوئی تو ان کا ریڈکارپٹ استقبال کیا گیا ۔ان کے استقبال کے لیے وہی شخصیات ایئرپورٹ پر گئیں جنہوں نے پہلے دورمیں دونوں وفود کا استقبال کیا تھا۔عباس عراقچی کو لینے کے لیے بھی فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اور نائب وزیراعظم اسحاق ڈار دونوں ہی ایئر پورٹ پر موجود تھے اس کے بعد دونوں نے ایرانی وفد سے مختصر ملاقات کی ۔اس کے بعد ہفتے کے روز نائب وزیراعظم اسحاق ڈار اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر سے الگ الگ تفصیلی ملاقات کی ۔اس کے بعد عبا س عراقچی صاحب نے وزیراعظم شہبازشریف سے بھی ملاقات کی ۔اطلاعات تو یہ بھی ہیں کہ ایرانی وزیرخارجہ امریکی تکنیکی ٹیموں کے ساتھ مذاکرات کرسکتے ہیں لیکن اگر ایسا نہ بھی ہو پھر بھی پاکستان کے ساتھ ان ملاقاتو ں میں بہت سے حل طلب معاملات کا حل نکالاجاسکے گا۔اور اگر زیادہ متنازعہ معاملات کا حل اس دورے میں نکال لیا جاتا ہے تو پھر امریکی وفد تو اسلام آباد آنے کے لیے تیار بیٹھا ہی ہے ۔میں پرامید ہوں۔ برے سے برے حالات میں بھی امید کا دامن تھامے اللہ کریم کی رحمت سے مایوس نہیں ہوتا۔ پاکستان کی ان کوششوں سے بھی ناامید نہیں ہوں ۔انشااللہ اس جنگ کا بہتر حل پاکستان نکال لے گا لیکن یہ بات سوچنے اور خاصی پریشان ہونے کی البتہ ہے کہ اگر یہ مذاکرات نہیں ہوتے یا کامیاب ہی نہیں ہوپاتے اور خطے میں جنگ جاری رہتی ہے تو پھر کیا ہوگا۔ابھی جنگ اس نہج سے کافی نیچے ہے کہ دونوں کے درمیان سیز فائر ہے اس کے باوجود پاکستان میں اس ہفتے پٹرول کی قیمتیں بڑھانا مجبوری بن گئی ہے اور اس میں چھبیس روپے کا اضافہ کردیا گیا ہے ۔اگر یہ جنگ دوبارہ شروع ہوگئی اور آبنائے ہُرمز کا مسئلہ کسی طرف نہ لگا اور اسی طرح آبی راستوں میں خطرات باقی رہے تو سمندری تجارت ختم ہوکررہ جائے گی ۔ دنیا کو تیل کی سپلائی بند ہونے سے توانائی بحران آئے گا اور توانائی کا یہ بحران دنیا کی معیشتیں ٹھنڈی کردے گا۔ہمارے جیسی چھوٹی اور کمزور معیشت اس جنگ کا بوجھ کبھی اٹھا ہی نہیں پائے گی۔پاکستان میں تیل بحران نہ بھی آئے پھر بھی یہ تیل قیمت کے لحاظ سے ہی ہماری پہنچ میں نہیں رہے گا۔ہماری بجلی کا انفراسٹرکچر درآمدی گیس پر انحصار کرتا ہے اور یہ گیس جس ملک سے آتی ہے وہ جنگ کے نیچے ہے ۔اگر گیس نہیں آئے گی تو پاکستان میں بجلی نہیں ہوگی اور اس گرمی میں بجلی نہ ہونے کا کیا مطلب ہے اس کا اندازہ کرنے کے لیے کسی لمبی چوڑی سائنس کی کوئی خاص ضرورت نہیں ہوگی ۔یہ دوپہلو تو تیل اور گیس کے ہیں لیکن اس جنگ کے چلتے رہنے سے صرف تیل اور گیس ہی نہیں ہمیں ایران کا ہمسایہ ہونے کے اور بہت سے عذاب بھگتنے پڑیں گے۔تیل اور گیس کے ساتھ ساتھ پاکستان کی خلیجی ممالک کو کی جانے والی برآمدات اور دوسری درآمدات پر بھی گہرا اثر پڑے گا ۔نقصان صرف پاکستان کا ہی نہیں سب کا ہی ہوگا لیکن پاکستان کا قدرے زیادہ ہورہا ہے کیونکہ ہمارے ملک میں تیل کی قیمتیں دوگنا ہورہی ہیں ۔ہمارے ملک میں سبزی سے لے کر گیس سلنڈر تک کی قیمتیں اس لیے بڑھ گئی ہیں کہ جنگ ہورہی ہے۔حکومت کی طرف سے مہنگے تیل کے اثرات سے عوام کو بچانے کے لیے دی جانے والی سبسڈی کے باوجود روایتی پاکستانی لوٹ مار جاری ہے ۔ایران امریکا جنگ سے نقصان صرف معیشت کا ہی نہیں ہوگا بلکہ امن داو¿ پر لگے گا تو تباہی ہی تباہی ہوگی ۔جنگ اگر دوبارہ شروع ہوجاتی ہے تو غالب امکان ہے کہ جنگ صرف امریکا اور ایران کے درمیان محدود نہیں رہے گی ۔ وہ جنگ جس کو خطے میں پھیلنے سے پاکستا ن روکے بیٹھاہے شاید وہ پھر نہ رک سکے اور خلیجی ممالک بھی براہ راست اس جنگ میں کود پڑیں اور یہ جنگ جو امریکا اسرائیل اور ایران کی جنگ تھی اب ایران عرب جنگ میں بدل جائے ۔سوچیں اگر جنگ کا یہ نقشہ بنتا ہے کہ تو پھر تباہی کاکوئی اندازہ نہیں لگایا جاسکتا ہے؟ ۔ایسی صورت میں پاکستان بھی اس جنگ سے الگ نہیں رہ پائے گا۔اگر ایران سعودی عرب کا رخ کرے گا تو اس کو روکنے کے لیے پاکستا ن کو میدان میں آنا پڑے گا۔پھر پاکستان شاید اس جنگ میں ثالثی نہ کرسکے تو کیا ایران جنگ کو اس حد تک لانا چاہے گا یہاں پھر کوئی فریق بھی بچ نہ سکے اور ایران مکمل تباہ ہو جائے؟۔ایک اور خطرناک ترین نتیجہ اس جنگ سے نکل سکتا ہے جس کا پاکستان کبھی بھی متحمل نہیں ہوسکتا۔پاکستان اپنے بیک یارڈ میں افغانستان کو بھگت رہا ہے ۔پاکستا ن کے فساد کی جڑیں افغانستان میں ہیں ۔اگر ایران جنگ کے خاتمے کی طرف نہیں آتا اور جنگ بندی ختم ہوتی ہے ۔دوبارہ تباہی شروع ہوتی ہے تو ایران کو افغانستان بننے سے کون روک سکے گا؟ کیا پاکستان اپنے بیک یارڈ میں ایک اور افغانستان کو دیکھنے یا برداشت کرنے کا متحمل ہوسکتا ہے؟ ابھی آپ کو ایران کا افغانستان بننا مشکل یا ناممکن لگ رہا ہوگا کہ ایران افغانستان سے بہت مختلف ہے وہ الگ تہذیب ہے وغیرہ وغیرہ لیکن جس تہذیب کو کوئی طاقت نہیں مٹاسکتی اکیلی بھوک اس تہذیب کو مٹانے کے لیے کافی ہوتی ہے۔جنگ تباہی لاتی ہے۔جنگ بربادی لاتی ہے۔ جنگ بھوک لاتی ہے اس لیے جنگ نہیں امن کا پرچار کیجئے ۔پاکستان امن کا پرچار کررہا ہے ۔اللہ کرے ایران امریکا اسلام آباد میں سجائی گئی مذاکرات کی میز پر آئیں ۔جنگ کو مکمل ختم کرنے کے لیے جامع معاہدہ کریں ایک دوسرے کا جینے اور تجارت کرنے کا حق تسلیم کریں تاکہ دنیا میں امن آئے اور ہم اپنے بیک یارڈ میں ایک اور افغانستان سے بچ سکیں۔

Read full story on Nai Baat

RELATED ARTICLES

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

- Advertisment -
Google search engine

Most Popular

Recent Comments