لاہور ایک زندہ دل شہر ہے۔ یہاں کی سڑکیں، بازار، پارک اور گلیاں ہر وقت زندگی سے بھرپور نظر آتی ہیں۔ لیکن اگر یہ کہا جائے تو زیادہ غلط نہ ہو گا کہ اسی لاہور میں ایک عام آدمی مستقل طور پر ایک خوف کا شکار بھی رہتا ہے۔ یہ خوف کسی چور یا ڈاکور کا نہیں، بلکہ اکثر اس ادارے کا ہوتا ہے جسے اس کا محافظ قرار دیا جاتا ہے ۔ یہ خوف اس وقت بڑھ جاتا ہے جب یہ تاثر عام ہوجائے کہ قانون کا نفاذ صرف عام شہری تک ہی محدود ہے اور قانون نافذ کرنے والوں کے لیے کوئی بھی قانون نہیں۔ یہ سوال کوئی فلسفیانہ بحث نہیں، بلکہ روزمرہ زندگی کا ایک تلخ تجربہ ہے۔ اگر ہم شہر کی کسی بھی شاہراہ پر چند منٹ کھڑے ہو جائیں تو ایسی بے شمار موٹر سائیکلیں نظر آئیں گی کہ جن پر بغیر ہیلمٹ پہنے پولیس اہلکار سوار ہوں گے اور ان پر نمبر پلیٹ ہی نہیں لگی ہوگی، یا پلیٹ اس انداز میں مڑی یا چھپی ہوگی کہ پڑھنا ممکن نہ ہو۔ سوچنے کی بات ہے کہ اگر یہی کام کوئی عام شہری کرے تو اس کے ساتھ کیا سلوک ہوگا؟ فوراً چالان، جرمانہ، اور بعض اوقات تو حوالات کی ہوا بھی کھانی پڑ جاتی ہے۔ لیکن جب یہی عمل پولیس اہلکار کرے تو قانون اپنی آنکھیں بند کر لیتا ہے۔مزے کی بات تو یہ ہے کہ بعض اوقات ایسے پولیس اہلکار لوگوں کا چالان کر رہے ہوتے ہیں کہ جن کی اپنی موٹر سائیکل پر یا تو نمبر پلیٹ موجود ہی نہیں ہوتی یا غیر نمونہ ہوتی ہے۔ ایک نوجوان موٹر سائیکلسٹ نے بڑے سادہ الفاظ میں کہا تھا: ’ اگر پولیس والا خود ہی ہیلمٹ نہیں پہنتا تو میں کیوں پہنوں؟‘ یہ جملہ بظاہر سادہ ہے، لیکن اس کے اندر ایک گہرا پیغام چھپا ہے۔ رشوت کا مسئلہ بھی کسی سے ڈھکا چھپا نہیں۔ چھوٹی سطح پر ایک سپاہی چند سو روپے لے کر معاملہ رفع دفع کر دیتا ہے، جبکہ بڑی سطح پر بعض افسران پر بھی سنگین الزامات لگتے رہتے ہیں۔ لاہور کے تھانوں میں اکثر یہ شکایت سننے کو ملتی ہے کہ ایف آئی آر درج کروانے کے لیے سفارش یا ’چائے پانی‘ ضروری ہے۔ ایک عام آدمی جب انصاف کے لیے تھانے جاتا ہے تو اسے سب سے پہلے یہی سوچ آتی ہے کہ کیا اس کی جیب میں اتنے پیسے ہیں بھی یا نہیں کہ اس کی بات سنی جائے ؟۔ صورتحال صرف مالی بدعنوانی تک محدود نہیں رہی۔ گزشتہ چند ماہ میں پولیس مقابلوں کا رجحان بھی تیزی سے بڑھا ہے۔ بظاہر یہ مقابلے جرائم کے خاتمے کے لیے کیے جاتے ہیں، اور بعض مواقع پر واقعی خطرناک مجرم مارے جاتے ہیں۔ لیکن دوسری طرف کئی ایسے واقعات بھی رپورٹ ہوئے ہیں جن میں ان مقابلوں کی شفافیت پر سوال اٹھے ہیں۔ بعض خاندانوں نے دعویٰ کیا کہ ان کے عزیز بے گناہ تھے اور انہیں جعلی مقابلے میں مار دیا گیا۔لاہور جیسے بڑے شہر میں جرائم کا مسئلہ واقعی سنگین ہے۔ ڈکیتی، چوری، منشیات اور دیگر جرائم سے نمٹنا آسان کام نہیں۔ پولیس اہلکار دن رات ڈیوٹی دیتے ہیں، شدید گرمی اور سردی میں سڑکوں پر کھڑے رہتے ہیں، اور بعض اوقات اپنی جان بھی قربان کر دیتے ہیں۔ ہمیں ان کی قربانیوں کا اعتراف کرنا چاہیے۔ لیکن یہی حقیقت ہمیں یہ حق نہیں دیتی کہ ہم ان کی غلطیوں پر آنکھیں بند کر لیں بلکہ ہونا تو یہ چاہیے کہ اگر کوئی پولیس اہلکار کسی بھی غیر قانونی حرکت میں ملوث پایا جائے تو اسے ڈبل سزا ملے کیونکہ ایک قانون کے محافظ کے لیے اس قسم کی حرکت ایک ناقابل معافی جرم ہے۔ دیکھا جائے تو پولیس کا محکمہ ہے ہی اتنا با اختیار کہ اس میں داخل ہونے کے لیے کرپشن اپنا راستہ بنا ہی لیتی ہے۔ لیکن دنیا کے ترقی یافتہ ممالک میں پولیس کے لیے سخت احتساب کا نظام بھی موجود ہے۔ وہاں اگر کوئی پولیس افسر قانون توڑتا ہے تو اس کے خلاف فوری اور سخت کارروائی ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ عوام پولیس کو اپنا دوست سمجھتے ہیں۔ لاہور میں حالیہ دنوں میں سوشل میڈیا پر ایسی متعدد ویڈیوز وائرل ہوئیں جن میں پولیس اہلکاروں کو قانون کی خلاف ورزی کرتے دیکھایا گیا۔ کہیں وہ ٹریفک سگنل توڑ رہے تھے، کہیں شہریوں کے ساتھ بدتمیزی کر رہے تھے، اور کہیں رشوت لیتے ہوئے پکڑے گئے۔ یہ ویڈیوز صرف چند افراد کی غلطی نہیں دکھاتیں، بلکہ پورے ادارے کی ساکھ کو متاثر کرتی ہیںاس کے علاوہ ان افسران کی کارکردگی پر بھی سوالیہ نشان لگاتی ہیں جو یہ سب جانتے بوجھتے ہوئے بھی متعلقہ اہلکاروں کے خلاف ایکشن نہیں لیتے۔ ایک عام آدمی تو یہی سوال اٹھاتا ہے کہ کیا پولیس کے لیے بھی کوئی قانون ہے؟ جواب تو یہی ہونا چاہیے کہ، یقیناً ہے۔ اگر ہے تو پھر مسئلہ اس کے نفاذ کا ہے۔ ہمارے آئین اور قوانین میں پولیس کے احتساب کے واضح طریقے موجود ہیں۔ محکمانہ انکوائری، معطلی، اور برطرفی جیسی محکمانہ کاروائیوں کے علاوہ کسی جرم میں ملوث اہلکار کو باقاعدہ طور پر گرفتار کر کے جیل بھیجنے جیسے اقدامات تک کیے جا سکتے ہیں۔ لیکن افسوس کہ اکثر یہ کارروائیاں یا تو دیر سے ہوتی ہیں یا پھر رسمی کارروائی بن کر رہ جاتی ہیں۔ایک عام شہری کی ضرورت اور خواہش تو بس اتنی سی ہی ہوسکتی ہے کہ جب وہ کسی مشکل میں ہو تو پولیس اس کی مدد کرے، اس سے عزت سے پیش آئے، اور اس کے حقوق کا تحفظ کرے۔ وہ یہ نہیں چاہتا کہ اسے تھانے کے چکر لگانے پڑیں یا کسی سفارش کی تلاش میں بھاگنا پڑے۔ وہ صرف فوری اور سستا انصاف چاہتا ہے اور یہ ہمارے حکمرانوں پر منحصر ہے کہ یہ اہم مسلہ ان کی ترجیح میں کہاں ہے۔ اس صورتحال کی نشاندہی کا مقصد تنقید برائے تنقید نہیں، بلکہ اصلاح ہے۔ اگر پولیس کا محکمہ اپنے اند ر ہی ایک مضبوط احتسابی نظام قائم کرے، ہر شکایت کی شفاف تحقیقات ہوںاور قصوروار کو سزا ملے تو بے شمار مسائل میڈیا کی زینت بننے سے پہلے ہی ختم ہو سکتے ہیں۔اگر ہر آئی جی، ڈی آئی جی، ایس ایس پی، ایس پی، اے ایس پی اور حتی ٰ کہ ایس ایچ او کی سطح پر یہ طے کر لیا جائے کہ ان دفتر کے اہلکار کسی بھی صورت میں بغیر یا غیر نمونہ نمبر پلیٹ موٹر سائیکل استعمال نہیں کریں گے، عوام کے ساتھ نرمی کا برتاو کریں گے اور غیرقانونی حراست ایک بڑی قانون شکنی تصور ہو گی، تو آدھے سے زیادہ مسائل تو یہیں ختم ہو جائیںگے۔ اس سب کے ساتھ ساتھ پولیس اہلکاروں کی تربیت پر خاص توجہ دینے کی ضرورت ہے تاکہ وہ شہریوں کے ساتھ بہتر رویہ اختیار کریں اور اپنی کارکردگی بہتر بنا سکیں۔ اگر پولیس خود قانون کی پابندی کرے گی تو عوام بھی اس کی پیروی کریں گے۔ لیکن اگر محافظ ہی قانون توڑنے لگے تو معاشرے میں قانون کا احترام پیدا کرنا مشکل ہو جائے گا۔
کیا قانون نافذ کرنے والوں کے لیے بھی کوئی قانون ہے؟
RELATED ARTICLES



