چند دن پہلے ہم نے یوم تکبیر منایا ہے۔ یعنی وہ تاریخی دن جب پاکستان اسلامی ممالک کی پہلی اور دنیا کی ساتویں ایٹمی طاقت بنا تھا۔مرحوم ذولفقار علی بھٹو نے پاکستان کے ایٹمی پروگرام کی بنیاد رکھی جبکہ سابق وزیر اعظم نوازشریف نے بھارت کے ایٹمی دھماکوں کے جواب میں دھماکے کر کے پاکستان کو ایٹمی قوت بنایا۔ آج ہم بھارت کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بات کرتے ہیں یا اقوام عالم میں ہماری سفارتکاری اور ثالثی کے ڈنکے بجتے ہیں تو اس کی وجہ بھی ہمارا ایٹمی پروگرام ہی ہے۔ ساری دنیا کو معلوم ہے کہ پاکستان اللہ کے فضل و کرم سے ایک ایٹمی قوت ہے۔ لہذا اس کی طرف میلی آنکھ سے دیکھنے کی جرا¿ت کرنا مشکل ہے۔ایک لمحے کیلئے ایران پر نگاہ ڈالیں ۔ یہ برسوں سے اس صلاحیت کے حصول کے لئے کوشاں تھا۔ تاہم کامیاب نہیں ہو سکا۔ آج جنگ کی تباہ کاریوں کا شکار ہے۔ ایران ایٹمی قوت ہوتا تو اس وقت اسکی صورتحال مختلف ہوتی۔ پچھلے کچھ برسوں سے ہمارے ہاں سیاست دانوں کو منہ بھر بھرکر گالیاں دینے اور ان کو ہدف تنقید بنانے کا رواج چل نکلا ہے۔ تاہم انہی سیاست دانوں کے سر پر پاکستان کو ایٹمی طاقت بنانے کا سہرا بندھا ہے۔ ایک سیاست دان نے سیاسی بصیرت کا مظاہرہ کیا اور ایٹمی پروگرام کی بنیاد رکھی۔ جبکہ دوسرے سیاسی راہنما ءنے امریکہ کی اربوں ڈالر کی پیشکش اور اقوام عالم کا دباؤ نظر انداز کر کے ایٹمی دھماکے کئے اور پاکستان کا دفاع ناقابل تسخیر بنا دیا۔ آج ہم ایٹمی طاقت نہ ہوتے تو خدانخواستہ ہمارا حال بھی ایران جیسا ہوتا۔ اس کارنامے کے لئے ان دونوں سیاسی راہنماوں کو سلام ۔ اس کے ساتھ ساتھ ڈاکٹر قدیر احمد خان اور ڈاکٹر ثمر مند مبارک سمیت دیگر سائنسدانوں نے بھی پاکستان کو ایٹمی قوت بنانے میں اپنا کردار ادا کیا۔یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ اس دوران جو بھی سیاسی یا فوجی حکومتیں بنیں ان سب نے پاکستان کے ایٹمی پروگرام کو آگے بڑھانے میں مقدور بھر حصہ ڈالا۔ چند دن پہلے ہم نے معرکہ حق کا ایک سال مکمل ہونے کا دن بھی تزک و احتشام سے منایا ہے۔ یہ وہ دن تھا جب پاکستان نے اپنے سے کئی گنا بڑی دفاعی طاقت بھارت کو ناکوں چنے چبوا دئیے۔فرانس کے تیار کردہ رافیل طیارے گرا کر بھارت کا غرور زمین بوس کیا۔ آج امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ پاکستان کے وزیر اعظم اور چیف آف ڈیفنس سروسز کی تعریف کرتے نہیں تھکتا۔ مزید براں امریکہ ۔ ایران تنازع کے ہنگام ، پاکستان نے نہایت عمدہ سفارتی کردار ادا کیا ۔ اس کردار نے پاکستا ن کو سرخرو کیا اور سبز پاسپورٹ کی عزت و آبرو میں اضافہ کیا ہے۔ اس ساری صورتحال کیلئے ہم اللہ پاک کے شکر گزار ہیں اور اپنی قومی قیادت کے بھی۔ یہ سار ی کامیابیاں ہمارے لئے قابل فخر ہیں۔ تاہم اس مثبت منظر نامے سے قطع نظر، پاکستان کے عوام کی حالت زار دیکھیں تو وہ نہایت مشکل سے دوچار ہیں۔ سالوں سے مسلسل راکٹ کی رفتار سے بڑھتی ہوئی مہنگائی نے ان کی کمر توڑ کر رکھ دی ہے۔ ایک وقت تھا جب اشیائے خورد و نوش یا پٹرول کی قیمتوں میں ہفتوں، مہینوں کے بعد اضافہ ہوا کرتا تھا۔ اب آئے روز چیزوں کے نرخ بڑھ جاتے ہیں۔کسی زمانے میں یہ اضافہ چند پیسوں یا روپوں تک محدود تھا۔ اب نرخوں میں یک مشت کئی روپوں کا اضافہ ہو جاتا ہے۔یہ صورتحال صرف گوشت ، مکھن ، گھی وغیرہ تک محدود نہیں ہے۔ غریب آدمی کیلئے دال ، سبزی کا حصول بھی مشکل ہو گیا ہے۔ ادویات کی قیمتیں بھی عوام کی پہنچ سے باہر ہیں۔ بجلی ، گیس کے بل ہوں یا مہنگا پٹرول ، ڈیزل ، عوام کی زندگی نہایت کٹھن ہو چلی ہے۔ اس صورتحال کو اب کئی برس ہو چلے ہیں۔ مہنگائی کی رفتار تھم رہی ہے اور نہ آہستہ ہو رہی ہے۔اس صورتحال سے صرف زیریں طبقہ نہیں ، متوسط طبقہ بھی شدید متاثر ہوا ہے۔ محاورتا نہیں واقعتا ، متوسط طبقے کیلئے بھی تین وقت کی روٹی کا بندوبست کرنا مشکل ہو گیا ہے۔ عوام کی قوت خرید مسلسل سکڑ رہی ہے۔ خط غربت کی لکیر کے نیچے زندگی گزارنے والوں کی تعداد بڑھ رہی ہے۔ دوسری طرف روزگار کے مواقع بھی محدودہیں۔ بے روز گاری میں اضافہ ہو رہا ہے۔ نئی نوکریوں کی گنجائش بھی کم کم ہے۔ کاروبار کے مواقع بھی محدود ہیں۔آئے روز ایسی خبریں اور سروے ہماری نگاہ سے گزرتے ہیں جن میں بتایا جاتا ہے کہ کتنے ہنر مند نوجوان پاکستانی اپنا ملک چھوڑ کر دوسرے ملکوں میں جا بسے ہیں۔یہ بھی سننے کو ملتا ہے کہ نوجوان نہایت مایوس ہیں اور وہ بہتر مستقبل کے حصول کیلئے یورپ، امریکہ یا کسی دوسرے ملک میں جانے کے خواہاں ہیں۔ اس ساری صورتحال کی وجہ ملک کے داخلی حالات ہیں۔ اس تناظر میں لازم ہے کہ ہماری قومی قیادت اور ارباب اختیار عوام الناس پر نگاہ ڈالیں۔ دنیا بھر میں اپنی دفاعی طاقت اور سفارتکاری کی دھاک بٹھالینا یقینا قابل تحسین ہے۔ تاہم اب انہیں عوام کی فکر کرنی چاہیے جن کیلئے اپنی سفید پوشی کا بھرم رکھنا اور باعزت زندگی گزارنا مشکل ہو گیا ہے۔ اگرچہ وقتاً فوقتاً حکومتی ترجمان معاشی اعداد و شمار پیش کر کے بتاتے ہیں کہ قومی معیشت کی سمت درست ہو رہی ہے۔بر سبیل تذکرہ، وزیر اعظم شہباز شریف کو یہ کریڈٹ بھی جاتا ہے کہ انہوں نے ملک کو دیوالیہ ہونے سے بچایا ہے۔ تاہم اس بات کو اب سالوں بیت چکے ہیں۔ اب عوام کو کوئی نئی خبر اور اطلاع دیجئے۔مہنگائی اور بے روزگاری کی چکی میں پسے عوام کو معاشی اعداد و شمار سے دلچسپی ہے اور نہ ہی بین الاقوامی صورتحال سے۔ انہیں اس سے کوئی غرض نہیں کہ آبنائے ہرمز کی بندش سے دنیا بھر میں پٹرول کی قیمتیں آسمان تک جا پہنچی ہیں یا امریکہ جیسا ملک بھی مہنگائی کے طوفان کی زد میں ہے۔ امریکہ، برطانیہ کے قصے ان کے لئے بے معنی ہیں۔ عوام کو صرف اپنے گھر اور اپنی قوت خرید سے غرض ہے۔ وہ چاہتے ہیں کہ ان کے بچوں کو باعزت طریقے سے روٹی میسر آئے۔ وہ بچوں کو پڑھا لکھا سکیں۔ اپنے گھر کے بزرگوں کی ادویات کا بندوبست کر سکیں۔ بیشتر عوام کے حالات یہ ہیں کہ وہ خاندان کے کسی بیمار کی ادویات کا بندوبست کریں تو بچوں کے اسکول کی فیس کی ادا ئیگی سے قاصر ہوتے ہیں۔ اسکول کی فیس دیں تو بجلی، گیس کے بل بھرنے سے عاجز ہو جاتے ہیں۔ اندازہ کیجئے کہ تیس چالیس ہزار کمانے والا غریب آدمی اپنی ضروریات زندگی کیسے پوری کرتا ہو گا؟ لازم ہے کہ ہمارے حکمران اس پہلو پر غور کریںاور عوام کی مشکلات کم کرنے کی حکمت عملی وضع کریں۔ سچ یہ ہے کہ عوام اشرافیہ کے اللے تللے، پروٹوکول اور تنخواہوں میں بے تحاشا اضافہ دیکھ دیکھ کر احساس محرومی کا شکار ہو چکے ہیں۔ ایک طبقہ اپنے احساس محرومی کی وجہ سے متمول طبقے اور ارباب اختیار سے نفرت کرنے لگا ہے۔ اسے لگتا ہے کہ یہ طبقہ اس کے حقوق غصب کر کے شاہانہ زندگی بسر کر رہا ہے۔ اس طبقے کو آپ اپنی سفارتی کامیابیاں گنوائیں یا معاشی اعداد و شمار، وہ یہ سب سمجھنے سے قاصر ہے۔ چند دن کے بعد نئے سال کا بجٹ پیش ہو نا ہے۔ ہمارے ہاں ہر بجٹ کے بعد مہنگائی کا ایک طوفان اٹھتا ہے۔لازم ہے کہ وزیر اعظم اور تمام صوبوں کے وزرائے اعلیٰ اس بجٹ میں اشرافیہ کو ریلیف دینے کے بجائے، عوام کو ریلیف دینے کا اہتمام کریں۔ چھوٹے درجے کے سرکاری ملازمین اور زیریں طبقے کے لئے خصوصی ریلیف کا اعلان کریں۔ عوام کو ریلیف نہ ملا تو وہ حکومتوں سے ، سیاست دانوں سے اور اس نظام سے بالکل مایوس بلکہ متنفر ہو جائیں گے۔ اس سے پہلے کہ بہت دیر ہو جائے۔خدارا غریب طبقے کا بوجھ کم کرنے کا اہتمام کریں۔
اب کچھ توجہ غریب عوام پر بھی !!
RELATED ARTICLES



