90.3 F
Pakistan
Saturday, August 29, 2026
HomeEntertainmentان سے ملی نظر کہ میرے ہوش اُڑ گئے -- ایک ممنوعہ...

ان سے ملی نظر کہ میرے ہوش اُڑ گئے — ایک ممنوعہ متن

ان سے ملی نظر کہ میرےہوش اُڑ گئے۔ کبھی کبھی کوئی گیت صرف گیت نہیں رہتا۔ وہ ایک دروازہ بن جاتا ہے۔ آپ اسے سنتے ہیں اور اچانک کسی پرانے کمرے میں پہنچ جاتے ہیں، کسی کلاس روم میں، کسی شہر میں، کسی ایسے شخص کے پاس جس سے آپ برسوں پہلے ملے تھے، یا شاید اپنے ہی کسی ایسے روپ کے پاس جسے آپ سمجھتے تھے کہ پیچھے چھوڑ آئے ہیں۔ میرے ساتھ آج یہی ہوا۔ ایک دوست نے اپنی موت کی آخری منزل سے مجھے ایک یاد بھیجی۔ وہ میری زندگی کے ان سفرناموں میں کہیں موجود تھا جہاں میں دنیا کے مختلف کلاس روموں میں جاتی رہی—ایک ملک سے دوسرے ملک، ایک زبان سے دوسری زبان، ایک سوال سے دوسرے سوال تک۔ وہ ان لوگوں میں سے تھا جو سوال پوچھتے ہیں اور پھر سوال آپ کے ساتھ سفر کرتا رہتا ہے۔ اپنی موت کے بستر سے اس نے مجھ سے پوچھا: ’’رخشی، اب کہانی کیا ہے؟‘‘ اور پھر اس نے پاکستان اور ہندوستان کے بارے میں بات کی۔ ان برسوں میں گورے اکثر دونوں ملکوں کو گڈمڈ کر دیتے تھے، مگر وہ ایسا نہیں کر رہا تھا۔ وہ کسی سیاسی سرحد کی بات نہیں کر رہا تھا۔ وہ اس مشترکہ تہذیبی دھارے کی طرف اشارہ کر رہا تھا جس میں ورثے، نسب نامے، زبانیں، ثقافتی عادات، نوآبادیات اور نوسامراجیت کی پیچیدہ تہیں ایک دوسرے میں گھلی ہوئی ہیں۔ پھر اس نے واٹس ایپ پر رومن انگریزی میں ایک ہی سطر لکھی: ” ایسا ہوا اثر، ایسا ہوا اثر ایسا ہوا اثر کہ میرےہوش اُڑ گئے۔” اور بس۔ میں نے اسے تھوڑی سی اردو سکھائی تھی، اور وہ اردو سے اتنا متاثر ہوا تھا کہ کہتا تھا، ’’اب مجھ کو سمجھ آیا تم پیتی کیوں نہیں۔ آئی ایم ہائی آن اردو۔‘‘ اس دور میں میرے جیسوں کے لئے پب میں سیب کا جوس مل جاتا تھا۔ وہ بیچارہ میرے لیے وہی آرڈر کرتا، پھر ایک مذاقیہ شکل بنا کر کہتا، ’’آپ کی خاطر۔‘‘ کبھی اپنی چھوٹی سی ایکٹنگ کے بعد ہنس کر کہتا، ’’تھوڑا سا تماشہ تو بنتا ہے۔‘‘ یہی تو تھا وہ۔ ایک صوفی گورا۔ اور شاید اسی لئے اس کا آخری پیغام بھی میرے لیے کسی عام یاد کی طرح نہیں آیا۔ میں یادوں میں سفر کرنے لگی۔ 1999، ایمسٹرڈیم جب میں ایمسٹرڈیم میں اپنی پوسٹ گریجویٹ ڈگری کر رہی تھی تو ہماری گفتگو کا ایک بڑا حصہ اکیسویں صدی کے گرد گھومتا تھا۔ نئی صدی آنے والی تھی اور ساتھ افواہیں بھی۔ وائی ٹو کے۔ کمپیوٹر کیا کریں گے؟ دنیا کے نظام کیا ہوں گے؟ کیا کچھ اچانک بند ہو جائے گا؟ ہم ایک صدی کے آخری کنارے پر کھڑے تھے اور دوسری صدی کے دروازے پر دستک سن رہے تھے۔ اسی دوران میں نے بیسویں صدی کی موسیقی اور فلموں کی سی ڈیز اور ڈی وی ڈیز جمع کرنا شروع کر دیں۔ شاید میں گزرتی ہوئی صدی کو اپنے ہاتھوں سے تھوڑا سا روک لینا چاہتی تھی۔ گیت، فلمیں، آوازیں، تصویریں، پرانے زمانے کے خواب—سب کچھ۔ پھر ایک دن ہم کلاس فیلوز میں سے کچھ نے فیصلہ کیا کہ خاص طور پر یہ دیکھا جائے کہ بیسویں صدی کے جس سال اور دہائی میں ہم اس دنیا میں آئے، اس وقت کیا ہوا تھا۔ میرا حصّہ تھا 1968۔ اور وہاں مجھے اپنا ایک عجیب سا تعارف ملا۔ میرا سال۔ 1968۔ ایک تاریخی سال اچانک ذاتی ہو گیا۔ تب مجھے ظاہر ہے کچھ معلوم نہیں تھا کہ دنیا کس حال میں ہے۔ لیکن اس کھیل کھیل جیسی مشق نے مجھ سے 1968 کا ایک پورا کیٹلاگ بنوا دیا۔ دنیا میں جنگ تھی، بغاوت تھی، قتل تھا، خوف تھا، امید تھی، اور مستقبل کو چھونے کی بے قراری بھی۔ ویت نام کی جنگ جاری تھی۔ مارٹن لوتھر کنگ جونیئر قتل ہوئے۔ رابرٹ کینیڈی قتل ہوئے۔ طلبہ سڑکوں پر تھے۔ پراگ اسپرنگ سیاسی اصلاح اور آزادی کی امید بن کر ابھرا، اور اگست میں سوویت قیادت میں وارسا معاہدے کی افواج نے چیکوسلواکیہ پر حملہ کر کے اسے کچل دیا۔ اور اسی سال دسمبر میں اپالو 8 کے تین خلاباز چاند کے گرد چکر لگا کر واپس آئے۔ اور اسی سال ہندوستانی سنیما میں محبت کا ایک ایسا گیت پیدا ہوا جو دنیا کے ان بڑے واقعات سے بالکل بے خبر معلوم ہوتا ہے۔ ’’ان سے ملی نظر کہ میرے ہوش اُڑ گئے۔‘‘ یہ گیت 1968 کی فلم جھک گیا آسمان کا ہے، جس کی ہدایت کاری لیکھ ٹنڈن نے کی تھی اور جس میں راجندر کمار اور سائرہ بانو مرکزی کرداروں میں تھے۔ گیت کے بول حسرت جے پوری نے لکھے، موسیقی شنکر جے کشن نے دی اور اسے لتا منگیشکر جی نے اپنی آواز دی۔ ایک طرح سے یہ اس دور کے ہندوستانی فلمی رومانس کی پوری جمالیات کا مختصر سا نمونہ ہے: سادہ الفاظ، یاد رہ جانے والی دھن، ایک معصوم سی کہانی اور ایک ایسی آواز جو جذبات کو بیان کرنے کے بجائے انہیں محسوس کرا دیتی ہے۔ حسرت جے پوری کا کمال دیکھیے، شاید آج اس گیت کو سنتے ہوئے سب سے پہلے مجھے حسرت صاحب کو یاد کرنا چاہیے۔ ہم اکثر فلمی گیت کے گلوکار کو یاد رکھتے ہیں، موسیقار کو یاد رکھتے ہیں، اداکاروں کو یاد رکھتے ہیں، مگر گیت نگار کبھی کبھی پس منظر میں چلے جاتے ہیں۔ حالانکہ محبت کو زبان دینا کوئی معمولی ہنر نہیں۔ حسرت صاحب نے محبت کو مشکل بنانے سے انکار کیا۔ ان کے ہاں پہلی ملاقات ہے، آنکھیں چار ہوتی ہیں، وہ پاس نہیں بیٹھتا، پھر بھی محبت ہو جاتی ہے۔ ’’پھر بھی ہو گیا ان سے پیار۔‘‘ یہ کتنا سادہ جملہ ہے۔ اور کتنی بڑی کیفیت اپنے اندر رکھتا ہے۔ پھر دل اس کی طرف کھنچتا ہے، قدم آگے بڑھتے ہیں اور رک جاتے ہیں، انسان کانپ جاتا ہے، دم گھٹنے لگتا ہے۔ یہی تو ان کا جادو ہے۔ وہ محبت کو فلسفہ نہیں بناتے۔ وہ اسے دل، بدن، سانس اور بے قراری بنا دیتے ہیں۔ سادہ لکھنا شاید سب سے مشکل کام ہے۔ اور حسرت صاحب سادگی کے بڑے شاعر تھے۔ سائرہ بانو، ایک فلمی منظر اور ایک پرانا سوال بھی کر لیتے ہیں—اس زمانے میں میں adolescent جنسی اور تولیدی صحت پر بھی کام کر رہی تھی۔ اس لیے سائرہ بانو کو جس طرح فلم میں فلمایا گیا، اور جس طرح اس کی کہانی کو ایک کلاس روم، ایک نوجوان عورت، ایک نظر، ایک جسمانی گھبراہٹ اور ایک جذباتی کشش کے بیچ رکھا گیا، وہ مجھے محض فلمی رومانس نہیں لگا۔ یہ اور بات ہے کہ پاکستان آکر اسی موضوع اور اسی مسئلے کو غیر ملکی فنڈڈ ایجنڈا قرار دے دیا گیا۔ حالانکہ ہمارے اپنے ادبی اور ثقافتی ورثے میں ان معاملات پر بات نئی نہیں۔ عصمت چغتائی کی لحاف ہو یا واجدہ تبسم کا نو لکھا ہار—جنوبی ایشیا کی شاعری، نثر اور مصوری میں انسانی جسم، خواہش، جنس، رشتوں اور ممنوع سمجھے جانے والے موضوعات پر گفتگو ہمیشہ کسی نہ کسی شکل میں موجود رہی ہے۔ مذہب اور عقائد میں بھی دو یا کئی طرح کی فکری روایتیں موجود رہی ہیں۔ گڑبڑ کہیں اور ہوئی ہے۔ پدر سری پر مشتمل تراجم، ترجمانی اور تشریحات نے بہت سی باتوں کو یا تو چھپا دیا یا ان کے معنی بدل دیے۔ پھر ہمیں بتایا گیا کہ یہ سب ’’ہماری تہذیب‘‘ کا حصہ نہیں۔ جب کہ مسئلہ یہ ہے کہ ہماری اصلی تہذیب کافی ’’بدتہذیب‘‘ بھی ہے۔ اس کی کہانی خود بہت زیادہ پیچیدہ، بہت زیادہ رنگین اور بہت زیادہ انسانی ہے—خامیوں سے پُر ہے۔ چھ دہائیاں بعد بھی؟ 2026 چل رہا ہے۔ یہ گیت 1968 کا ہے۔ چھ دہائیوں سے زیادہ گزر چکی ہیں۔ دنیا نے کئی بار اپنی شکل بدلی ہے۔ محبت نے بھی۔ آج پہلی نظر کے بعد شاید کسی کا انسٹاگرام دیکھا جاتا ہے، پھر پروفائل، پھر باہمی دوست، پھر آن لائن ہونے کا وقت، پھر سین، پھر جواب کا انتظار، پھر کبھی گھوسٹنگ۔ لیکن جس چیز کو ٹیکنالوجی نہیں بدل سکی وہ ہے کسی کو دیکھ کر اچانک اپنی معمول کی کیفیت کھو دینا، کسی کی طرف دل کا اپنی مرضی سے کھنچ جانا، اور کسی کی موجودگی میں خود کو تھوڑا سا اجنبی محسوس کرنا۔ اسی لیے، اپنے کام کے دوران نوجوانوں کے ساتھ برسوں کی گفتگو سے مجھے یہ احساس ہوا کہ شاید نسل وائی اور نسل زی بھی اس گیت کو سمجھ سکتی ہیں۔ وہ اس کی دنیا نہیں جانتیں۔ مگر اس کی کیفیت جانتی ہیں۔ اور شاید یہی کسی فن پارے کے زندہ رہنے کا اصل راز ہے۔ اور پھر لتا جی—لتا جی کی آواز۔ اس گیت کو ان کی آواز کے بغیر سوچنا تقریباً ناممکن ہے۔ وہ محبت کو چیخ کر نہیں بتاتیں۔ وہ اسے آہستہ سے ہونے دیتی ہیں۔ ایک معصوم سی حیرت ہے۔ ایک ہلکی سی گھبراہٹ۔ جیسے گانے والی خود بھی ابھی یہ سمجھنے کی کوشش کر رہی ہو کہ آخر اس کے ساتھ ہوا کیا ہے۔ شنکر جے کشن کی دھن اس کیفیت کو خواب جیسا بنا دیتی ہے، اور حسرت جے پوری کے الفاظ اسے زمین پر رکھتے ہیں۔ اسی امتزاج کی وجہ سے میرے لیے یہ گیت کبھی کبھی سائیکیڈیلک محسوس ہوتا ہے۔ کچھ خواب جیسا۔ کچھ روحانی۔ کچھ ایسا جسے میں اپنے لیے صوفیانہ کیفیت کہہ سکتی ہوں۔ یہ باقاعدہ صوفی کلام نہیں ہے۔ اور پتا نہیں کس نے، کہاں، فیصلہ سنایا یا لکھ دیا کہ صوفیانہ کلام باقاعدہ یا قاعدے قانون کا پابند ہوتا ہے؟ اچھا، چلو صرف یہیں تک رکھیں بات—یہ ایک فلمی گیت ہے۔ لیکن فن کی کیفیات ہمیشہ اپنی رسمی درجہ بندی کی پابند نہیں ہوتیں۔ جب دلبر کی ایک نظر انسان کو اس کے معمول کے ’’میں‘‘ سے باہر لے جائے، جب دل اپنے اختیار میں نہ رہے، جب انسان کہے کہ میرے ہوش ہی نہیں رہے—تو مجھے اس میں ایک صوفیانہ استعارہ ضرور دکھائی دیتا ہے۔ آج، میرے دوست کی وہ آخری یاد میرے پاس ہے: ’’رخشی، اب کہانی کیا ہے؟‘‘ اسے عورت کی ایج ازم کی بے رحمی کا پتا تھا۔ وہ یہ بھی جانتا تھا کہ میں اکثر درست بات غلط جغرافیے میں کر بیٹھتی ہوں۔ شاید اسی لئے اس کا سوال مجھے اب بھی سنائی دیتا ہے۔ پاکستان میں—اور شاید پوری دنیا میں—عمر رسیدہ عورت کی زندگی کے بارے میں ہمارے تصورات بہت محدود ہیں۔ لیکن یہاں معاملہ ذرا زیادہ گھنا ہے۔ اور گھٹیا بھی—یہاں اخلاقی فیصلے بھی ساتھ چلتے ہیں۔ ایک عمر کے بعد عورت کی مرئیت کم ہونے لگتی ہے۔ اس سے توقع کی جاتی ہے کہ وہ ذمہ داریوں میں موجود رہے، مگر خواہش میں نہیں۔ وہ ماں ہو سکتی ہے۔ دادی یا نانی ہو سکتی ہے۔ خاندان کا سہارا ہو سکتی ہے۔ مگر کیا وہ اب بھی کسی گیت پر سرشار ہو سکتی ہے؟ کیا وہ کسی آواز سے متاثر ہو سکتی ہے؟ کیا وہ یہ کہہ سکتی ہے: “میرے ہوش اُڑ گئے”؟ آپ نے اکثر یہ بات سنی ہوگی: ’’یہ رنگ، یہ گیت، یہ ایونٹ، یہ ڈریس—آپ کی عمر کے مطابق نہیں ہے۔‘‘ یا: ’’آپ اپنی عمر کے مطابق ایکٹ کریں۔‘‘ کیسے کریں؟ پہلی بار بوڑھے ہو رہے ہیں۔ کس نے بتایا ہے کہ اس کی کوئی مقررہ ریہرسل ہوتی ہے؟ میں عمر کو اس اجازت نامے کا محتاج نہیں سمجھتی۔ اور شاید عمر کے ساتھ میں نے یہی سیکھا ہے کہ جسم پر وقت کی لکیر آ سکتی ہے، مگر اندر کی موسیقی کو عمر کا پابند بنانا ضروری نہیں۔ پھر میں نے آسمان کی طرف دیکھا۔ میں اس سوال کا کوئی حتمی جواب نہیں جانتی۔ شاید کہانی یہی ہے کہ ہم جن سرحدوں کو بہت حتمی سمجھتے ہیں، یادیں انہیں بار بار عبور کرتی رہتی ہیں۔ پاکستان اور ہندوستان۔ ماضی اور حال۔ بچپن اور بڑھتی ہوئی عمر۔ مشرق اور مغرب۔ محبت اور تاریخ۔ زندگی اور موت۔ اور ایک گیت ان سب کے درمیان کہیں کھڑا رہتا ہے۔ میں اس گیت کے ساتھ آج پھر نوستیلجیا میں سفر کر رہی تھی۔ پھر آسمان کی طرف دیکھا۔ آسمان خالی تھا۔ کوئی نشان نہیں تھا۔ کوئی جواب نہیں تھا۔ اپنے حصّے کا خدا اب تک ڈھونڈ رہی ہوں—میں نے پھر بھی اپنے اس صوفی گورے دوست کے لیے ایک دعا بھیجی۔ Rust in vrede تمہاری روح کو سکون ملے—بس اتنی سی دعا میرے اس دوست کے لیے جس نے آخری لمحوں میں بھی ایک گیت کے ذریعے مجھے ایک پوری صدی، ایک پوری تہذیبی بحث اور ہماری اپنی مشترکہ یادوں کی طرف واپس بھیج دیا۔ اور دل میں حسرت جے پوری صاحب، لتا جی، شنکر جے کشن، اور ان سب کے لئے جنہوں نے 1968 میں آنکھ کھولی، زندگی گزاری، خواب دیکھے، محبت کی، گیت سنے اور پھر کہیں ہم سے پہلے چلے گئے— ریسٹ اِن پاور۔ باقی ہم؟ ہم ابھی یہاں ہیں۔ اور کبھی کبھی کوئی پرانا گیت سن کر پھر سے کہتے ہیں: ایسا ہوا اثر، ایسا ہوا اثر ایسا ہوا اثر کہ میرے ہوش اُڑ گئےان سے ملی نظر کہ میرے ہوش اُڑ گئےان سے ملی نظر کہ میرے ہوش اُڑ گئے

Read full story on Naya Daur Urdu

RELATED ARTICLES

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

- Advertisment -
Google search engine

Most Popular

Recent Comments