دنیا کا کوئی بھی دور ہو، ظلم نے جب بھی کروٹ لی، مظلومیت نے اس کے سامنے سینہ تان کر ایک نیا رُخ اختیار کیا۔ تاریخ گواہ ہے کہ جبر کے گہرے سایوں میں مزاحمت نے نئے استعارے تراشے—کبھی پتھروں سے، کبھی قلم سے، کبھی کتابوں کے صفحات سے، اور کبھی بینرز پر نعروں کی



