84.1 F
Pakistan
Monday, July 6, 2026
HomeEnvironmentبلوچستان: کیلے کے پتوں سے فائبر بنانے والے نوجوان کے لیے عالمی...

بلوچستان: کیلے کے پتوں سے فائبر بنانے والے نوجوان کے لیے عالمی ایوارڈ

دنیا بھر میں ماحولیاتی آلودگی اور پلاسٹک کے بڑھتے استعمال نے سائنس دانوں اور محققین کو ماحول دوست متبادل تلاش کرنے پر مجبور کر دیا ہے۔ ایسے میں بلوچستان کے ایک نوجوان نے کیلے کے پتوں سے قدرتی فائبر تیار کر کے نہ صرف ایک نئی راہ دکھائی بلکہ اپنی تحقیق کے ذریعے عالمی سطح پر پاکستان کا نام بھی روشن کیا ہے۔ بلوچستان سے تعلق رکھنے والے میکینیکل انجینیئر محمد فراز کی تحقیق کو جرمنی میں منعقد ہونے والے ایک بین الاقوامی مقابلے میں ’گرین فائبر ایوارڈ‘ سے نوازا گیا ہے۔ ان کی تحقیق کا بنیادی مقصد کیلے کے ان پتوں کو کارآمد بنانا ہے جو عموماً ضائع کر دیے جاتے ہیں اور کسی صنعتی استعمال میں نہیں لائے جاتے۔ محمد فراز نے 2022 میں اس منصوبے پر کام کا آغاز کیا اور کیلے کے پتوں سے ریشے نکالنے اور انہیں فائبر میں تبدیل کرنے کے لیے ’متعدد مشینیں خود ڈیزائن اور تیار‘ کیں۔ ان کا کہنا ہے کہ پاکستان قدرتی وسائل اور فائبرز سے مالا مال ملک ہے لیکن ان میں سے بیشتر ابھی تک صنعتی استعمال میں نہیں لائے گئے۔ محمد فراز نے انڈپینڈنٹ اردو سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ’میں نے سوچا کہ ایسے قدرتی فائبرز کو نئی زندگی دی جائے جو اب تک نظر انداز ہوتے رہے ہیں۔ میرا مقصد ماحول دوست مواد تیار کرنا ہے جو مستقبل میں پلاسٹک کا مؤثر متبادل بن سکے۔‘ محمد فراز کے مطابق ان کی تحقیق کا اگلا مرحلہ گاڑیوں کی صنعت کے لیے قدرتی فائبر پر مشتمل مرکب مواد (Composite Materials) تیار کرنا ہے جو وزن میں ہلکے، مضبوط اور ماحول دوست ہوں۔ ’دنیا بھر میں آٹوموٹیو انڈسٹری پلاسٹک کے متبادل تلاش کر رہی ہے۔ اگر قدرتی فائبر کو مؤثر انداز میں استعمال کیا جائے تو یہ نہ صرف ماحول کو محفوظ بنا سکتا ہے بلکہ صنعتی ترقی کے نئے دروازے بھی کھول سکتا ہے۔‘ اس عالمی مقابلے میں دنیا کے سو سے زائد تحقیقی اداروں، کمپنیوں اور جامعات نے حصہ لیا۔ مزید پڑھ اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field) اس منصوبے سے وابستہ ڈائریکٹر نیچلر فائبر کمپنی محمد فواد فاروق کا کہنا ہے کہ قدرتی فائبر سے بنی مصنوعات مستقبل کی ضرورت بن سکتی ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ ’پاکستان میں پہلی مرتبہ قدرتی فائبر پر مبنی مصنوعات کی تیاری پر کام کیا جا رہا ہے۔ ہم فائبر کی مدد سے گاڑیوں کے پارٹس، جوتے، بیگز اور دیگر مصنوعات تیار کر رہے ہیں جو مضبوط ہونے کے ساتھ ساتھ ماحول دوست بھی ہیں۔‘ تحقیق کے نگران ڈاکٹر قاسم صدیقی کے مطابق اس منصوبے کی ایک اہم خصوصیت یہ ہے کہ کیلے کے فائبرز کو ’یک رُخی ساخت‘(Uni-directional Structure) دی گئی ہے جس سے ان کی مضبوطی اور کارکردگی میں نمایاں اضافہ ہوتا ہے۔ ’ہم نے اپنی مشینری کے ذریعے قدرتی فائبرز کو ایک منظم ساخت دی ہے۔ یہ تحقیق نہ صرف ماحول دوست ٹیکنالوجی کے فروغ میں مددگار ثابت ہو سکتی ہے بلکہ پاکستان میں قدرتی وسائل پر مبنی نئی صنعتوں کے قیام کا ذریعہ بھی بن سکتی ہے۔‘ ماہرین کے مطابق اگر ایسی تحقیقات کی حوصلہ افزائی کی جائے تو پاکستان نہ صرف ماحول دوست مصنوعات کی عالمی منڈی میں اپنا مقام بنا سکتا ہے بلکہ زرعی فضلے کو قیمتی صنعتی خام مال میں تبدیل کرکے معیشت کو بھی فائدہ پہنچا سکتا ہے۔ پاکستان بلوچستان تحقیق ٹیکنالوجی بلوچستان سے تعلق رکھنے والے میکینیکل انجینیئر محمد فراز کی تحقیق کو جرمنی میں منعقد ہونے والے ایک بین الاقوامی مقابلے میں ’گرین فائبر ایوارڈ‘ سے نوازا گیا ہے۔ عامر باجوئی سوموار, جولائی 6, 2026 – 09: 00 Main image:

میکینیکل انجینیئر محمد فراز کو جرمنی میں ایک بین الاقوامی مقابلے میں ’گرین فائبر ایوارڈ‘ دیا گیا (عامر باجوئی)

ٹیکنالوجی related nodes: بدین: کیلے کے تنے سے فائبر بنانے کے لیے ’ماحول دوست‘ مشینیں نصب گندم کے تنکوں سے فن پارے بنانے والے عابد شاہ سے ملیے فیصل آباد کی مشینی جلیبیاں جو چار ماہ تک ’تازہ‘ رہتی ہیں SEO Title: بلوچستان: کیلے کے پتوں سے فائبر بنانے والے نوجوان کے لیے عالمی ایوارڈ copyright: show related homepage: Hide from Homepage

Read full story on Independent Urdu

RELATED ARTICLES

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

- Advertisment -
Google search engine

Most Popular

Recent Comments