68.6 F
Pakistan
Wednesday, April 15, 2026
HomeBreaking News”بریک ٹائم“

”بریک ٹائم“

بچپن کی یادیں عجیب ہوتی ہیں۔ ہم جب چھوٹے ہوتے تھے تو گلی محلّوں میں ”چھپن چھپان“کھیلنا ہمارا پسندیدہ مشغلہ تھا۔ دوڑتے، چھپتے، ایک دوسرے کو ڈھونڈتے اور جب سانس پھول جاتی تو خود ہی کہہ دیتے: بس! بریک ٹائم! ۔ اس وقفے میں نہ کوئی ہار مانتا تھا، نہ جیت طے ہوتی تھی،صرف سانس بحال کی جاتی تھی تاکہ دوبارہ اسی شدت سے کھیل شروع کیا جا سکے۔آج اگر عالمی سیاست کو اسی کھیل کی نظر سے دیکھا جائے تو ایک دلچسپ مماثلت سامنے آتی ہے۔ امریکہ، ایران اور اسرائیل کے درمیان جاری کشیدگی اور حالیہ مذاکرات بھی کسی حد تک اسی ”بریک ٹائم“ کی مانند محسوس ہوتے ہیں۔ بظاہر یہ سفارتی کوششیں امن کے قیام کے لیے ہوتی ہیں، لیکن حقیقت میں اکثر یہ وقتی وقفہ ہوتا ہے،ایک ایسا وقفہ جس میں فریقین اپنی پوزیشن مضبوط کرتے ہیں، حکمتِ عملی ترتیب دیتے ہیں اور اگلے مرحلے کی تیاری کرتے ہیں۔حالیہ صورتحال میں امریکہ کا کردار خاصا اہم ہے، مگر یہ براہِ راست جنگ میں مکمل فریق کے طور پر نظر نہیں آتا۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ امریکہ ایک ثالث یا یوں کہیں کہ ”ریفری” کا کردار ادا کر رہا ہے، جو وقتی طور پر کھیل کو روک کر حالات کو قابو میں رکھنا چاہتا ہے۔ لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا یہ واقعی امن کی کوشش ہے یا صرف ایک حکمت عملی؟دوسری طرف ایران اور اسرائیل کے درمیان کشیدگی دراصل اس تنازعے کا اصل مرکز ہے۔ دونوں ممالک ایک دوسرے کو اپنے وجود کے لیے خطرہ سمجھتے ہیںاور یہی وجہ ہے کہ ان کے درمیان کشمکش مسلسل جاری رہتی ہے۔ اسرائیل جو اپنی عسکری برتری اور تیز ردعمل کے لیے جانا جاتا ہے، اکثر مواقع پر پیش قدمی کرتا ہے، جبکہ ایران بالواسطہ یا براہِ راست جواب دینے کی حکمتِ عملی اپناتا ہے۔ایسے میں امریکہ کی جانب سے مذاکرات کی کوششیں بظاہر جنگ کو روکنے کے لیے ہوتی ہیں، لیکن یہ بھی ممکن ہے کہ یہ صرف ایک ”وقفہ” ہو،جیسے بچپن کے کھیل میں سانس بحال کرنے کے لیے لیا جاتا تھا۔جب اسرائیل خود کو دوبارہ تیار محسوس کرے گا، تو وہ نئے جذبے اور توانائی کے ساتھ دوبارہ کارروائی کر سکتا ہے۔یہ صورتحال ہمیں یہ سوچنے پر مجبور کرتی ہے کہ عالمی سیاست میں ”امن“ اکثر مستقل حالت نہیں بلکہ ایک عارضی مرحلہ ہوتا ہے۔ طاقتور ممالک اپنے مفادات کے مطابق جنگ اور امن کے درمیان توازن قائم رکھتے ہیں۔ مذاکرات، معاہدے اور جنگ بندی اکثر ایک بڑی حکمتِ عملی کا حصہ ہوتے ہیں، نہ کہ حتمی حل۔مجھے یوں محسوس ہوتا ہے ، جیسے بچپن کے کھیل میں بریک ٹائم کھیل کا اختتام نہیں ہوتا تھا بلکہ ایک نئی شروعات کا پیش خیمہ ہوتا تھا، اسی طرح امریکہ، ایران اور اسرائیل کے درمیان حالیہ مذاکرات بھی شاید کسی مستقل امن کا نہیں بلکہ ایک نئے مرحلے کا آغاز ہیں۔ اصل کھیل ابھی ختم نہیں ہوا،صرف کچھ دیر کے لیے رکا ہے۔اس میں کوئی دورائے نہیں کہ امریکہ سپر پاور ہے ،اسرائیل کی پشت پر امریکہ کھڑا ہے لیکن دوسری طرف دیکھا جائے تو ایران کوئی کمزور ملک نہیں۔ اس جنگ میںاسے شدید فوجی نقصان پہنچا ہے، لیکن اس وقت ایران کے پاس کے آبنائے ہرمز کی شکل میں ایک طرح کا ”ایٹم بم ” موجود ہے۔وزیر اعظم پاکستان میاں محمد شہباز شریف نے کہا ہے: اسلام آباد کی میزبانی میں ہونے والے امریکہ اور ایران کے درمیان امن مذاکرات معاہدہ نہ ہونے کے باوجود ختم نہیں ہوئے بلکہ فی الحال تعطل کا شکار ہیں۔سننے میں جو کچھ آ رہا ہے، وہ کچھ قابل فہم ہے، کچھ ناقابل فہم۔ کہا جاتا ہے کہ امریکہ اور اسرائیل سودے بازی پہ آمادہ ہیں۔ پس پردہ بات چیت کا عمل جاری ہے۔ ایرانیوںکو ادراک نہیں۔ قیادت کا قتل بے شک مسئلہ ہے اور سنگین مسئلہ۔ مگر اس سے بڑی بات یہ ہے کہ بپھرے ہوئے ہاتھی سے اپنے عوام اور ملک کو محفوظ رکھا جائے۔ایرانی مذاکرات کار معاشرے کے مزاج، سیاست اور معیشت کی حرکیات سے آشنا ہیں۔ بازار ٹھنڈے پڑے ہیں۔ سرمایہ کار وںنے پیسہ روک لیا یا بیرونِ ملک منتقل کر رہے ہیں۔ معاشی سرگرمیاں فروغ نہ پائیں گی تو عوام کوکیا کھلائیں گے ، مہنگائی بڑھے گی تو بھوک اور مایوسی بڑھتی رہے گی۔ پہلے سے بے دل قوم اور بھی بے دل ہوتی جائے گی۔

Read full story on Nai Baat

RELATED ARTICLES

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

- Advertisment -
Google search engine

Most Popular

Recent Comments