انٹرنیشنل کرکٹ کونسل (آئی سی سی) کے اینٹی کرپشن یونٹ کے سربراہ اینڈریو ایپ گریو نے ریٹائرڈ کھلاڑیوں پر مشتمل لیجنڈز لیگز کو کرکٹ کے لیے ’حقیقی طور پر ایک غیر واضح معاملہ‘ قرار دیتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ ایسی غیر منظور شدہ لیگز کھیل کی ساکھ کے لیے خطرہ بن سکتی ہیں۔ کرک انفو کو انٹرویو میں اینڈریو ایپ گریو سے سوال کیا گیا کہ کیا ریٹائرڈ کھلاڑیوں کی لیگز آئی سی سی کے لیے دردِ سر بن گئی ہیں؟ انہوں نے کہا کہ صورتحال پیچیدہ ہے کیونکہ ان میں سے بہت سی لیگز کو باقاعدہ منظوری حاصل نہیں ہوتی اور نہ ہی آئی سی سی کی جانب سے ’نو آبجیکشن سرٹیفکیٹ‘ (این او سی) جاری کیا جاتا ہے، جبکہ بعض لیگز کو متعلقہ ڈومیسٹک بورڈز کی منظوری حاصل ہوتی ہے۔ ان کے مطابق مسئلہ اس لیے بھی پیدا ہوتا ہے کہ ان لیگز میں کھیلنے والے بہت سے کھلاڑی کرکٹ کے موجودہ اینٹی کرپشن نظام کے دائرہ کار میں شامل نہیں ہوتے۔ تاہم ان میں کئی ایسے سابق کھلاڑی بھی شامل ہوتے ہیں جو شائقین کے لیے انتہائی مقبول اور معروف نام ہیں۔ ایپ گریو نے کہا کہ اس معاملے میں ایک طرف ماضی کے مقبول کھلاڑیوں کو دوبارہ کھیلتے دیکھنے کی شائقین کی دلچسپی ہے، جبکہ دوسری جانب ان لیگز سے وابستہ ممکنہ خطرات کو بھی نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔ انہوں نے کہا کہ لیجنڈز لیگز کے جاری رہنے سے کرکٹ کی ساکھ کو نقصان پہنچنے کا امکان موجود ہے، تاہم ان میں سے بعض مقابلوں کو نمائشی یا تفریحی طرز کی کرکٹ کے طور پر بھی دیکھا جاسکتا ہے۔ آئی سی سی کے اینٹی کرپشن سربراہ نے 2024 میں سری لنکا میں ہونے والی ایک لیجنڈز لیگ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ وہاں کرپشن کے الزامات سامنے آئے تھے اور ٹیم مالکان کے خلاف فردِ جرم عائد کی گئی تھی۔ ان کے مطابق اس مثال سے واضح ہوتا ہے کہ ایسی لیگز میں کرپشن کے خطرے کو مکمل طور پر نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔ ایپ گریو نے کہا کہ ضروری ہے کہ شائقین اور متعلقہ حلقے سرکاری کرکٹ کے ڈھانچے اور ریٹائرڈ کھلاڑیوں کی لیگز کے درمیان واضح فرق کو سمجھیں۔ ان کے مطابق لیجنڈز لیگز کو فرنچائز کرکٹ، آئی سی سی ایونٹس یا بھارت کی رنجی ٹرافی جیسے باقاعدہ مقابلوں کے برابر نہیں سمجھا جانا چاہیے۔ انہوں نے اینٹی کرپشن یونٹ کی سرگرمیوں کے بارے میں بتایا کہ ادارے نے اب تک 333 دو طرفہ بین الاقوامی میچز کا احاطہ کیا ہے اور اینٹی کرپشن قوانین کی خلاف ورزیوں سے متعلق 28 الزامات عائد کیے ہیں۔ ایپ گریو نے کہا کہ اب پہلے کے مقابلے میں زیادہ کھلاڑی کرپشن کے حوالے سے ہونے والی پیشکشوں یا رابطوں کی اطلاع دے رہے ہیں۔ ان کے مطابق اینٹی کرپشن یونٹ کی کوشش رہی ہے کہ کھلاڑیوں میں اعتماد پیدا کیا جائے تاکہ وہ کسی بھی مشکوک رابطے کی اطلاع دینے سے نہ گھبرائیں۔ انہوں نے کہا کہ ماضی میں اینٹی کرپشن نظام کو کرکٹ میں صرف کارروائی کرنے والے ادارے کے طور پر دیکھا جاتا تھا، تاہم اب توجہ کھلاڑیوں کو تعلیم دینے، ان کی مدد کرنے اور ان میں اعتماد پیدا کرنے پر بھی مرکوز ہے۔ اینڈریو ایپ گریو کے مطابق کھلاڑی کرپشن کے حوالے سے ایک حساس اور کمزور پوزیشن میں ہوسکتے ہیں، اس لیے اینٹی کرپشن یونٹ کی ذمہ داری ہے کہ انہیں آگاہی، رہنمائی اور مدد فراہم کرے تاکہ کھیل کو کرپشن سے محفوظ رکھا جاسکے۔



