65.6 F
Pakistan
Wednesday, October 7, 2026
HomeTechnologyچاند کے پراسرار غار کی تلاشی: ناسا کی نایاب مشن کی حمایت

چاند کے پراسرار غار کی تلاشی: ناسا کی نایاب مشن کی حمایت

چاند کی سطح پر دکھائی دینے والے کچھ گڑھے بظاہر معمولی نظر آتے ہیں، لیکن ان کے نیچے موجود دنیا اب بھی سائنس دانوں کے لیے ایک راز ہے۔ ایسے ہی ایک گڑھے کے بارے میں اب یہ جاننے کی کوشش کی جا رہی ہے کہ آیا یہ چاند کے اندر موجود کسی قدیم زیرِ زمین غار یا لاوا ٹیوب کا راستہ ہے۔ ناسا نے اس مقصد کے لیے ایک نئے تحقیقی منصوبے کی حمایت کی ہے، جس کے تحت چاند کے مشہور میریئس ہِلز پٹ کا براہِ راست جائزہ لیا جائے گا۔ اس منصوبے کا نام ’’جِم لی‘‘ ہے، جس کا مکمل نام ’’جیو فزیکل انویسٹی گیشن آف دی میریئس ہِلز پٹ لاوا ٹیوب اینڈ انٹیریئر‘‘ ہے۔ یہ منصوبہ پلینٹری سائنس انسٹی ٹیوٹ (پی ایس آئی) کی قیادت میں ناسا کے ’’پے لوڈز اینڈ ریسرچ انویسٹی گیشنز آن دی سرفیس آف دی مون‘‘ پروگرام کے تحت تیار کیا جا رہا ہے۔ مشن کا مرکز چاند کے قریب والے حصے میں واقع میریئس ہِلز پٹ ہے، جو ایک قدیم آتش فشانی علاقے میں موجود ہے۔ یہ گڑھا تقریباً 34 میٹر گہرا جبکہ 65 بائی 90 میٹر چوڑا ہے۔ سیٹلائٹ سے حاصل ہونے والی تصاویر نے اس گڑھے کے وجود کی تصدیق کر دی تھی، تاہم اب تک سائنس دان یہ ثابت نہیں کر سکے کہ آیا اس کے نیچے یا اس سے آگے کوئی وسیع زیرِ زمین غار موجود ہے یا نہیں۔ ’جملی‘ کا بنیادی مقصد اسی سوال کا جواب تلاش کرنا ہے۔ اس کے لیے مشن میں مختلف سائنسی آلات استعمال کیے جائیں گے، جو چاند کی سطح سے گڑھے اور اس کے اردگرد کے زیرِ زمین حصے کا جائزہ لیں گے۔ اس منصوبے میں زمین کے اندر موجود ساخت کا پتا لگانے والا ریڈار، زلزلہ پیما سینسرز اور کششِ ثقل کی پیمائش کرنے والا آلہ شامل ہوگا۔ اس کے علاوہ کیمروں کی مدد سے چاند کی سطح اور گڑھے کی کھلی ہوئی اندرونی دیواروں کی تصاویر بھی حاصل کی جائیں گی۔ سائنس دان ان تمام آلات سے حاصل ہونے والے ڈیٹا کو ملا کر یہ جاننے کی کوشش کریں گے کہ آیا میریئس ہِلز پٹ کے نیچے کوئی خالی جگہ یا زیرِ زمین راستہ موجود ہے۔ خاص طور پر ان کی توجہ اس بات پر ہوگی کہ آیا یہ گڑھا کسی قدیم لاوا ٹیوب سے جڑا ہوا ہے۔ پلینٹری سائنس انسٹی ٹیوٹ کی ڈائریکٹر اور چیف ایگزیکٹو آفیسر امانڈا ہینڈرکس نے کہا کہ ’جملی‘ اسی نوعیت کی اہم سائنسی تحقیق کی نمائندگی کرتا ہے جس کے لیے ادارہ قائم کیا گیا تھا۔ ان کے مطابق سائنس دانوں نے مدار سے اس سوال کا مطالعہ کیا ہے اور اب اسے براہِ راست چاند کی سطح پر جا کر جانچنے کا طریقہ تیار کیا گیا ہے۔ اس منصوبے کے سائنس دان پُتزگ کے مطابق فعال زلزلہ جاتی طریقوں کو دوبارہ سیاروی سائنس میں استعمال کرنا ان کی طویل عرصے سے خواہش رہی ہے۔ چاند پر اس نوعیت کے فعال زلزلہ جاتی سروے آخری مرتبہ اپولو مشنز کے دور میں کیے گئے تھے۔ ان کے مطابق زلزلہ جاتی پیمائش کو زیرِ زمین ریڈار اور کششِ ثقل کی پیمائش کے ساتھ استعمال کرنے سے چاند کی سطح کے نیچے موجود ساخت کو زیادہ بہتر انداز میں سمجھنے میں مدد مل سکتی ہے، جس میں میریئس ہِلز پٹ سے دور تک پھیلی ممکنہ لاوا ٹیوب کی تلاش بھی شامل ہے۔ لاوا ٹیوبیں چاند کے اس دور میں وجود میں آئیں جب وہاں آتش فشانی سرگرمیاں زیادہ تھیں۔ اربوں سال پہلے بہنے والے لاوے کے نتیجے میں زیرِ زمین سرنگ نما ڈھانچے بن سکتے ہیں، جن میں سے کچھ وقت کے ساتھ مضبوط اور محفوظ زیرِ زمین راستوں کی شکل اختیار کر گئے ہوں گے۔ سائنس دانوں کے لیے ایسی ممکنہ لاوا ٹیوبیں صرف چاند کی قدیم تاریخ سمجھنے کے لیے اہم نہیں بلکہ مستقبل کی انسانی موجودگی کے حوالے سے بھی دلچسپی رکھتی ہیں۔ چاند کی سطح پر درجہ حرارت میں شدید اتار چڑھاؤ، چھوٹے خلائی ذرات کی ٹکر اور سورج و کائناتی تابکاری جیسے سخت حالات پائے جاتے ہیں، جبکہ زیرِ زمین محفوظ ڈھانچے ان اثرات سے نسبتاً بہتر تحفظ فراہم کر سکتے ہیں۔ اگر ’جملی‘ مشن میریئس ہِلز پٹ کے نیچے کسی لاوا ٹیوب کی موجودگی کی تصدیق کرنے میں کامیاب ہو جاتا ہے تو یہ دریافت چاند کی آتش فشانی اور حرارتی تاریخ کو سمجھنے میں اہم معلومات فراہم کر سکتی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ مستقبل میں چاند پر طویل مدتی انسانی مراکز کے لیے قدرتی زیرِ زمین پناہ گاہوں کے امکانات کا جائزہ لینے میں بھی مدد مل سکتی ہے۔

Read full story on Aaj

RELATED ARTICLES

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

- Advertisment -
Google search engine

Most Popular

Recent Comments