مدینہ منورہ کے طیبہ گرڈ اسٹیشن پر ڈرون حملے کے نتیجے میں بجلی کا ایک ٹرانسفارمر عارضی طور پر غیر فعال ہوگیا، تاہم مجموعی بجلی کا نظام معمول کے مطابق رہا۔ اتحادی افواج کے ترجمان میجر جنرل ترکی المالکی نے حملے میں حوثی ملیشیا کے ملوث ہونے کا دعویٰ کیا ہے۔ سعودی عرب کی اتحادی افواج کے ترجمان میجر جنرل ترکی المالکی نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ منگل 29 ستمبر کی صبح 5 بج کر 11 منٹ پر مدینہ منورہ میں طیبہ گرڈ اسٹیشن کو ڈرون حملے کا نشانہ بنایا گیا۔ میجر جنرل ترکی المالکی کے مطابق متعلقہ حکام کی جانب سے کی جانے والی تحقیقات، جمع کیے گئے شواہد اور حملے میں استعمال ہونے والے ڈرون کے ملبے کے تجزیے سے حوثی ملیشیا کے حملے کی منصوبہ بندی اور اس پر عمل درآمد میں ملوث ہونے کی تصدیق ہوئی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ حملے کے نتیجے میں بجلی کا ایک ٹرانسفارمر عارضی طور پر غیر فعال ہوگیا، تاہم بجلی کا مجموعی نیٹ ورک متاثر نہیں ہوا۔ اتحادی افواج کے ترجمان کے مطابق طیبہ گرڈ اسٹیشن شہری بجلی کے اس بنیادی ڈھانچے کا حصہ ہے جو مسجد نبوی ﷺ کو بجلی کی خدمات فراہم کرتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس نوعیت کے شہری انفرا اسٹرکچر کو نشانہ بنانا مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ سمیت مقدس مقامات کو نشانہ بنانے کی حوثی ملیشیا کی کوششوں کا تسلسل ہے۔ میجر جنرل ترکی المالکی نے کہا کہ حملے کے ذریعے دنیا بھر کے لاکھوں مسلمانوں کے جذبات کو مشتعل کرنے کی کوشش کی گئی۔ انہوں نے کہا کہ اتحادی افواج حوثی ملیشیا کو روکنے اور حرمین شریفین کے تحفظ کے لیے ضروری اقدامات جاری رکھیں گی۔ انہوں نے مزید کہا کہ مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ میں زائرین کی سلامتی یقینی بنانے کے لیے بھی اقدامات جاری رکھے جائیں گے۔



