75.5 F
Pakistan
Friday, September 11, 2026
HomePoliticsشیخ چلی کے خواب

شیخ چلی کے خواب

ہم بھی خواب دیکھنے والی قوم بن کر رہ گئے ہیں۔ اب کچھ لوگ کہیں گے پاکستان تو بنا ہی ایک خواب کے نتیجے میں تھا اِس لئے اس کے عوام کا خواب دیکھنا تو بنتا ہے،مگر میں سوچ رہا ہوں خواب اور عمل میں کوئی ربط تو ہونا چاہئے۔بڑے بڑے خواب تو اُس وقت شیخ چلی کے خواب بن جاتے ہیں، جب اُن کے پیچھے عمل اور نیت کا فقدان ہوتا ہے۔ آج کل عوام کو ڈراؤنے خواب آ رہے ہیں اور ان خوابوں کا مآخذ پٹرول ہے جو روزانہ اُن پر بم کی طرح گرتا ہے؛تاہم اُن کے دائمی خواب کچھ اور ہیں۔ ایک صاف ستھرا پُرامن معاشرہ، ایک انصاف کی عملداری کا گہوارہ نظام، رشوت و ظلم سے پاک دفتری ادارے اور جھوٹ، ملمع کاری، منافقت سے مبرّا پاکستان۔ ایسے خوابوں پر جرمانے لگ جانا چاہئیں، کیونکہ بظاہر یہ عام سے خواب ہیں مگر یہ عام سے نہیں ہیں،یہ اتنے نایاب ہیں کہ ان کی تعبیر ملنا آسان نہیں۔حکمرانی کے طرزِ عمل کو ہم ہمیشہ تنقید کا نشانہ بناتے ہیں کیونکہ وہ ان حقیقتوں کے بالکل برعکس ہیں جو ہمارے سماج میں موجود ہیں۔مجھے تو اب وہ منظر خواب لگتا ہے جو میں نے1974ء میں ملتان کے چوک میں اس وقت دیکھا تھا، جب اُس وقت کے وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو صرف چار گاڑیوں کے قافلے میں وہاں سے گذرے تو انہوں نے ہم چند نوجوانوں کو کھڑے دیکھ کر اپنی گاڑی رکوا لی تھی، ہاتھ ملایا تھا اور روانہ ہوگئے تھے۔ آج تو حکمرانوں کا قافلہ گذر رہا ہو تو دور دور تک ہو کا عالم ہوتا ہے اور گاڑیاں اتنی کہ گنی بھی نہیں جاتیں۔ غریب ملک کے اندر جب چالیس گاڑیوں کا تیز رفتار ہوٹر بجاتا قافلہ شاں شاں کرتے گذرتا ہے تو غریبوں کے دِل ویسے ہی دہل جاتے ہیں۔ غریب آدمی جب تین سو ستر روپے لیٹر پٹرول ڈلواتا ہے تو کوشش کرتا ہے، زیادہ دور نہ جائے،لیکن اسی غریب ملک میں جب پٹرول و ڈیزل دھوئیں کی طرح اڑایا جاتا ہے تو خواب واقعی چکنا چور ہو جاتے ہیں۔ ویسے اس ملک میں خوابوں کی تجارت کی بھی تو بے تحاشہ بڑھ گئی ہے، ہر حاکم نے خواب بیچے ہیں اور ہر شاعر نے خوابوں کے چورن سے عوام کے اندر بدہضمی پیدا کی ہے۔ سب سے بڑا خواب ذوالفقار علی بھٹو نے بیچا تھا۔ بہت زبردست خواب تھا۔ روٹی، کپڑا اور مکان کا خواب، یعنی سارے مسئلے حل، یعنی روٹی کھاؤ، کپڑا پہنو اور مکان میں موجیں کرو۔اس خواب سے ایک عرصے تک عوام کو پاگل بنایا گیا۔ یہ تینوں چیزیں ملنی تو کیا تھیں، عوام کے لئے ناپید ہوتی چلی گئیں۔وقت گزرتے گزرتے بات بجلی کے اوپر آ ٹکی۔ گذشتہ انتخابات سے پہلے مفت بجلی کے چکر چلائے گئے۔مسلم لیگ ن اور پیپلزپارٹی دونوں ہی پیچھے نہ رہیں۔ غریبوں کی دُکھتی رگ پر ہاتھ رکھنے کا اس سے بڑا طریقہ اور کوئی نہیں تھا، پھر جو اِن خوابوں کی تعبیر الٹی نکلی تو عوام کی بھی چیخیں نکل گئیں۔ رونا دھونا شروع ہو گیا، بلوں پر خود کشیاں ہونے لگیں۔شیخ چلی کے خواب کا جو حشر ہونا تھا وہ ہوا۔ اب لگتا ہے ایک اور خواب دکھانا ابھی باقی ہے، سو اگلے انتخابات پر چل ہی جائے گا۔ وہ خواب ہے مفت پٹرول دینے کا وعدہ،جب جلسوں میں یہ شعبدہ باز سیاستدان یہ کہیں گے کہ اقتدار میں آ کر سب کو مفت پٹرول دیں گے تو بلے بلے ہو جائے گی۔ لوگ بھنگڑے ڈالیں گے اور شیخ چلی بن کر یہ سوچتے رہیں گے کہ ساڈا لیڈر آوے گا تے مفت پٹرول لیاوے گا۔اسی پاواں گے لڈیاں، مگر خوابوں اور وعدوں کا ٹریک ریکارڈ بتاتا ہے کہ اس وعوے کا حشر نشر بھی وہی ہو گا جو اب تک کے تمام وعدوں کا ہوا ہے۔ہم خواب دیکھتے رہ جائیں گے اور آگے سے ہمیں انگوٹھے دکھائے جائیں گے۔میں نے یہ نعرہ شاید پینتالیس سال پہلے سنا تھا کہ عوام کو سستا اور فوری انصاف ان کی دہلیز پر فراہم کیا جائے گا۔پینتالیس سال پہلے تو شاید انصاف کی صورت ِحال آج سے کہیں بہتر تھی۔ یہ خواب، تو اب ڈراؤنا خواب بن چکا ہے۔ اب تو یہ بات ضرب المثل ہے کہ کچہری اور ہسپتال سے اللہ ہر بندے کو بچائے۔خواب دکھانے والے اب بھی باز نہیں آتے، آج بھی یہ دعدے کئے جاتے ہیں انصاف کی فراہمی کو یقینی بنا دیا گیا ہے۔دنیا میں 129 ویں نمبر پر آنے والی ہماری عدلیہ یہ ثابت کرنے پر تلی ہوئی ہے کہ اِس ملک میں حصولِ انصاف دیوانے کاہی نہیں بلکہ شیخ چلی کا خواب بھی ہے۔یہ کیسی صورتِ حال ہے کہ جس پر کسی کو شرمندگی ہے اور نہ ملال۔ سب اپنی دنیا میں مگن ہیں۔ سب سہولتوں،مراعات اور شاہانہ پروٹوکول کے باوجود ڈیلیور کرنے کو تیار نہیں۔ خوابوں کی ہمارے ہاں سینکڑوں قسمیں ہیں اس لئے اشرافیہ کے سرداروں کو یہ معلوم ہے کہ ایک خواب پورا نہیں ہو گا تو دوسرے خواب کا منظر سامنے رکھ دیں گے۔خوشحالی کے خواب دکھانے والے ابھی شرم سے پانی پانی نہیں ہوئے۔ وہ آج بھی یہی کہتے ہیں ملک مشکل دور سے نکل آیا اب آگے خوشحالی ہی خوشحالی ہے۔ ڈھٹائی کا یہ عالم ہے کہ جس دور میں ٹیکس اکٹھے نہیں ہو رہے۔ نظام بیٹھ گیا ہے اور پٹرولیم لیوی لگا کر نظام چلایا جا رہا ہے۔اس دور میں بھی یہ چورن بڑی کامیابی سے بیچا جا رہا ہے کہ ملک اب اُڑان بھرنے والا ہے۔ارے بھائی یہ خوابوں کے بیوپاری نہیں ہاریں گے،عوام کی البتہ بس ہو جائے گی۔ گلگت بلتستان میں ٹرافی ہنٹنگ، استور مارخور کا پرمٹ 3 لاکھ 56 ہزار ڈالر میں نیلام اس وقت عوام کو یوں لگ رہا ہے کہ جیسے وہ کسی خواب کی اُمید پر سوئیں گے توکوئی ڈراؤنا خواب انہیں ہڑ بڑا کے نیند سے بیدار کر دے گا۔ ویسے ہم شعیب بن عزیز کے اس شعر کی طرح خواب دیکھنے کے عادی ہیں: ہم نیند کے شوقین زیادہ نہیں لیکن کچھ خواب نہ دیکھیں تو گذارا نہیں ہوتا بات تو سچ ہے جس معاشرے میں بیدار آنکھوں کے ساتھ کوئی بھی اچھا منظر دیکھنے کی اُمید ختم ہو جائے اس معاشرے میں نیند ہی ایک ایسا سہارا رہ جاتی ہے جو چند گھنٹوں کے لئے کسی خوفناک وادی میں لے جائے۔ایک عام آدمی کے پاس نیند ہی مسائل سے چند لمحوں کی نجات کا ذریعہ رہ جاتی ہے۔ مجھے تو کبھی کبھی یہ خیال بھی آتا ہے کہ ہر شے پر ٹیکس لگانے کے جنوں میں مبتلا شاہانہ نظام کے علمبردار کہیں خواب دیکھنے پر بھی ٹیکس نہ لگا دیں۔یہ بات تو عجیب لگتی ہے لیکن عمل سے بعید نہیں۔اے لوگو! سنبھل کے خواب دیکھا کرو کیونکہ جب خواب دیکھتے ہو تو اگلے دن یہ چاہتے ہو ان خوابوں کی تعبیر مل جائے، مگر شیخ چلی بہت پہلے کہہ گیا ہے میرے خوابوں کی تعبیر دنیا میں دستیاب ہی نہیں اس کے لئے اگلے جہاں کا سفر ضروری ہے۔خوابوں کی مارے عوام کو جلد از جلد کوئی نیا خواب دکھایا جائے تاکہ اُن کے چار دن مزید اچھے گذر جائیں۔ قومی ہاکی ٹیم کے سابق کپتان خالد محمود انتقال کر گئے ٭٭٭٭٭ _ final

Read full story on Daily Pakistan

RELATED ARTICLES

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

- Advertisment -
Google search engine

Most Popular

Recent Comments