73 F
Pakistan
Saturday, June 13, 2026
HomeCrime5000 سال پرانے ممی سے ملنے والے خمیر سے روٹی تیار، سائنسدان...

5000 سال پرانے ممی سے ملنے والے خمیر سے روٹی تیار، سائنسدان حیران

سائنسدانوں نے اٹلی اور آسٹریا کی سرحد کے قریب برف میں جمی ہوئی ایک 5000 سال پرانی انسانی ممی سے حاصل ہونے والے خمیر کی مدد سے کھانے والی روٹی تیار کر لی ہے۔ یہ ممی1991 میں اٹلی اور آسٹریا کی سرحد کے قریب الپس کے پہاڑوں سے ملی تھی جسے اوٹزی دی آئس مین کا نام دیا گیا تھا اور اسے دنیا کی سب سے محفوظ ترین قبل از تاریخ انسانی باقیات میں شمار کیا جاتا ہے۔ اس ممی پر تحقیق کرنے والے ماہرین نے نہ صرف اس خمیر سے روٹی بنائی ہے بلکہ اب وہ اس سے بیئر تیار کرنے کا ارادہ بھی رکھتے ہیں۔ اوٹزی کی لاش تقریباً 5300 سال تک برف میں محفوظ رہی اور اس دریافت کے بعد سائنسدان مسلسل اس پر تحقیق کر رہے ہیں تاکہ قدیم انسانوں کی زندگی کے بارے میں بہتر سمجھ حاصل کی جا سکے۔ یوریک ریسرچ کے انسٹی ٹیوٹ فار ممی اسٹڈیز کے سائنسدانوں نے اوٹزی کی باقیات اور اس کے ارد گرد موجود مائیکرو آرگنزمز یعنی چھوٹے جانداروں سے اس زندہ خمیر کو الگ کیا۔ سائنسدانوں نے اوٹزی کی باقیات سے ایسے زندہ خمیر کو الگ کیا جو طویل عرصے سے انتہائی سرد ماحول میں موجود رہ کر بھی زندہ رہا تھا۔ اسی خمیر کو بعد میں روٹی بنانے کے عمل میں استعمال کیا گیا۔ جب اس ممی پر ریسرچ کرنے والے مائیکروبائیولوجسٹ محمد سرحان سے پوچھا گیا کہ کیا وہ ممی پر خمیر پا کر حیران ہوئے تو انہوں نے بتایا کہ ہم بہت زیادہ حیران ہوئے کیونکہ اوٹزی کو منفی چھ ڈگری سیلسیس درجہ حرارت پر محفوظ رکھا گیا ہے اور ایسے حالات میں اتنے طویل عرصے تک ان چھوٹے جانداروں کے زندہ رہنے کی بالکل امید نہیں ہوتی۔ یہ خمیر اس لیے بھی منفرد ہے کیونکہ یہ بہت زیادہ سرد درجہ حرارت میں رہنے کا عادی ہو چکا ہے۔ اس تجربے کے دوران ماہرین نے پہلی بار اس قدیم خمیر کو روٹی پکانے کے لیے استعمال کیا۔ محمد سرحان نے اعتراف کیا کہ شروع کے نتائج بہت اچھے نہیں تھے لیکن یہ ایک بہترین شروعات تھی۔ انہوں نے کہا کہ آخر کار ہمیں ایک مکمل آٹا مل گیا جو چوبیس گھنٹوں کے اندر بالکل عام خمیر کی طرح پھول گیا۔ ہم نے اس سے بہت اچھا آٹا تیار کیا۔ انہوں نے ہنستے ہوئے یہ بھی کہا کہ میں نے اس سے پہلے کبھی روٹی نہیں پکائی تھی اور یہ بات نظر بھی آئی۔ کیونکہ یہ تجربہ ابھی اپنے ابتدائی مراحل میں ہے اس لیے اس روٹی میں مزید بہتری لانے کی ضرورت ہے۔ روٹی بنانے کے کامیاب تجربے کے بعد اب اس خمیر کا اگلا بڑا استعمال بیئر بنانا ہو سکتا ہے۔ محمد سرحان کے مطابق ریسرچ ٹیم نے اس منفرد خیال پر جرمنی کی مشہور وینہینسٹیفن بروری کے ماہرین سے بات چیت بھی شروع کر دی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ روٹی بنانا ان واضح طریقوں میں سے ایک ہے جس پر ہم غور کر رہے ہیں جبکہ دوسرا طریقہ بیئر بنانا ہے اور اس کے لیے ہم نے وینہینسٹیفن کے ماہرین سے صلاح مشورہ کر لیا ہے۔ اوٹزی کی دریافت کے بعد سے سائنسدان مسلسل اس کا مطالعہ کر رہے ہیں تاکہ پرانے دور کے انسانوں اور ان کے رہن سہن کے بارے میں نئی معلومات حاصل کی جا سکیں۔

Read full story on Aaj

RELATED ARTICLES

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

- Advertisment -
Google search engine

Most Popular

Recent Comments