امریکی ریاست فلوریڈا کے 18 سالہ ناتھن تھامس نے دنیا کے سب سے کم عمر مرد پروفیسر بن کر گنیز ورلڈ ریکارڈ اپنے نام کر لیا ہے۔ عام طور پر 18 سال کی عمر میں نوجوان یونیورسٹی میں داخلے کی تیاری کر رہے ہوتے ہیں یا اپنی تعلیم کے ابتدائی مرحلے میں ہوتے ہیں، لیکن امریکا کے نوجوان ناتھن تھامس نے اسی عمر میں یہ اعزاز حاصل کرکے دنیا کو حیران کردیا ہے۔ فلوریڈا سے تعلق رکھنے والے ناتھن تھامس نے 18 سال اور 346 دن کی عمر میں میامی ڈیڈ کالج میں انجینئرنگ انسٹرکٹر کے طور پر تدریس کا آغاز کیا، جس کے بعد ان کا نام گنیز ورلڈ ریکارڈ میں دنیا کے کم عمر ترین مرد پروفیسر کے طور پر درج کیا گیا۔ ان کی کامیابی نے 306 سال پرانا ریکارڈ توڑ دیا جو اس سے پہلے اسکاٹ لینڈ کے مشہور ریاضی دان کولن میک لارین کے پاس تھا۔ کولن میک لارین نے 1717 میں 19 سال کی عمر میں پروفیسر کا عہدہ حاصل کیا تھا۔ ناتھن تھامس کا تعلیمی سفر عام بچوں سے بالکل مختلف اور تیز رفتار رہا ہے۔ انہوں نے محض 10 سال کی عمر میں اسکول کی تعلیم کے ساتھ ساتھ میامی ڈیڈ کالج میں ڈوئل انرولمنٹ پروگرام کے ذریعے داخلہ لیا، جہاں وہ اسکول کی تعلیم کے ساتھ ساتھ کالج کی تعلیم بھی حاصل کرتے رہے۔ 14 سال کی عمر تک ناتھن نے فلوریڈا انٹرنیشنل یونیورسٹی سے الیکٹریکل انجینئرنگ میں بیچلرز اور ماسٹرز دونوں ڈگریاں اعزاز کے ساتھ مکمل کرلیں۔ کچھ سال بعد وہ اسی کالج میں واپس آئے جہاں کبھی وہ خود طالب علم تھے، لیکن اس بار وہ طالب علم نہیں بلکہ استاد کے طور پر موجود تھے۔ اگست 2023 میں ناتھن نے میامی ڈیڈ کالج میں انجینئرنگ کے طلبہ کو پڑھانا شروع کیا، جس میں طلبہ کو سی پروگرامنگ اور کمپیوٹر کے ذریعے مسائل حل کرنے کے طریقے سکھائے جاتے ہیں۔ اپنے ہم عمر یا اپنے سے بڑے طلبہ کو پڑھانے کے بارے میں ناتھن تھامس کا کہنا ہے،”سیکھنے اور پڑھنے کا تعلق عمر سے نہیں بلکہ انسان کے اندر کی لگن اور شوق سے ہوتا ہے۔ کلاس روم میں آنے والے تمام افراد کا ایک ہی مقصد ہوتا ہے، یعنی علم حاصل کرنا، خود کو بہتر بنانا اور آگے بڑھنا۔“ ناتھن بتاتے ہیں کہ ایک استاد کے طور پر ان کے لیے سب سے زیادہ خوشی کا لمحہ وہ ہوتا ہے جب کوئی طالب علم کسی ایسی مشکل بات کو اچانک سمجھ جاتا ہے جو اسے پہلے بہت دشوار لگتی تھی۔ ناتھن کی اس کامیابی میں ان کے خاندانی ماحول کا بھی بڑا ہاتھ رہا ہے، کیونکہ ان کا تعلق انجینئرز کے خاندان سے ہے۔ وہ اپنی ابتدائی کامیابی کا سہرا اپنی والدہ کے سر باندھتے ہوئے کہتے ہیں، ”میری والدہ نے بچپن میں ہی میرے لیے ریاضی کو ایک آسان اور دلچسپ چیز بنا دیا تھا، جس کی وجہ سے سائنس کے بارے میں میری بنیاد بہت مضبوط ہوئی۔“ ناتھن کے ارادے صرف انجینئرنگ اور تدریس تک محدود نہیں ہیں۔ وہ اس وقت پڑھانے کے ساتھ ساتھ میامی یونیورسٹی سے قانون کی ڈگری بھی حاصل کر رہے ہیں جو 2028 میں مکمل ہوگی۔ وہ ٹیکنالوجی اور قانون کی معلومات کو ملا کر نئی سائنسی ایجادات کی قانونی حفاظت کے شعبے میں کام کرنا چاہتے ہیں۔ اس حوالے سے ان کا کہنا ہے، ”انجینئرنگ کی تعلیم کے دوران سوچنے اور مسائل حل کرنے کا جو انداز پیدا ہوتا ہے، وہ قانون پڑھنے میں بھی اتنا ہی کام آتا ہے۔“ ا 10 سال کی عمر میں کالج میں داخلہ لینے سے لے کر 306 سال پرانا عالمی ریکارڈ توڑنے اور اب بیک وقت پڑھانے اور قانون کی اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے تک، ناتھن تھامس نیتھن تھامس کی کہانی صرف ایک عالمی ریکارڈ بنانے تک محدود نہیں بلکہ یہ کم عمری میں محنت، شوق اور تعلیم کے ذریعے حاصل کی جانے والی کامیابی کی مثال بھی ہے۔ 10 سال کی عمر میں کالج شروع کرنے سے لے کر 18 سال کی عمر میں پروفیسر بننے تک ان کا سفر غیر معمولی تعلیمی کامیابی کی عکاسی کرتا ہے۔



