ہماری عمر اوسطاً ساٹھ سال تک ہے۔ مسئلہ یہ ہے کہ ہم دنیا کے ترقی یافتہ ممالک سے اپنی عمر کاموازنہ کریں تو سوال ضرور پیدا ہوتا ہے کہ ہم اپنی زندگی کے قیمتی سال کہاں کھو رہے ہیں؟ عالمی اوسط متوقع عمر تقریباً 73 سال ہے، جبکہ جاپان میں یہ نوے سال کے قریب، جرمنی میں 81 اور برطانیہ جیسے ترقی یافتہ معاشروں میں اس سے بھی بلند ہے۔ پاکستان میں یہ فرق محض ایک عدد نہیں، یہ ہمارے نظامِ صحت، خوراک، ماحول، معیشت، قانون اور طرزِ حکمرانی کی ایک پوری داستان ہے۔ایک صحت مند معاشرے میں شہری کو یہ اطمینان ہونا چاہیے کہ اگر وہ بیمار ہوگا تو اسے معیاری علاج ملے گا، اگر اس کے ساتھ جرم ہوگا تو پولیس اس کی مدد کرے گی، اگر اس کا حق مارا جائے گا تو عدالت اسے انصاف دے گی اور اگر وہ محنت کرے گا تو میرٹ اسے آگے لے جائے گا۔ مگر ہمارے ہاں عام آدمی کو ان بنیادی یقین دہانیوں کے لیے بھی سفارش، تعلق یا پیسے کا سہارا لینا پڑتا ہے۔ملاوٹ صرف دودھ میں پانی ملانے کا نام نہیں۔ یہ دراصل معاشرے کے اجتماعی ضمیر میں ملاوٹ ہے۔ جب دودھ میں غیر معیاری اجزا، مصالحوں میں غیر متعلقہ مواد، گوشت میں مردہ جانور کا گوشت، مشروبات میں غیر معیاری رنگ اور کیمیکل شامل کیے جاتے ہیں تو نقصان صرف ایک صارف کا نہیں ہوتا؛ پوری قوم کی صحت متاثر ہوتی ہے۔ پنجاب فوڈ اتھارٹی کے مطابق خوراک میں ملاوٹ اور جعلی اشیائے خورونوش بنانا قابلِ سزا جرم ہے اور ادارے نے سینکڑوں افراد کو سزائیں بھی دلوائی ہیں۔ مسئلہ یہ ہے کہ کارروائی چند دکانوں تک محدود رہ جائے تو مسئلہ ختم نہیں ہوتا۔اوسط عمر کم ہونےکا مطلب ہے کسی باپ کا اپنے بچوں کے ساتھ مزید پانچ سال رہنا، کسی ماں کا اپنے خاندان کو مزید دس سال دیکھنا، کسی استاد کا مزید پندرہ سال پڑھانا اور کسی مزدور کا اپنے بچوں کی تعلیم کے لیے مزید کچھ سال محنت کرنا۔میرے ایک ملنے والے بزنس مین ڈاکٹر شاہد کے گھر چوری ہوئی۔ تقریباً ڈھائی تین کروڑ روپے کا نقصان ہوا۔ وہ ایف آئی آر درج کرانے گئے تو کبھی ایس ایچ او موجود نہیں، کبھی تفتیشی افسر نہیں۔ وہ سات آٹھ روز چکر لگاتے رہے۔ کچھ دن بعد وہ مجھے مٹھائی کھلاتے نظر آئے تو میں نے مبارک باد دی۔ میں نے سمجھا شاید چور پکڑے گئے ہیں، مال برآمد ہوگیا ہے۔ انہوں نے کہا، نہیں، آج تو ایف آئی آر درج ہوئی ہے۔انہوں نے فرنٹ ڈیسک سے لے کر رپورٹ درج ہونے تک کے مراحل بتائے اور کہا کہ بالآخر ایک صاحب نے پیسے لیے اور رپورٹ درج ہوئی۔ ستم یہ ہے کہ ہم ایٹمی طاقت ہیں، دفاعی اعتبار سے دنیا کی نمایاں طاقتوں میں شمار ہوتے ہیں، ہماری فوج کی پیشہ ورانہ صلاحیت کا دنیا اعتراف کرتی ہے۔ ہمارے فوجی جوانوں نے دہشت گردی کے خلاف بڑی قربانیاں دی ہیںفیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی محنت سے پاکستان کی عزت دنیا بھر میںبڑھی ہے۔ مگر ایک ریاست کی طاقت صرف سرحدوں پر نہیں ناپی جاتی۔ اس کا اصل امتحان یہ بھی ہے کہ اس کا عام شہری اپنے تھانے، ہسپتال، عدالت اور سرکاری دفتر میں خود کو کتنا محفوظ اور باعزت محسوس کرتا ہے۔ملک ایٹمی طاقت ہو اور عام شہری کمزور، انصاف کمزور، اور دودھ خالص نہ ملے، تو ہمیں اپنے نظام پر بھی سوال کرنا ہوگا۔اسٹیبلشمنٹ نے ہمت کی ہے، وہ ملک کو بہتری کی طرف لے جانا چاہتی ہے۔ سندھ میں کسی گھر پر قبضہ ہو تو چھڑایا نہیں جا سکتا ،یہ تو ملک پر قبضہ ہے جسے اسٹیبلشمنٹ واگزار کرانے نکلی ہے۔یہ فیلڈ مارشل کا وژن ہے،قابل تحسین وژن۔عدلیہ کی طرف آئیے۔ جب ایک عام آدمی برسوں عدالتوں کے چکر لگاتا ہے تو اس کے لیے انصاف صرف ایک قانونی اصطلاح نہیں رہتا، وہ اس کی زندگی کا خرچ، وقت، ذہنی سکون اور بعض اوقات پوری عمر بن جاتا ہے۔نظام نے ہماری سیاست کی نرسری بڑی عجیب دی ہے۔ مقامی سطح پر مخالف کو سیاسی میدان سے باہر رکھنے کے لیے پولیس اور انتظامیہ کے استعمال کی شکایات عام ہیں۔ کسی سیاسی حریف کو چار پانچ مقدمات میں الجھا دینا، اسے تھانے اور عدالتوں کے چکر لگوانا، اس کی کاروباری اور سماجی زندگی مشکل بنا دینا،یہ سب جمہوریت کو کمزور کرنے والے رویے ہیں۔میں 2012 میں لندن گیا تو لارڈ نذیر میرے دوست تھے۔ وہ مجھے ہاو¿س آف لارڈز دکھانے لے گئے۔ میں نے دیکھا کہ کوئی وہیل چیئر پر آرہا ہے، کوئی بہت بزرگ ہے، کسی کے ہاتھ میں چھڑی ہے۔ میں نے پوچھا، یہ لوگ اس عمر میں بھی یہاں کیوں آرہے ہیں؟جواب ملا: یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے برطانیہ کے لیے اپنی اپنی فیلڈ میں غیر معمولی خدمات انجام دی ہیں۔ یہ ان خدمات کا اعتراف ہے۔میں سوچنے لگا، ہمارے ہاں خدمت کا معیار کیا ہے؟ یہاں کبھی دولت، کبھی خاندان، کبھی تعلق اور کبھی سیاسی وفاداری اقتدار تک پہنچنے کا راستہ بن جاتی ہے۔ جب سیاست میرٹ کے بجائے سرمایہ اور اثرورسوخ کی محتاج ہوجائے تو پھر ریاست کے ادارے بھی رفتہ رفتہ اسی کلچر سے متاثر ہوتے ہیں۔ہماری آبادی پچیس کروڑ سے تجاوز کرچکی ہے۔ اس میں چند ہزار نہیں، لاکھوں اچھے لوگ ہیں جو قانون پسند ہیں، محنت کرتے ہیں، ٹیکس دیتے ہیں، فوج میں جاتے ہیں، ڈاکٹر بنتے ہیں، استاد بنتے ہیں، کاروبار کرتے ہیں اور ملک چلاتے ہیں۔ مسئلہ یہ ہے کہ چند طاقتور اور قانون شکن عناصر پورے نظام کو یرغمال بنا لیتے ہیں۔ہمیں ایسے تھانے چاہئیں جہاں ایف آئی آر حق سمجھ کر درج ہو، ایسے اسپتال چاہئیں جہاں غریب کو عزت ملے، ایسی عدالتیں چاہئیں جہاں انصاف زندگی کا نصف حصہ نہ لے، ایسی منڈیاں چاہئیں جہاں خوراک میں ملاوٹ جرم سمجھ کر روکی جائے اور ایسی سیاست چاہیے جہاں پیسہ نہیں بلکہ کارکردگی، کردار اور عوامی خدمت امیدوار کی پہچان ہو۔ہمیں صرف عمر بڑھانے کی ضرورت نہیں، صحت مند اور باوقار عمر بڑھانے کی ضرورت ہے۔اگر پاکستان میں ایک عام شہری کو صاف خوراک، صاف پانی، صاف ہوا، بروقت علاج، محفوظ ماحول، میرٹ پر روزگار، پولیس کا تحفظ اور عدالت سے بروقت انصاف ملنے لگے تو شاید ہماری متوقع عمر صرف چند سال نہ بڑھے، زندگی کا معیار بھی بدل جائے۔
یہ نظام پچیس کروڑ عوام کا قاتل ہے
RELATED ARTICLES



