ذی الحج کے مبارک ایام ہو گزرے۔ حجاجِ کرام واپسی کے سفر پر ہیں۔ اللہ امت کے حق میں کی گئی دعائیں قبول فرمائے۔ مظلوم مسلمانوں کی داد رسی ہو۔ ظالم کیفر ِکردار کو پہنچیں۔ ایک قربانی کی بھینس البتہ یاد گار بن کر بچ رہی۔ عجب طرفہ تماشا رہا! بنگلہ دیش میں ایک ابرص (Albino) ہلکے بھورے سے رنگ کی بھینس لائی گئی۔ پیشانی پر لمبے سنہری بال آویزاں تھے۔ البتہ چہرہ اداس، عبوست زدہ (منہ بنانا، چڑچڑا پن)خاموش الجھا الجھا تاثر. .. .اس کا نام ’ڈونلڈ ٹرمپ‘ رکھا گیا تھا جس سے لوگوں میں اسے دیکھنے کی غیر معمولی دلچسپی پیدا ہو گئی۔ یہ ایک نادر بھینس تھی، وضع میں نرالی! بنگلہ دیش حکومت نے اسے مالک سے خرید کر احتیاطاً چڑیا گھر بھجوا دیا۔( شاید نام اور وضع قطع کی بنا پر لائق قربانی نہ سمجھا گیا۔ بلا شبہ یہ چڑیا گھر ہی کا جانور تھا!) زیادہ مشابہت پیشانی پر پڑے ہو بہو ٹرمپی بالوں کی بنا پر تھی۔ گویا حجام واشنگٹن سے آیا ہو۔ اگرچہ اب تو ایران حجامت بنا رہا ہے! چلئے اتنے گھمبیر حالات میں تفریح طبع کے لیے کوئی بہانہ تو بنا۔ فسادِ خلق سے بچنے کو اس کی قربانی بھی رہ گئی! نہ کہیں جہاں میں اماں ملی، جو اماں ملی تو کہاں ملی، میرے جرمِ خانہ خراب کو ترے عفوِ ٹرمپ نواز میں۔ یہ بی این پی کی حکومت تھی تو بچ رہی۔ جماعت اسلامی ہوتی تو قربان ہو جاتی! اب جو ڈھاکہ چڑیا گھر میں مزے سے نہار ہی، خاطر تواضع کروا رہی ہے۔ شاید فلسطینی خون کے دھبوں نے بھورا کر دیا۔ کون سی قیامت ہے بمباریوں سے لے کر فاسفورس، ہمہ نوع کیمیائی مواد حملوں کی جو اہل فلسطین پر آزمائی نہ گئی۔ اور اب اسرائیل، شام لبنان کی سرحدوں پر کم بلندی سے جڑی بوٹیاں ختم کرنے والے کیمیائی مواد کا زبردست سپرے کر رہا ہے۔ جس سے سرسبز زمین جل کر بنجر ہو۔ یہ مادہ کینسر پیدا کرنے والا ہے اور اسے نارمل مقدار سے 60-50 گنا زیادہ برسایا گیا۔ کوئی ہے جوپوچھے؟ ٹرمپ ایران پر چھوڑ دیا گیا۔ روزانہ کی بنیاد پرہلکے پھلکے باہمی حملے نت نئی کلبلا ہٹیں، کہہ مکرنیاں،معاہدہ ہو رہا ہے، نہیں ہو رہا پر قلابازیاں لگ رہی ہیں۔امریکی ایوانِ نمائندگان میں قرارداد کے باوجود ٹرمپ کی ایران پر قلابازیاں جاری ہیں ۔ پسِ پردہ اسرائیل غزہ کے بیش قیمت ہیرے شہید کر رہا ہے خاندانوں سمیت، اور زمین نگل رہا ہے عفریت بنا! ٹرمپ کی کہانی: ’ ہم بہت اچھی ڈیل کے قریب ترین ہیں ایران کے ساتھ‘! اگلے ہی جملے میں متضاد بیان۔ وہ تو صیہونی انگلیوں پر ناچتا ہے۔ پاکستان مسلسل معلق ہے۔ حا لتِ تیاری میں ہمہ وقت کہ اب ڈیل پر دستخط کے لیے مہمان آئے کہ آئے۔ مگر سا جھے کی یہ ہانڈی چوراہے میں پھوٹے چلی جا رہی ہے حسب ِمحاورہ۔ کبھی ایک شراکت کار بگڑ جاتا ہے کبھی دوسرا اکڑ جاتا ہے۔ قوم کے بڑوں کو ثالثیوں کے ہاتھوں اپنے گھر کی خبر لینے کی فرصت ہی نہیں مل رہی۔ وفود کی دنیا بھر میں آنیوں جانیوں میں خزانہ خالی، عوام بگڑ رہے ہیں۔ خالی جیبیں افراتفری کا سبب ہیں۔ کمانے کو ہر طریقہ آزمایا جارہا ہے۔ اشرافیہ کے اللے تللے جاری ہیں۔نیا فساد یہ ہے کہ قوم کی وہ بیٹیاں کہ جن کو بننا تھا بتولؓ،سیکھتی ہیں میڈیا سے ’ڈرگ‘ تجارت کے اصول! ابھی انمول پنکی کے ہولناک منشیات کے جال سے سنبھلے نہ تھے کہ نئی داستانیں کھل گئیں۔ خواتین کی خود اختیاری، آزادی (Empowerment)، حقوق نسواں، مساواتی عورتیں یہ دن دکھائیں گی؟ شکر ہے قائد اعظم اور اقبال جلد لحد میں اتر گئے! پہلے تو خواتین نے ہمہ نوع کھانے پکانے کی تراکیب کے ڈھیر لگا دیئے سوشل میڈیا پر۔ کپڑوں کے برانڈ چلائے۔ اور اب کو کین کے برانڈ پیکٹ پر لکھ رکھا تھا: ’ کوئین ما دام پنکی، ڈان (Don)، نام ہی کافی ہے۔ مزے لوٹو! ‘ لیکن المیہ یہ ہوا کہ مساواتی شوق میں مجرمانہ دنیا (مافیا) کی سر براہ ہونے کا اعزاز مادام پنکی نے اپنے نام کر لیا۔ درجنوں (منشیات ) فراہمی کرنے والوں کی ٹیم تھی۔ خریداروں میں بہت بڑے بڑے نام تھے نیٹ ورک میں غیر ملکی افراد بھی تھے۔ یہ برانڈ نام تو ایک کیمیائی مرکبات کی ترکیب پر مبنی کوکین استعمال کر کے ہلاک ہونے والے کی لاش کے پاس سے ملا۔ یہ زہریلی بریانی یاسری پائے جیسی پینڈو گھریلو ترکیب نہ تھی۔ جدید ترین دنیا کی ہائی فائی کو کین فارمولے سے زہرخورانی تھی۔ کہانی پنکی پر ختم نہیں۔ یہ تو صرف اصل حقیقت کی ہلکی سی جھلک ہے۔اب بہا ولپور، قصور سے ایک ہلے میں 8 کروڑ روپے کی منشیات پکڑی گئی ہیں۔30 مئی کو دو بہنوں اور ایک کے شوہر کو منشیات فراہمی کے سلسلے میں پکڑا۔ جبکہ انہی کی تیسری بہن پہلے ہی اس جرم میں جیل میں ہے۔ فیصل آباد پولیس کے مطابق گزشتہ 5 ماہ میں 80 عورتیں اس کا روبار میں پکڑی جا چکی ہیں۔ ابھی یہ کل تعداد نہیں ہے۔ تعلیمی ادارے، اساتذہ، والدین، خاندان کدھر گئے؟ پہلے محاورہ تھا: تمہارے گھر میں ماں بہنیں نہیں؟ اب فیمنزم وائرس کے دور میں پو چھنا پڑے گا: تمہارے گھر میں باپ، بھائی، شوہر نہیں؟ دس جماعتیں پڑھ کر لڑکی اب آزادی اور حقوق طلبی کی رٹ لگا کر ان مقامات تک جا پہنچتی ہے۔ صرف پیسے کا خمار ہے۔ حلال حرام، صحیح غلط، خیر شر، محرم نامحرم سب دقیانوسی، بے معنی الفاظ ہیں۔ موبائیل، سوشل میڈیا، مادر پدر آزادی، دین سے دوری، خاندانوں کا ٹوٹنا، معاشی بدحالی، فلمیں، ڈرامے، نظامِ تعلیم کی ابتری، مسلسل چھٹیاں یا آن لائن تعلیم! اخلاق و کردار بھی ہوائی خلائی آن لائن ہو گیا! کچھ تو سوچئے! گھٹ گئے انسان بڑھ گئے سائے! ادھر امریکہ کی طرف سے اس جنگی گھڑ مس میں ابراہیمی معاہدوں میں مزید مسلم ممالک کی شمولیت کا حکم نامہ مضحکہ خیز ہے۔ ایران تنازع سے ضمناً یہ فائدہ اٹھانے کی کوشش؟ پہلے بھی فلسطین کو فائدہ دینے کا تاثر دے کر رام کیا گیا۔ مگر عملاً صریح بد دیانتی اور فراڈ کے سوا کچھ نہ تھا۔ فلسطینی پہلے سے زیادہ علاقہ، گھر، خاندان، زندگی کی ہر رمق کھو چکے ہیں، نہ صرف غزہ، مغربی کنارے میں بھی۔ قیدیوں کی ناگفتہ بہ حالت۔ کیا مسلم ممالک اسرائیل سے بلا احتساب، بلا سیاسی حل غاصب جنگی مجرم اسرائیل کو تسلیم کر کے دوستی کا رشتہ استوار کرلیں؟ ایں خیال است و محال است و جنوں! پاکستان کو محتاط رہنا ہے۔ معاشی سدھار کی حقیقی کو شش میں جت جائیں۔ یہ بین الاقوامی وقتی چو ہد راہٹ بہت جلد ختم ہو جائے گی اور ہمیں نہایت تلخ حقائق کا سامنا اچانک کرنا پڑے گا۔ ایران کے جوہری پروگرام پر امریکہ اسرائیل کی گفتگوئیں توجہ سے سنیں۔ منظر بدلے گا اور عین متوقع ہے کہ اسرائیل کے دل کی پھانس، ہمارا جوہری پروگرام نہایت بے دردی سے نشانے پر آئے گا۔ گھوڑے تیار رکھیں۔ ملکی حالات سنواریں۔ مشکل وقت کرکٹ کھیل کر یا دیگر مشغلوں سے نوجوان بہلا کر نہ گزارا جا سکے گا۔ بے روزگاری، بے سکونی، بے قراری عروج پر ہے! اللہ کی نظر ِکرم ہو بشر طیکہ ہم رجوع کریں! مغربی بنگال (بھارت) میں ہندو انتہا پسند بی جے پی نے انتخابی مہم میں مسلمانوں کو دھمکانے اور شدید تنا¶ کی فضا بنائی۔ اس انتہا پسندی نے سنجیدہ مہذب طبقے میں بیزاری اور متبادل آواز کے طور پر CJP، ’شہری برائے انصاف وامن‘ تنظیم اٹھا کھڑی کی۔ تاکہ عوام الناس کو فرقہ وارانہ تشدد سے اور نفرت انگیز ہندو توا لہرسے آئینی، قانونی طور پر بچایا جا سکے۔ اسی دوران بھارتی چیف جسٹس سو ریا کانت نے اپنے ہی بے روزگار نوجوانوں کو جو آن لائن تنقید کرتے ہیں، ’کاکروچ‘ کا خطاب دے ڈالا۔ پھر کیا تھا Gen-Zنوجوان تو بھڑک اٹھے۔ زخموں پر اونچی کرسی والے نے نمک چھڑک دیا۔ سوشل میڈیا پر ابھی جیت دیپکے،( 30 سالہ بھارتی طالب علم امریکہ میںمقیم )نے مزاحاً ’کا کروچ جنتا پارٹی‘(CJP) کی سیاسی تحریک اٹھا کھڑی کی۔ جو جنگل کی آگ کی طرح بھارتی نوجوانوں میں پھیل گئی۔ دیپکے کے لیے یہ غیر متوقع تھا۔ مگر الجزیرہ کے سوال پر کہا کہ ’انہیں پتہ ہونا چاہیے کہ کاکروچ گندی، گلی سڑی جگہوں پر پلتے ہیں اور آج بھارت یہی کچھ ہے! ‘ بی جے پی کے 9 ملین فولورز کے مقابلCJP کے 22 ملین فولورز 7دنوں میں امڈ آئے۔ اس پارٹی کو ہوا کا تازہ جھونکا قرار دیا ہے ایک ریٹائرڈ بھارتی بیوروکریٹ نے کہا کہ: کا کروچ نہایت سخت جان کیڑا ہے اور مشکل ترین حالات میں جینا جانتا ہے۔اب BJP بمقابلہ دو CJP! یہ عالمی بحران ہے! آگے کیا ہوتا ہے؟ مگر ہمیں بھی بڑھتی بے روزگاری، مسائل میں گھرے نوجوانوں کا بروقت مداوا سوچنا چاہیے! زندگی اب اس قدر سفاک ہو جائے گی کیا بھوک ہی مزدور کی خوراک ہو جائے گی کیا



