66.5 F
Pakistan
Monday, October 12, 2026
HomeBreaking News”ہمت مرداں، مددِ خدا“

”ہمت مرداں، مددِ خدا“

چوپال سجی ہوئی تھی۔ چپ سائیں کے علاوہ سب براجمان تھے۔ نتھو اور پھتو بھی آپس میں سرگوشیاں کر رہے تھے۔ چاچا عبدالرفیق چوپال میں انتہائی پُرجوش انداز میں آئے۔ سب نے ان کو بھرپور جواب دیا۔ چاچا عبدالرفیق بیٹھ گئے اورساتھیوں سے باتیں کرنے لگے. .. . اسی اثنا میں چپ سائیں لاٹھی ٹیکتے ہوئے آئے۔ سب احتراماً کھڑے ہو گئے۔ چپ سائیںنے بیٹھنے کا اشارہ کیا. .. . چاچا عبدالرفیق نے تیلی پہلوان سے کہا کہ بتاو¿ بھائی آپ نے حال ہی میں نیا کام شروع کیا. .. . کیا حالات ہیں؟۔ تیلی پہلوان نے کہا کہ بھائیو! ۔ ہمارے آباﺅ اجداد کاروبار ہی کرتے آئے ہیں۔۔ وہ الگ بات کہ حالات اتنی تیزی سے بدل گئے کہ ہماری نسل کو گزر بسر کے لیے کچھ اور کرنا پڑا. .. . خیر دوستو! آہستہ آہستہ رسپانس آ رہا ہے. .. . کاروبار میں صبر اور منہ میں گڑ رکھنا پڑتا ہے۔ ہمارے آباﺅ اجداد کہا کرتے تھے کہ جو صبر نہیں کر سکتا اور منہ باندھ نہیں سکتا وہ کبھی کاروبار نہیں کر سکتا. .. . چپ سائیں بھی بات سن رہے تھے. .. . بالآخر بولے۔۔ تیلی پہلوان بھائی ”ہمت مرداں مدد خدا“۔اس پر چاچا عبدالرفیق بولے. .. . واہ سائیں جی واہ کیا زبردست بات کر دی. .. . آج تو چوپال میںاس پر ہی بات کریں۔۔ کیوں بھئی دوستو کیا خیال ہے۔ سب بیک زبان بولے. .. . ضرور ضرور. .. . چپ سائیں بولے، جیسے بھائیوں کی مرضی۔ کچھ دیر خاموشی کے بعد بولے. .. . بھائیو! جو انسان ہمت نہیں ہارتا، مشکلات کے سامنے گھٹنے نہیں ٹیکتا اور اپنے مقصد کے حصول کے لیے مسلسل کوشش کرتا رہتا ہے، اللہ تعالیٰ اس کے لیے آسانیوں کے راستے پیدا فرماتا ہے۔ یہاں مرداں سے مراد صرف مرد نہیں بلکہ ہر وہ انسان ہے جو عزم و حوصلے کا مظاہرہ کرتا ہے۔ دوستو! میں تو یہ کہوں گا کہ جو بھی کوئی نیا کام شروع کرے تو. .. . ذرا صبر اور تحمل کرنا چاہئے کیونکہ ہتھیلی پر سرسوں کبھی نہیں جمتی. .. . بلکہ آگے بڑھنے اور کامیابی کے لیے صبر کرنا پڑتا ہے۔چوپال کے بھائیو اس معاملے میں میرا مو¿قف ہے کہ اجتماعی اور انفرادی تبدیلی کے لیے ارادے کے ساتھ عمل بھی ضروری ہے۔ میرے نزدیک ایک طالب علم کی مثال سامنے ہے۔ ایک طالب علم اگر امتحان میں کامیابی چاہتا ہے تو اسے محنت سے پڑھنا ہو گا۔ محض دعا کرنے اور اچھے نتائج کی امید رکھنے سے کامیابی یقینی نہیں ملتی۔ اسی طرح ایک کسان اچھی فصل کی امید میں زمین تیار کرتا ہے، بیج بوتا ہے، پانی دیتا ہے پھر وہ اللہ تعالیٰ سے برکت کی دعا کرتا ہے۔ بھائیو کام کوئی بھی ہو. .. . انسان صرف کوشش اور منصوبہ بندی کر سکتا ہے باقی کام اللہ پر چھوڑنا چاہیے بالکل اسی طرح. .. . جس طرح ایک. .. . مالی بیج بونے کے بعد پانی دیتا اور اس کے بعد اللہ پر چھوڑتا ہے جو اس پودے کو تن آور درخت بنائے یا نہ بنائے. .. .مالی دا کم پانی دینا، بھر بھر مشکاں پاوےمالک دا کم پھل پھل لانا، لاوے یا نہ لاوےخیر دوستو! دنیا کا کوئی بھی انسان ایسا نہیں جسے زندگی میں کبھی ناکامی کا سامنا نہ کرنا پڑا ہو۔ چپ سائیں نے پنجابی کا شعر سنانے کے بعد بات آگے بڑھائی. .. . دوبارہ گویا ہوئے، چوپال کے بھائیو! فرق صرف یہ ہے کہ کچھ لوگ ناکامی سے خوفزدہ ہو کر میدان چھوڑ دیتے ہیں، جب کہ کچھ لوگ اپنی غلطیوں کا جائزہ لیتے ہیں اور نئے عزم کے ساتھ دوبارہ کوشش کرتے ہیں۔نتھو، پھتو اور چوپال کے دوستو ہمت کا حقیقی مفہوم یہ نہیں کہ انسان کبھی گرے ہی نہیں، بلکہ یہ ہے کہ گرنے کے بعد دوبارہ اٹھنے کا حوصلہ رکھے۔ چپ سائیں نے اس پردوبارہ ایک شعر سنایاگرتے ہیں شہ سوار ہی میدان جنگ میں وہ طفل کیا کرے جو گھٹنوں کے بل چلے چپ سائیں شعر سنانے کے بعد چپ کر گئے. .. . توقف کے بعد گویا ہوئے بھائیو! جو کام کرے گا وہی غلطی کرے۔ سو دوستو ہمت کبھی مت ہارو ایک دن کامیاب ہو ہی جاﺅ گے. .. . نوجوانوں میں صلاحیت، توانائی، تخلیقی سوچ اور آگے بڑھنے کی خواہش موجود ہے، لیکن بے روزگاری، معاشی مشکلات، محدود مواقع اور مستقبل کے بارے میں غیر یقینی صورتحال ان کو مایوسی میں مبتلا کر دیتی ہے۔ تیلی پہلوان انہیں یہ سمجھانا ضروری ہے کہ کامیابی کا راستہ ہمیشہ آسان نہیں ہوتا، لیکن مسلسل سیکھنے، محنت کرنے اور اپنی صلاحیتوں کو بہتر بنانے سے بہتر امکانات پیدا کیے جا سکتے ہیں۔ہمیں یہ تسلیم کرنا ہو گا کہ کچھ بھی نیا کریں تو مشکلات ضرور آتی ہیں، لیکن ان کے حل کے لیے سنجیدہ کوشش، درست منصوبہ بندی اور مسلسل جدوجہد بھی ضروری ہے ۔ بعض اوقات حالات کا جائزہ لے کر راستہ تبدیل کرنا کمزوری نہیں بلکہ دانش مندی ہوتی ہے۔ میں تو یہ کہوں گاکہ بڑے مقاصد کو چھوٹے مراحل میں تقسیم کرنا چاہیے اور ہر مرحلے کی تکمیل کے لیے قابل عمل منصوبہ بنانا چاہیے۔ اگر کسی کوشش میں بار بار ناکامی ہو تو اس کے اسباب معلوم کرنا اور بہتر طریقہ اختیار کرنا ضروری ہے۔صاحبو! انسانی تاریخ گواہ ہے کہ بڑی کامیابیاں ہمیشہ ان لوگوں کے حصے میں آئیں جنہوں نے نامساعد حالات کے باوجود اپنی جدوجہد جاری رکھی۔ کوئی بھی قوم، معاشرہ یا فرد محض خواب دیکھنے سے ترقی نہیں کر سکتا۔ خوابوں کو حقیقت کا روپ دینے کے لیے عمل کی قوت درکار ہوتی ہے۔ ہمت انسان کو اندھیروں میں راستہ تلاش کرنا سکھاتی ہے۔ یہ مایوسی کے ماحول میں امید کا چراغ ہے اور ناکامی کے بعد نئے عزم کے ساتھ آگے بڑھنے کا حوصلہ دیتی ہے۔خدا نے آج تک اس قوم کی حالت نہیں بدلینہ ہو جس کو خیال آپ اپنی حالت کے بدلنے کاچپ سائیں یہ شعر سنا کر دوبارہ چپ گئے اور پانی کا اشارہ کیا. .. . نتھو نے پانی کا گلاس آگے بڑھایا. .. . چپ سائیں نے گھونٹ گھونٹ پیا. .. . پانی پینے کے بعد بولے. .. . دوستو! بعض اوقات انسان کے پاس وسائل کم ہوتے ہیں، حالات اس کے خلاف ہوتے ہیں اور اردگرد کے لوگ بھی اس کی کامیابی پر یقین نہیں رکھتے، لیکن اگر اس کے اندر حوصلہ، محنت اور مستقل مزاجی موجود ہو تو وہ ناممکن دکھائی دینے والے کام بھی انجام دے سکتا ہے۔ اس کے برعکس، اگر کسی شخص کے پاس دولت، سہولیات اور مواقع ہوں لیکن وہ محنت کرنے سے گریز کرے تو اس کی صلاحیتیں بھی رفتہ رفتہ بے اثر ہو جاتی ہیں۔ اس لیے ہمت کو کامیابی کی پہلی سیڑھی کہا جاتا ہے۔دوستو! ”ہمت مرداں، مدد خدا“ کا پیغام صرف ایک فرد تک محدود نہیں بلکہ جو بھی کامیابی حاصل کرنا چاہتا ہے وہ اس کو خود پر طاری کر لے. .. . اللہ پر یقین رکھے اور چیونٹی کی چال سے چلتا رہے۔ پھر ایک دن کامیابی اس کا مقدر ہوگی۔دوستو! زندگی میں کامیابی کی ضمانت کسی کے پاس نہیں ہے لیکن مسلسل محنت، درست سمت میں کوشش، غلطیوں سے سیکھنے اور اللہ تعالیٰ سے مدد مانگنے سے کامیابی کے امکانات ضرور بڑھتے ہیں۔ ہمیں یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ ہر کوشش کا نتیجہ ہماری خواہش کے مطابق نہیں آتا، مگر اخلاص کے ساتھ کی گئی جدوجہد انسان کو تجربہ، شعور اور آگے بڑھنے کی صلاحیت ضرور عطا کرتی ہے۔ صاحبو آخر پر میرا پیغام یہی ہے کہ کام جو بھی کریں اس میں ہمت، محنت اور توکل کو اپنا ساتھ بنائیے. .. . رہے نام اللہ کا! ۔

Read full story on Nai Baat

RELATED ARTICLES

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

- Advertisment -
Google search engine

Most Popular

Recent Comments