74.7 F
Pakistan
Thursday, September 10, 2026
HomePoliticsگمٹی بازار کی جگ مائی: تقسیم کے بعد کے لاہور میں رواداری...

گمٹی بازار کی جگ مائی: تقسیم کے بعد کے لاہور میں رواداری کی مثال

تقسیمِ ہندوستان کے حوالے سے کشت و خون کی داستانیں عام ہیں، لیکن متعدد شہروں اور قصبوں میں ہمدردی اور انسانیت کے ایسے قصے بھی ملتے ہیں، جنہیں سن کر آدمیت پر ایمان لانے کو جی چاہتا ہے۔ ایسی ہی ایک کہانی گمٹی بازار کی جگ مائی کی ہے۔ پچاس اور ساٹھ کی دہائی کے لاہور سے واقفیت رکھنے والے اکثر لوگ جگ مائی کے نام سے واقف ہیں لیکن رفتہ رفتہ وقت نے ان کے کردار پر گلابی جاڑے کی چادر تان دی۔ جگ مائی کا تعلق لاہور کے مشہور گمٹی بازار سے تھا۔ گمٹی بازار لوہاری گیٹ میں واقع ہے۔ تقسیم سے پہلے اس علاقے کی بیشتر آبادی غیر مسلم اکثریت پر مبنی تھی۔ اگست 1947 میں ہندوؤں اور سکھوں کی اکثریت ہندوستان ہجرت کر گئی، لیکن کئی لوگوں کے لیے لاہور چھوڑنا زندگی موت کا معاملہ تھا۔ شہر سے نقل مکانی نسلوں کے سرمائے سے ہجرت ہوتی ہے۔ بہادر لوگوں نے مہینوں تک ہجرت سے انکار کیا اور استقامت سے اپنے فیصلے پر ڈٹے رہے۔ جگ مائی ان ہی لوگوں میں سے تھی۔ تقسیم کے وقت ان کی عمر پچاس کے لگ بھگ تھی۔ ان کا خاندان کئی دہائیوں سے لاہور کے آب و دانہ پر زندہ تھا۔ اجاڑے کے دنوں میں انہوں نے اپنا گھر چھوڑنے سے انکار کیا اور اہل محلہ میں موجود خیر خواہوں کے سمجھانے کے باوجود نقل مکانی نہیں کی۔ شروع میں یہ فیصلہ بہت مشکل تھا۔ تقسیم کے نتیجے میں لوگوں نے گمٹی بازار کے ترک شدہ مکانوں پر قبضہ جمانا شروع کر دیا تھا۔ ان میں مقامی اور ہندوستانی پنجاب سے آئے ہوئے خاندان دونوں طرح کے گروہ شامل تھے۔ نئے آنے والوں نے بہت کوشش کی کہ کسی طرح اس بڑھیا کو لالہ لاج پت رائے بھون میں بھیجا جائے لیکن کسی کی امید بر نہ آ سکی۔ لاج پت بھون کورٹ سٹریٹ میں واقع ہندو سکھ کیمپ تھا، جس میں لاہور سے ہجرت نہ کرنے والے افراد کو بحفاظت رکھ کر ان کی ہندوستان روانگی کے انتظامات کیے جا رہے تھے۔ یہ ہال لالہ لاج پت رائے کی قائم کردہ Servants of the People Society سے وابستہ تھا۔ جگ مائی کا تعلق لاہور کے مشہور گمٹی بازار سے تھا۔ بازار کا ایک منظر (تصویر: ڈاکٹر ارسلان) جگ مائی کے خاندان میں کشن لال نام کا ایک بیٹا بھی شامل تھا۔ کشن لال انار کلی کے عقب میں موجود دھوبی گھاٹ میں سنار تھا۔ تقسیم سے پہلے اس کا کام معقول تھا، لیکن رفتہ رفتہ فرقہ ورانہ خیالات نے کام کو مندا کر دیا۔ کشن لال کو مزدوری کرنا پڑی اور وہ بیماری اور بے باکی کی حالت میں دنیا سے گزر گیا۔ نامساعد حالات کے باوجود جگ مائی کی ہمت کم نہ ہوئی۔ نومبر 1947 میں دیوالی آئی۔ اب کی بار لاہور دیوالی کی رونق سے خالی تھا۔ چراغ ٹھنڈے تھے اور انار بے شعلہ۔ شہر کے پچانوے فیصد ہندو یا تو نقل مکانی کر چکے تھے یا اپنے مکانوں میں چھپے تھے۔ شناخت کا اظہار زندگی موت کا مسئلہ تھا۔ نومبر 47 کی دیوالی کا ذکر راما کرشنا اینڈ سنز بکس سیلرز کے مالک نے بھی کیا ہے۔ رانا کرشنا مال روڈ کے شمال میں واقع کتابوں کی مشہور دکان تھی۔ یہ دکان ایگزیبیشن روڈ کے شمال میں انار کلی کے کنارے پر واقع تھی۔ اس کی عمارت آج بھی موجود ہے۔ راما کرشنا کے مالک نے بھی لاہور سے جانے سے انکار کیا تھا، لیکن تاجر طبقے کی جانب سے انہیں ایسی تنگی کا سامنا کرنا پڑا کہ نقل مکانی کرتے ہی بنی۔ مزید پڑھ اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field) اس واقعے کا تفصیلی ذکر شاید حمید نے اپنی آپ بیتی ’گئے دن کی مسافت‘ میں کیا ہے۔ دوسری طرف جگ مائی نے آس پاس کے مسلم گھروں کے درمیان سکون اور آنند سے دیوالی منائی اور اپنے گھر کو سروِ چراغاں بنا ڈالا۔ اس واقعے نے توقعات کے برعکس جگ مائی کی عزت میں اضافہ کیا۔ ارد گرد کے لوگوں کو ان کی جرات مندی بھانے لگی۔ جگ مائی لوگوں کے دکھ سکھ میں شریک ہونے لگی۔ پڑوسیوں کی خوشی غمی میں سب سے آگے ہوتیں۔ محلے کی سب سے بزرگ خاتون ہونے کے ناطے ان کے مشوروں کو صائب سمجھا جاتا۔ جب گھر کا کوئی فرد بیمار ہوتا، جگ مائی کو بلایا جاتا۔ دور دور سے لوگ انہیں اپنے گھر میں آنے کی دعوت دینے کی غرض سے آتے۔ نئے تعمیر ہونے والے مکانوں کی تقریب میں ان کی شرکت ضروری خیال کی جاتی۔ لوگوں کو محسوس ہونے لگا تھا، جس گھر میں جگ مائی جاتی ہے وہاں کوئی نہ کوئی خوشی کی خبر ضرور آتی ہے۔ رفتہ رفتہ نوکری ملنے، شادی ٹھہرنے، ترقی پانے اور بچے کی پیدائش میں آنے جانے کے حوالے سے جگ مائی کا وجود ناگزیر ہو گیا۔ ان کا نام بھی لاہوری مسلمانوں کی دین ہے۔ اصل نام سیتا دیوی تھا، لیکن ان کی ہر دل عزیز شخصیت نے ان کا نام تک تبدیل کر دیا۔ جگ مائی کی موت کا واقعہ بھی عجیب ہے۔ نہ بیماری آئی، نہ حادثہ۔ چلتے پھرتے ہنستے ہنساتے اور سبھی کے کام بناتے گزر گئیں۔ یہ 1962 کا ہے۔ مائی کے بیٹے کشن لال کا پہلے ہی نِدھن ہو چکا تھا۔ وصیت یا لوگوں سے گفتگو میں انہوں نے کبھی اپنی آخری رسومات کا ذکر نہیں کیا تھا۔ جگ مائی کی موت پر سوال پیدا ہوا، آخری رسومات کون سے دین یا دھرم کے مطابق کی جائیں۔ اس حوالے سے لوگوں کی آرا واضح طور پر تقسیم تھیں۔ کچھ لوگ انہیں مسلمان دوستی، نیک دلی اور صاف قلبی کی بنیاد پر مسلمانوں کے طریقے پر دفنانا چاہتے تھے۔ دیگر کا خیال تھا، جگ مائی کو ہندو دھرم کے مطابق جلانا چاہیے۔ دقت یہ تھی کہ راوی کے کنارے پر واقع پرانا شمشان گھاٹ بند ہو چکا تھا۔ بہ ہر صورت مسجد کے امام صاحب کی رائے کو راجح جانتے ہوئے انہیں جلانے کا فیصلہ کیا گیا۔ ان کی لاش کو راوی کے کنارے لے جایا گیا اور عزت سے جلا دیا گیا۔ اس دوران گمٹی بازار کے لوگوں اور عام شہریوں کی بڑی تعداد موجود تھی۔ جلنے کے بعد ان کی راکھ کو تین دن بعد راوی میں دفنا دیا گیا۔ جگ مائی کے اعزاز میں ان کی استعمال کردہ چیزوں اور دیوی دیوتاؤں کے مجسموں کو دیانت داری کے ساتھ محکمہ اوقاف کے حوالے کر دیا گیا۔ اہل محلہ نے ان کے اعزاز میں ان کی واحد میسر تصویر کو بڑا اور فریم کروا کر ان کے گھر میں آویزاں کر دیا۔ بہت عرصے تک یہ تصویر گھر کے بالائی منزل کے چوبی کمرے میں موجود رہی۔ گھر دو حصوں پر مشتمل تھا۔ پہلی منزل کرائے داروں کے استعمال میں رہی لیکن بالائی منزل جوں کی توں خالی رہی۔ کہا جاتا ہے کہ جس کمرے میں تصویر موجود تھی، اس میں رہنے والے لوگوں کو دن رات میں کئی بار کسی کے قدموں کی چاپ سنائی دیتی تھی۔ مقامی لوگوں کا ماننا تھا کہ جگ مائی کی آتما مرنے کے بعد بھی لاہور اور اپنے گھر ہی میں رہتی ہے۔ نوے کی دہائی میں مائی کی تصویر پراسرار طور پر گم ہو گئی۔ جگ مائی لاہور کی مخلوط اور رواداری پر مشتمل تہذیب کی توانا علامت سمجھی جاتی ہے۔ مصنف اسسٹنٹ پروفیسر جی سی یونیورسٹی، لاہور ہیں۔ لاہور ہندو خاتون معاشرتی روایات تقسیم ہند لوگوں کو محسوس ہونے لگا تھا، جس گھر میں جگ مائی جاتی ہے وہاں کوئی نہ کوئی خوشی کی خبر ضرور آتی ہے۔ ڈاکٹر ارسلان راٹھور جمعرات, ستمبر 10, 2026 – 06: 45 Main image:

کہا جاتا ہے جس کمرے میں ہندو خاتون جگ مائی کی تصویر موجود تھی، اس میں رہنے والے لوگوں کو دن میں کئی بار قدموں کی چاپ سنائی دیتی تھی (گرافک: کو پائلٹ اے آئی)

تاریخ type: news related nodes: بھگت کبیر ہندو ہوں یا مسلمان، انہیں جاننا کیوں ضروری؟ ’منی کلیان‘ وہ ہندوستانی فلسفی جس نے سکندر اعظم کی کایا پلٹ دی خدمت خلق سمجھ کر انتخاب لڑوں گی: بونیر سے ہندو خاتون امیدوار سندھ پولیس میں پہلی ہندو خاتون ڈی ایس پی منتخب SEO Title: گمٹی بازار کی جگ مائی: تقسیم کے بعد کے لاہور میں رواداری کی مثال copyright: show related homepage: Hide from Homepage

Read full story on Independent Urdu

RELATED ARTICLES

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

- Advertisment -
Google search engine

Most Popular

Recent Comments