آج کے دور میں موبائل فون کے ساتھ پاور بینک رکھنا اتنا ہی ضروری ہو گیا ہے جتنا کہ جیب میں پرس رکھنا۔ لمبے سفر ہوں، ایئر پورٹ پر طویل انتظار کرنا پڑے یا موبائل کا استعمال زیادہ ہو، تو یہ چھوٹا سا آلہ ہمیں پریشانی سے بچاتا ہے اور فون کی بیٹری ختم نہیں ہونے دیتا۔ لیکن جب بات ہو ہوائی جہاز میں سفر کرنے کی، تو پاور بینک کو عام الیکٹرانک چیزوں کی طرح نہیں سمجھا جاتا۔ اس میں لیتھیم آئن بیٹری ہوتی ہے، اسی وجہ سے اسے جہاز میں ساتھ لے جانے اور استعمال کرنے کے سخت اصول ہیں۔ پاور بینک آپ کے ساتھ سفر تو کر سکتا ہے لیکن اسے گھر کی طرح جہاز میں استعمال نہیں کیا جا سکتا۔ پاور بینک عموماً جہاز میں لے جانے کی اجازت ہے، لیکن اسے جہاز کے اندر استعمال کرنے یا خود چارج کرنے پر کئی ایئرلائنز پابندی عائد کرتی ہیں۔ اس کی بنیادی وجہ بیٹری سے آگ لگنے کا خطرہ ہے۔ پاور بینک کے اندر موجود لیتھیم آئن بیٹریاں بہت کم جگہ میں بہت زیادہ توانائی ذخیرہ کرتی ہیں۔ اگر یہ بیٹریاں خراب ہو جائیں، حد سے زیادہ گرم ہو جائیں یا ان میں شارٹ سرکٹ ہو جائے تو یہ خطرناک ثابت ہو سکتی ہیں۔ سب سے بڑا خطرہ تھرمل رن اوے کہلاتا ہے، جو ایسی صورت حال ہے جب بیٹری بہت تیزی سے گرم ہو کر آگ پکڑ سکتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ایئر لائنز کے پاس اس بات کے سخت قوانین ہیں کہ اسے کہاں رکھا جائے اور کیسے استعمال کیا جائے۔ یہ حفاظتی خدشات اس وقت مزید اہم ہو گئے جب ایمسٹرڈیم سے کوراکاؤ جانے والی کے ایل ایم رائل ڈچ ایئر لائنز کی ایک پرواز کے دوران بزنس کلاس میں ایک مسافر کا پاور بینک اچانک آگ کی لپیٹ میں آ گیا، جس کے بعد کپتان کو طیارہ واپس ایئر پورٹ پر اتارنا پڑا۔ جہاز میں پاور بینک چارج کیا جاسکتا ہے؟ بین الاقوامی ایئر ٹرانسپورٹ ایسوسی ایشن کے رہنما اصولوں کے مطابق، ٹیکسی، ٹیک آف یا لینڈنگ کے دوران کسی دوسرے آلے کو چارج کرنے کے لیے پاور بینک کا استعمال نہیں کیا جانا چاہیے۔ اس کے علاوہ ایئر لائنز حفاظتی وجوہات کی بنا پر مزید سخت اصول بھی بنا سکتی ہیں اور عموماً پرواز کے دوران پاور بینک کو خود چارج کرنے کی اجازت بھی نہیں ہوتی۔ مثال کے طور پر برٹش ایئرویز کا کہنا ہے کہ جہاز کی نشستوں پر موجود بجلی کی سپلائی صرف ذاتی الیکٹرانک آلات کے لیے ہے، اس سے پاور بینک چارج نہیں کیے جا سکتے۔ پاور بینک کہاں رکھنا چاہیے؟ جب ہوائی سفر میں پاور بینک ساتھ لے جانے کی بات آتی ہے، تو زیادہ تر ایئر لائنز ہر مسافر کو زیادہ سے زیادہ دو پاور بینک اپنے ساتھ رکھنے کی اجازت دیتی ہیں، بشرطیکہ ہر ایک کی طاقت سو واٹ آور سے زیادہ نہ ہو۔ پاور بینک کو کبھی بھی مین چیک ان بیگ میں رکھنے کی اجازت نہیں ہوتی بلکہ اسے لازمی طور پر مسافر کے اپنے کیبن بیگ یا ہاتھ والے تھیلے میں رکھنا چاہیے۔ انڈیگو ایئر لائنز کا کہنا ہے کہ اضافی بیٹریاں صرف کیبن کے سامان میں ہی ہونی چاہئیں اور شارٹ سرکٹ سے بچنے کے لیے انہیں الگ سے محفوظ کیا جانا چاہیے۔ ہوائی سفر کے قواعد کے مطابق پاور بینک کو ایسی جگہ رکھنا چاہیے جہاں تک آسانی سے رسائی ہو سکے، جیسے کہ سیٹ کی جیب یا سامنے والی سیٹ کے نیچے رکھا ہوا بیگ۔ کیا پاور بینک سے موبائل چارج کرسکتے ہیں؟ اس معاملے میں بھی ایئرلائن کے اصول دیکھنا ضروری ہے۔ بعض ایئرلائنز پرواز کے دوران پاور بینک سے موبائل یا کسی دوسرے آلے کو چارج کرنے کی اجازت نہیں دیتیں۔ مسافروں کو خبردار کیا جاتا ہے کہ اگر وہ ان قوانین پر عمل نہیں کریں گے تو انہیں ایئر پورٹ پر ہی اپنے اضافی پاور بینک پھینکنے پڑ سکتے ہیں۔ اس لیے صرف یہ جاننا کافی نہیں کہ پاور بینک جہاز میں لے جانے کی اجازت ہے۔ اسے کہاں رکھنا ہے، کب استعمال کرنا ہے اور آیا پرواز کے دوران موبائل چارج کیا جاسکتا ہے یا نہیں، یہ سب متعلقہ ایئرلائن کے قوانین پر منحصر ہوسکتا ہے۔ پاور بینک سفر کے دوران موبائل کو بند ہونے سے بچانے میں مدد دیتا ہے، لیکن ہوائی جہاز میں اسے محفوظ طریقے سے رکھنا زیادہ اہم ہے۔ مسافروں کو چاہیے کہ سفر سے پہلے اپنی ایئرلائن کی تازہ ہدایات ضرور پڑھ لیں تاکہ ایئرپورٹ پر کسی مشکل یا حفاظتی مسئلے کا سامنا نہ کرنا پڑے۔
کیا ہوائی جہاز میں پاور بینک چارج کیا جاسکتا ہے؟ سفر سے قبل اہم قوانین جان لیں
RELATED ARTICLES



