چین میں اے آئی کی تیزی سے بڑھتی صنعت نے عام لوگوں کے لیے آمدنی کا ایک نیا راستہ کھول دیا ہے۔ لوگ اب اپنی شکل و صورت یا ڈیجیٹل شناخت کو اے آئی سے تیار ہونے والے ڈراموں، اشتہارات اور ویڈیو گیمز کے لیے لائسنس پر دے رہے ہیں۔ اس نئے رجحان نے چہرے کی قیمت، آمدنی، رضامندی اور اپنی شناخت پر اختیار جیسے اہم سوالات بھی پیدا کر دیے ہیں۔ تصور کیجیے کہ آپ کام کیے بغیر بھی اپنے چہرے سے پیسے کما رہے ہوں۔ چین میں یہ خیال اب عملی شکل اختیار کر رہا ہے۔ مختلف پلیٹ فارمز عام لوگوں کو اے آئی سے تیار ہونے والے مختصر ڈراموں، اشتہارات اور گیمز کے پروڈیوسرز سے جوڑ رہے ہیں، جہاں پروڈیوسرز کسی شخص کی شکل کو اپنے ڈیجیٹل کردار کے لیے استعمال کرنے کا حق حاصل کر سکتے ہیں۔ چینی اخبار ساؤتھ چائنا مارننگ پوسٹ کے مطابق، جو طریقہ پہلے فلم اور ٹیلی وژن کی صنعت سے وابستہ محدود حلقوں اور چیٹ گروپس تک رہا تھا، وہ اپریل کے بعد عوامی پلیٹ فارمز پر زیادہ نمایاں ہونا شروع ہوا۔ یوں ایک ایسی چیز جو عام طور پر انسان کی ذاتی شناخت کا حصہ سمجھی جاتی ہے، یعنی چہرہ، اب ممکنہ طور پر اضافی آمدنی کا ذریعہ بن رہا ہے۔ چہرہ کرائے پر دینے کا طریقہ بھی نسبتاً آسان بتایا جاتا ہے۔ افراد ایسے پلیٹ فارمز پر رجسٹریشن کراتے ہیں، اپنی شناخت کی تصدیق مکمل کرتے ہیں اور ایک ڈیجیٹل اداکار کا پروفائل بناتے ہیں۔ اس کے بعد پروڈیوسرز ان پروفائلز میں موجود چہروں کو دیکھ کر اے آئی سے تیار کیے جانے والے کرداروں کے لیے مناسب چہرے کا انتخاب کر سکتے ہیں۔ شین ژین میں قائم یوان شیانگ شِن شِنگ نامی ایک پلیٹ فارم نے مئی میں کام شروع کیا۔ ساؤتھ چائنا مارننگ پوسٹ کے مطابق یہاں صارفین رجسٹریشن اور شناخت کی تصدیق کے بعد اپنے ڈیجیٹل پروفائل بنا سکتے ہیں۔ اس کاروبار کا تعلق چین کی تیزی سے پھیلتی اے آئی انٹرٹینمنٹ انڈسٹری سے ہے۔ اے آئی کی مدد سے مختصر ڈرامے پہلے کے مقابلے میں کم وقت اور کم لاگت میں تیار کیے جا رہے ہیں۔ اس عمل میں اسکرپٹ، کردار اور ویڈیو سمیت مختلف مراحل میں اے آئی استعمال کی جا رہی ہے۔ اس صورتِحال نے حقیقی انسانوں کے چہروں کے لیے بھی ایک نئی طلب پیدا کر دی ہے۔ سوال یہ ہے کہ جب اے آئی خود کروڑوں نئے چہرے بنا سکتی ہے تو پھر کسی حقیقی شخص کے چہرے کی ضرورت کیوں پیش آتی ہے؟ اس کا جواب ہر معاملے میں ایک جیسا نہیں۔ بعض پروڈیوسرز ایسے چہرے چاہتے ہیں جو نمایاں، مخصوص یا دیکھنے والے کو زیادہ حقیقی محسوس ہوں۔ ریسٹ آف ورلڈ کے مطابق، ایک چینی کمپنی کے مارکیٹنگ افسر نے بتایا کہ پروڈیوسرز مرکزی کرداروں کے لیے خوب صورت چہروں کے ساتھ ساتھ منفرد چہرے، حتیٰ کہ بزرگ افراد کے چہرے بھی تلاش کرتے ہیں۔ ایسے منصوبوں میں متعلقہ شخص کو خود اداکاری کرنے کی ضرورت نہیں ہوتی، بلکہ اس کا چہرہ ڈیجیٹل کردار کے لیے بنیادی مواد بن جاتا ہے۔ تاہم اس بارے میں ایک مختلف رائے بھی موجود ہے۔ ساؤتھ چائنا مارننگ پوسٹ کے مطابق بعض ڈائریکٹرز کا خیال ہے کہ عام چہروں کی تجارتی اہمیت محدود ہو سکتی ہے، کیونکہ اے آئی انہیں نسبتاً آسانی سے خود تیار کر سکتی ہے۔ اس کے برعکس مشہور شخصیات کے چہرے ان کی شہرت کی وجہ سے زیادہ پیسے کما سکتے ہیں۔ آمدنی کے معاملے میں بھی کوئی ایک مقررہ رقم نہیں۔ ایک بینک ملازم نے صرف تین دن میں ایک اشتہاری کمپنی کی جانب سے اپنے پورٹریٹ کو سات مرتبہ حاصل کیے جانے کے بعد تقریباً 2, 500 چینی یوآن کمائے، جو تقریباً 373 امریکی ڈالر بنتے ہیں۔ دوسری جانب ریسٹ آف ورلڈ کی رپورٹ کے مطابق شین ژین کی کمپنی ایکٹ آئی ڈی نے بعض افراد کو فی قسط 99 سے 500 یوآن تک ادا کیے، جو تقریباً 15 سے 74 امریکی ڈالر کے برابر ہیں۔ کمپنی کے ساتھ تقریباً 800 افراد رجسٹرڈ تھے، جن میں سے تقریباً 300 نے اپنی شکل و صورت کو اے آئی پروڈکشنز کے لیے لائسنس دینے پر رضامندی ظاہر کی تھی۔ رپورٹ میں اس مارکیٹ میں تقریباً 7 سے 15 ہزار امریکی ڈالر تک کی مختلف قیمتوں کا بھی ذکر کیا گیا ہے، لیکن اسے عام صارف کی متوقع آمدنی نہیں سمجھنا چاہیے۔ اصل رقم کا انحصار پلیٹ فارم، پروڈکشن، استعمال کی مدت اور لائسنس کے معاہدے کی شرائط پر ہوتا ہے۔ اس رجحان کا سب سے اہم پہلو شاید رقم نہیں بلکہ اختیار ہے۔ کسی شخص کا چہرہ ایک مخصوص اشتہار یا ڈرامے کے لیے استعمال کرنے کی اجازت دینا ایک بات ہے، جبکہ اسی چہرے کے ڈیٹا کو اے آئی کی تربیت کے لیے استعمال کرنے کی اجازت دینا الگ معاملہ ہو سکتا ہے۔ لووی انسٹی ٹیوٹ کے ایک تجزیے میں بھی خدشہ ظاہر کیا گیا ہے کہ لائسنس کیے گئے ڈیجیٹل چہروں کو اصل مقصد سے آگے دوبارہ استعمال کیا جا سکتا ہے، جس سے لوگوں کے لیے اپنی شناخت پر مکمل کنٹرول برقرار رکھنا مشکل ہو سکتا ہے۔ اسی لیے کسی معاہدے میں یہ واضح ہونا اہم ہے کہ چہرہ کہاں، کتنے عرصے تک اور کن مقاصد کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔ اے آئی کے استعمال سے بعض مائیکرو ڈرامہ کمپنیوں نے پروڈکشن کا وقت تقریباً تین ماہ سے کم کرکے ایک ماہ تک کر دیا ہے، جبکہ ڈرامے بنانے کی لاگت بھی روایتی طریقے کے مقابلے میں تقریباً 80 فیصد کم ہو گئی ہے۔ اے آئی اگر اسی رفتار سے تفریحی صنعت کو تبدیل کرتی رہی تو ممکن ہے کہ مستقبل میں صرف اداکاری ہی نہیں، بلکہ چہرہ، آواز اور ڈیجیٹل شناخت بھی ایسی چیزیں بن جائیں جنہیں لوگ باقاعدہ لائسنس پر دے سکیں۔ لیکن اس نئی کمائی کے ساتھ ایک بنیادی سوال برقرار رہے گا، کسی شخص کو اپنے چہرے سے پیسے کمانے کے بدلے اپنی ڈیجیٹل شناخت پر کتنا اختیار دینا چاہیے؟ یہی وجہ ہے کہ چین میں چہروں کو کرائے پر دینے کا یہ نیا رجحان صرف اضافی آمدنی کا ذریعہ نہیں، بلکہ اے آئی کے دور میں ہماری ذاتی شناخت کے مستقبل سے بھی جڑا ہوا ہے۔
کیا آپ اپنا چہرہ چین کو کرائے پر دیں گے؟
RELATED ARTICLES



