74.1 F
Pakistan
Tuesday, September 22, 2026
HomeTechnologyانٹارکٹیکا کے 250 سال قدیم پُراسرار سوراخ کا معمہ حل

انٹارکٹیکا کے 250 سال قدیم پُراسرار سوراخ کا معمہ حل

انٹارکٹیکا کی منجمد برف کے درمیان ایک پراسرار کھلا سمندر آخر کب سے بن رہا ہے؟ بھارت، ناروے اور ڈنمارک کے سائنسدانوں پر مشتمل ایک بین الاقوامی ٹیم نے برفانی نمونوں کی مدد سے تقریباً 250 سال پہلے کے اس راز سے پردہ اٹھادیا ہے۔ تحقیق کے مطابق یہ کھلا سمندری علاقہ ماضی میں کئی بار بن چکا ہے اور بعض اوقات اس کا حجم بہت زیادہ بڑھ گیا تھا۔ یہ تحقیق بھارتی وزارتِ ارضیاتی علوم کے نیشنل سینٹر فار پولر اینڈ اوشن ریسرچ (این سی پی او آر) کے سائنس دانوں کی قیادت میں ڈنمارک اور ناروے کے ماہرین کے تعاون سے کی گئی۔ اس کے نتائج سائنسی جریدے ”دی کرائیواسفیئر“ میں شائع ہوئے ہیں۔ سائنس دانوں نے جس علاقے کا جائزہ لیا اسے ’’ماؤڈ رائز پولینیا‘‘ کہا جاتا ہے۔ پولینیا سے مراد سمندر میں برف سے گھرا ہوا ایسا بڑا حصہ ہے جہاں پانی کھلا رہتا ہے، یعنی اردگرد سمندر برف سے ڈھکا ہوتا ہے لیکن درمیان میں پانی کی ایک نمایاں سطح موجود ہوتی ہے۔ ماؤڈ رائز پولینیا انٹارکٹیکا کے وِیڈل سی میں واقع ہے۔ یہ علاقہ اس لیے اہم ہے کہ یہاں کھلا پانی سمندر اور فضا کے درمیان حرارت کے تبادلے کو نمایاں طور پر تبدیل کر سکتا ہے۔ اس تاریخ کو سمجھنے کے لیے محققین نے مشرقی انٹارکٹیکا میں ڈیوجپرانن آئس رائز سے 122 میٹر طویل برف کا نمونہ، جسے آئس کور کہا جاتا ہے، حاصل کیا۔ برف کی تہیں دراصل ماضی کی برف باری کے ریکارڈ کو محفوظ رکھتی ہیں۔ ان تہوں میں موجود مختلف کیمیائی مادوں کا تجزیہ کرکے سائنس دان اس دور کے ماحول اور سمندری حالات کے بارے میں معلومات حاصل کر سکتے ہیں۔ اس آئس کور کا تجزیہ بھارت کے شہر گوا میں واقع ’این سی پی او آر‘ کی لیبارٹری میں کیا گیا۔ تحقیق کے ذریعے سائنس دان 1774 تک ماؤڈ رائز پولینیا کی سرگرمیوں کا سراغ لگانے میں کامیاب ہوئے۔ تحقیق میں 25 ایسے سال سامنے آئے جن کے بارے میں شواہد سے معلوم ہوتا ہے کہ اس علاقے میں پولینیا کی سرگرمی موجود تھی۔ ان میں تین بڑے واقعات ایسے تھے جن کی نوعیت 1974 سے 1976 کے درمیان رونما ہونے والے بڑے پولینیا کے واقعے سے ملتی جلتی تھی۔ 1974 سے 1976 کے دوران انٹارکٹیکا کے سمندر میں برف کے درمیان ایک بہت بڑا حصہ ایسا بن گیا تھا جہاں برف نہیں تھی اور کھلا پانی نظر آ رہا تھا۔ اس کھلے پانی کا رقبہ 3 لاکھ مربع کلومیٹر سے بھی زیادہ ہو گیا تھا۔ کئی سال بعد 2016 اور 2017 میں بھی ایسا ہی ہوا، لیکن اس بار کھلے پانی کا علاقہ 40 ہزار مربع کلومیٹر سے زیادہ تھا۔ سائنس دانوں کے مطابق ایسے بڑے کھلے آبی حصے صرف انٹارکٹیکا کی برف میں تبدیلی کا معاملہ نہیں بلکہ سمندر اور ماحول کے درمیان حرارت کے تبادلے پر بھی اثر ڈال سکتے ہیں۔ جب برف کے بجائے کھلا پانی سامنے آتا ہے تو نسبتاً گرم سمندری پانی اپنی حرارت براہِ راست انتہائی سرد فضا میں خارج کر سکتا ہے۔ اس عمل کے نتیجے میں سمندر کے اندر پانی کی بڑی سطح پر حرکت بھی متاثر ہو سکتی ہے۔ گہرے سمندری پانی کی یہ حرکت عالمی سمندری گردش کے نظام کا ایک اہم حصہ ہے، اس لیے انٹارکٹیکا میں ہونے والی ایسی تبدیلیاں وسیع تر سمندری اور موسمی نظام کے لیے بھی اہم ہو سکتی ہیں۔ تحقیق کا ایک اہم مشاہدہ یہ ہے کہ بڑے پولینیا کے واقعات باقاعدہ وقفوں سے نہیں ہوتے۔ اس کے بجائے یہ واقعات بعض اوقات ایک دوسرے کے قریب کئی برسوں کے دوران سامنے آئے۔ اس سے اشارہ ملتا ہے کہ پولینیا بننے کے لیے فضا اور سمندر کے مخصوص حالات کا ایک ساتھ پیدا ہونا ضروری ہے۔ اس تحقیق کا بنیادی مقصد یہ جاننا تھا کہ انٹارکٹیکا کے سمندر میں برف کے درمیان بننے والا ماؤڈ رائز پولینیا ماضی میں کب کب اور کن حالات میں بنتا رہا ہے۔ سائنس دان یہ بھی سمجھنا چاہتے تھے کہ یہ بڑے کھلے آبی حصے سمندر کی حرارت، پانی کی گردش اور انٹارکٹیکا کے موسم پر کس طرح اثر انداز ہوتے ہیں۔ 250 سال کا ریکارڈ حاصل کرکے وہ اس پراسرار مظہر کے بننے کی وجوہات اور مستقبل میں اس کے ممکنہ اثرات کو بہتر طور پر سمجھنا چاہتے ہیں۔

Read full story on Aaj

RELATED ARTICLES

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

- Advertisment -
Google search engine

Most Popular

Recent Comments