12ستمبر سے کنٹینر پکڑے روکے دھرے جانے لگے۔ پی ٹی آئی مارچ کی پکار کے ساتھ ساتھ سیکورٹی والوں کی تعیناتی اور راستوں کو بند کرکے 19 ستمبر تک لانگ مارچ بندش کا اہتمام کیا جا چکا تھا۔ مذاکرات، مارچ کی تاریخ بدلنے کی کہانی کے بیچ شہری شش و پنج میں مبتلا اپنے اہم پروگرام طے ، ملتوی کرتے رہے۔ پھر ہوا وہی جو ہماری لاغر، نحیف و نزار جمہوریت کا خاصا ہے۔ شاید اسی ’جمہوریت‘ پر مرزا غالب کی دور رس حسِ شاعری پکار اٹھی تھی: ہاں کھائیو مت فریب ِہستی ہر چند کہیں کہ ’ہے‘ ، نہیں ہےسو وہی ہوا جس کا اندیشہ تھا۔ خیبر پختونخواہ کی صوبائی حکومت ، وفاقی حکومت نے گودلے لی۔ گورنر راج نافذ ہو گیا۔ ایمر جنسی لگادی اور گیارہ رکنی ٹیکنو کریٹ مشاورتی کونسل صوبے کی دیکھ بھال فرمائے گی۔ راولپنڈی، اسلام آباد مابین فیصلے طے پائیں گے۔ وجہ ’دہشت گردی کنٹرول نہ ہونے کو قرار دیا گیا‘۔ مولانا فضل الرحمان کو حکومت اور کے پی وزیر اعلیٰ مابین ثالثی کا کردار ادا کرنے کو وزیراعظم نے کہا تھا۔ مگر پھر بڑے حکم کے تحت اچانک ہنگامی حالت اور گورنر راج کا نفاذ کر دیا گیا۔ اسے مولانا فضل الرحمان نے قطعی مسترد کرتے ہوئے عوام، عدالت، پارلیمان ، ہر فورم پر جانے کا عزم ظاہر کیا۔ ’جمہوریت کی رٹ لگانے والوں نے جمہوریت قتل کر ڈالی۔شہباز شریف سے پوچھیں کہ آپ اپنے فیصلے خود کر رہے ہیں یا کوئی اور۔‘ یہ تبصرہ تھا حکومت توڑنے پر ان کا۔ مگر آج جب نام نہاد ’جمہوریت‘ بین الاقوامی طور پر ٹرمپ ، نتین یاہو کو برداشت کر رہی ہے۔ بڑے بھاری بھر کم آئینی اصول و ضوابط روندے جا چکے ہیں تو ہم کشکولی جمہوریت والے کیا کہنے کے لائق ہیں! ٹرمپ نے تو یہ بھی ٹویٹ کیا تھا کہ ’چاند ہمارا ہے‘ ساتھ امریکی جھنڈا نتھی کرکے! ہم نے تو کہا تھا کہ اب ’ناسا‘ دنیا پر یہ احسان کرے کہ ٹرمپ کوہفتہ بھر کی آکسیجن کی سپلائی دے کر ایک ماہ کے لیے چاند پرنتین یا ہو کے ہمراہ بھیج دے۔ تجربہ کامیاب رہا تو دہرایا جاسکتا ہے مزید قیام امن کے لیے دیگر جگہ بھی! 12 اکتوبر، بین الاقوامی طور پر ’یومِ دختر‘ (بیٹیوں کے دن) کے طور پر منایا جاتا ہے۔ اگر چہ ہم مسلمان سال کے دنوں میں بٹوارے کر کے ایک، ایک دن جھونگے میں ’ماں کا دن‘، استاد، باپ ، بچے، عورت… کادن والا قضیۂ نرا مذاق سمجھتے ہیں۔ ہماری تہذیبی روایات میں ہر دن بھر پور احساسِ ذمہ داری کے ساتھ سبھی کے حقوق کے تحفظ و احترام کا دن ہوا کرتا ہے۔ ایک دن پھولوں کا گلدستہ، کیک، چاکلیٹ ، مسکراہٹ ، میٹھا جملہ اچھال کر سال کے باقی دن نفس کی پوجاپاٹ میں کھو جانے کا تصور نہیں۔ ہم اعلیٰ ترین ہستی کے حضور جواب دہ ہونے کی بناپر طے شدہ نصاب (قرآن کریم) اور اساتذہ ، خاتم النبین محمد صلی اللہ علیہ وسلم، ابراہیم علیہ السلام جیسے باپ ، اسماعیل ؑاور یوسف ؑجیسے بیٹے اور پاکیزہ جوانی کا بے مثل نمونہ، امہات المؤمنینؓ جیسی مائیں ، سیدہ فاطمہؓ و بنات مطہراتؓ جیسی بیٹیاں رکھنے کی بنا پر مالا مال ہیں۔ اہل مغرب دن مناتے ہیں بچوں کا اور کردار لاتے ہیں ایپسٹین جیسے لائقِ نفرین! بہر طور اگر بیٹی کا تذکرہ کرنا ہی ہے تو بیٹیوں کی تربیت اور تحفظ میں ہمارا ریکارڈ بہت لائقِ تحسین نہیں ہے۔ 22 سالہ گولڈ میڈلسٹ اسلامک یونیورسٹی کی لائبہ اعجاز کے انتہائی در دناک، افسوسناک انجام میں کسے ذمہ دار ٹھہرائیں ؟ لائبہ اعجاز نے امریکہ جاکر اعلیٰ تعلیم کی خاطر 70 لاکھ روپے ، (باپ نے پلاٹ بیچا، ماں نے زیور گروی رکھوایا) امریکی ویزا فراہم کرنے کے لیے ایجنٹ کے حوالے کیے۔ کاغذات سب جعلی نکلے ، ایجنٹ غائب، خواب چکنا چور۔ پیسہ تباہ! لائبہ کی لاش درخت سے لٹکی ہوئی پائی گئی۔زمینی حقائق ، معاشرتی ابتری، بدکرداری، فراڈ سے تعلیم یافتہ بچی اتنی لاعلم رہی ؟ گھروں ، خاندانوں نے بچیوں کو تنہا بھاری مستقبل کے انہو نے خواب آنکھوں میں سجانے اور انھیں پورا کرنے کے لیے تن تنہا بھاری رقوم دفاتر میں بیٹھے مافیاز کے حوالے کرنے کو کھلا چھوڑ دیا ؟ اساتذہ نے بھی مکمل رہنمائی نہ دی۔ گویا ہارورڈ یونیورسٹی امریکہ میں داخلہ نہ ہوا ۔ یہاں کہیں چیچا وطنی کے کسی ادارے میں مستقبل سنوارنے جانے کی بات ہو گئی! اخبارات ، نیٹ ، میڈیا پر خبروں کی بھر مار رہتی ہے۔ طالبات ، اساتذہ ، مستقبل سازرہنمائی (یونیورسٹیوں ہی میں) کیا یہ نہیں بتاتی کہ دنیا میں جرائم (بالخصوص پاکستان) کتنے بے پناہ ہیں۔ نوجوانوں ، مردوں کا یورپ جانے ، اعلیٰ ملازمتوں پر جھانسوں ، لوٹ مار کے کتنے گینگ ہیں۔ معصوم سادہ بچی شدت ِاحساس سے خود اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھی ؟ یہ ہے ہمارا اکتوبر 2026 ء کا یومِ دختر؟ اس کی ذمہ داری کس پر عائد ہوتی ہے ؟ تعیین کیجیے۔ فوری! کیونکہ ایف آئی اے کے مطابق ماہانہ سٹوڈنٹ ویزوں پر 300 سے زائد فراڈ کی شکایات درج ہوتی ہیں۔ جن میں سے 90 فی صد ، جی 10(اسلام آباد) بلیو ایریا اور راولپنڈی صدر سے متعلق ہیں۔(بچی سے فراڈ جی 10 سے ہوا)۔ سیاستیں چھوڑ کر ، (کیونکہ اسی ’یومِ دختر‘ پر حکومتی جماعتیں پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ، KP حکومت ٹوٹنے کی خوشیاں منا رہی تھیں۔) کریک ڈاؤن قوم کے ایسے مجرموں پر کریں۔ نیز ڈاکٹر مؤدت رانا ، ماہر نفسیات ، (ہیلپ لائن) کا کہنا تھا کہ روزانہ 200 کالز آتی ہیں بیرونِ ملک جاکر پڑھنے کے لیے فراڈ ہونے پر، ڈیپریشن کی! پاکستانیوں کی فراڈ کے شعبے میں ذہانت و فطانت ملاحظہ ہو۔ ایک پاکستانی نے امریکی پوسٹل سروس سے بھی 126 ملین ڈالر کا فراڈ کر ڈالا۔ اس سے ہماری تعلیم، تربیت ، اخلاقی گراوٹ کا عالم بخوبی سمجھا جاتا جاسکتا ہے۔7اکتوبر 2023ء کے حوالے سے مغرب میں ہفتہ اتوار کی چھٹی پر بھر پور ریلیاں، مظاہرے ، پروگرام کیے گئے۔ 10 اکتوبر کو غزہ میں نسل کشی کے خلاف اسرائیل کی بھر پور مذمت اور مغربی کنارے پر فلسطینیوں کو اسرائیلی اپار تھائیڈ کا سامنا کرنے پر شدید احتجاج کیا۔ صرف یورپ میں 176 اور دنیا بھر میں ایسے 325 پروگرام/ایونٹ ہوئے۔ لندن میں دو لاکھ 50ہزار نے مارچ میں شرکت کی۔ برطانوی پارلیمنٹ تک گئے۔ دو منٹ کی خاموشی شہداء کے سوگ میں اختیار کی۔ برطانوی حکومت سے اسرائیل کو اسلحے کی ترسیل بند کرنے کا مطالبہ کیا۔ نسل کشی اب بھی جاری ہے کیونکہ بظاہر اکتوبر 2025 ء جنگ بندی کے بعد بھی 1400 افراد شہید کیے گئے بشمول 327 بچے۔ آئرلینڈ میں ہزاروں نے ملک کا اکیسواں قومی مظاہرہ کیا۔ جبکہ مسلمان ممالک کا ذکر کیا کریں خود پاکستان بھی چپکا رہا۔ فلسطینی، اقصیٰ ، قدس ہمارے ہیں۔ لیکن مظاہرے غیر مسلم دنیا کرتی دیوانی ہو رہی ہے! اسرائیل پر شدید تنقید جاری رہتی ہے۔فلائی دوبئی کے طیارے والے حادثے سے جو دوبئی اسرائیل مابین بھر بھر کر یہودیوں کی پروازیں جانے کے اعداد و شمار سامنے آئے ہیں ، اس سے دونوں ممالک مابین تعلقات، اخوت کا پیمانہ (حیران کن) سامنے آتا ہے۔ روزانہ صرف دوبئی کی دو ایئر لائنز کی25 پروازیں تل ابیب جاتی آتی ہیں۔ جبکہ مزید اسرائیل کی بھی آتی جاتی ہیں۔یوں دوبئی اسرائیل مابین (فضائی پل) Air Bridge قائم ہے! تاہم اب اسرائیل پر لرزہ طاری ہے۔ اسرائیل نے فرانس سے بھی تقاضا کر دیا کہ 31 مسلم اکثریتی ممالک سے پائلٹ اور عملہ قبول نہیں ہوگا ’ایئر فرانس‘ کے جہازوں پر! حتیٰ کہ اگر وہ فرنچ شہری ہوئے ،تو پھر بھی نہیں! مسلمان دیکھ کر اسرائیلیوں بھرا جہاز تھر تھرانے لگے گا! دنیا میں جا بجا مظاہر ے زور پکڑ گئے ہیں۔ آج کل فرانس میں ہائی سکولوں کے طلباء سڑکوں پر ہیں۔ سکولوں میں اساتذہ کی کمی ، جماعتوں میں طلباء کی تعداد کی زیادتی ، بد حال عمارات، وسائل کی کمی پر احتجاج شمالی پیرس سے شروع ہو کر ملک بھر میں پھیل گئے۔ اظہارِ یک جہتی کے لیے یونیورسٹیوں کے طلباء اور عوام بھی نکل پڑے۔ 70 سالہ جوڑا (سابق اساتذہ) تک مظاہرے میں شامل آنسو گیس کانشانہ بنا۔ مغرب وسائل جنگوں کی نذر کرے گا تو گھر میں طوفان تو اٹھے گا۔ سبھی ممالک (ہماری طرح) اپنے اصل فرائض چھوڑ کر بین الاقوامی ہوئے پڑے ہیں حکومتی سطح پر۔ یہ فرق ضرور ہے کہ وہ اسرائیل کی مدد کرتے ہیں اور ہمارے والے صرف ’اپنی مدد آپ‘ کے قائل ذاتی جیبیں بھرتے ہیں!



