اس مضمون کا آغاز ایک ذاتی اعتراف سے کرتی ہوں۔ “دلچسپ” بات یہ ہے کہ مجھے اپنے “سنی” ہونے کا “شعور” گھر سے نہیں، ریاست سے ملا۔ صدر جنرل ضیاء الحق کے دور میں میڈیکل کالج میں داخلے کے لیے ایک طویل فارم پُر کرتے ہوئے پہلی بار مجھے اپنے مسلک، ذات اور ہجرت کی تاریخ کے خانے بھرنے پڑے۔ اس سے پہلے میں نے کبھی اپنے آپ کو ان خانوں میں تقسیم کر کے نہیں دیکھا تھا۔ وہ لمحہ میرے لیے غیر معمولی طور پر تکلیف دہ اور دیرپا اثر چھوڑ جانے والا تھا؛ یعنی وہ میرے لیے ایک “ہونٹنگ” تجربہ تھا، اور اب بھی ہے۔ آج بھی سوچتی ہوں کہ ایک نوجوان طالبہ سے یہ سوال پوچھنے کی ضرورت کیوں پیش آئی تھی۔ شاید پہلی مرتبہ مجھے احساس ہوا کہ ریاست بعض اوقات انسان کو ایک زندہ، پیچیدہ شخصیت کے بجائے خانوں میں تقسیم کر کے پہچاننا چاہتی ہے۔ یہ احساس میرے ساتھ برسوں تک ایک خاموش اذیت کی طرح رہا، اور میں ابھی تک اس کے اثرات سے نکل نہیں سکی۔ تو قصہ مختصر، میری پرورش پاکستان کے ایک “سنی گھرانے” میں ہوئی، لیکن محرم میرے لیے کبھی محض ایک مذہبی تقویم کا حصہ نہیں رہا۔ بچپن سے ہمارے گھر میں محرم کی مجالس سنی جاتیں، اور ان میں سب سے زیادہ انتظار مجھے پاکستان ٹیلی وژن پر علامہ طالب جوہری کی شامِ غریباں کی مجلس کا رہتا تھا۔ ابّو کے ساتھ بیٹھ کر وہ مجالس سننا میری ادبی، فکری اور اخلاقی تربیت کا حصہ بن گیا۔ آج علامہ صاحب کے دنیا سے رخصت ہو جانے کے بعد بھی میں نے بے شمار ذاکروں اور خطیبوں کو سنا ہے، مگر میرے لیے شامِ غریباں کی وہ کیفیت اب تک بے مثال ہے۔ اس میں صرف خطابت نہیں تھی، علم بھی تھا، تاریخ بھی، اور ایک ایسی انسان دوستی بھی، جس نے مجھے ہمیشہ اپنی طرف کھینچا۔ اب سوچتی ہوں تو محسوس ہوتا ہے کہ میں نے فرقوں کو بعد میں جانا، کربلا کو پہلے۔ بعد کے برسوں میں مجھے احساس ہوا کہ علامہ طالب جوہری صرف ایک غیر معمولی ذاکر ہی نہیں تھے، بلکہ والد صاحب کے قریبی دوستوں میں بھی شامل تھے، اور ان کا آبائی تعلق بہار سے تھا۔ اسی طرح معروف براڈ کاسٹر سید ناصر جہاں بھی ان کے حلقۂ احباب کا حصہ تھے۔ سید ناصر جہاں کی آواز میں منشی چنّو لال دلگیر کا نوحہ “گھبرائے گی زینب” سننا میرے بچپن کی ان یادوں میں شامل ہے جو عمر بھر ساتھ رہتی ہیں۔ شاید اسی لیے دلگیر کا یہ نوحہ میرے حافظے میں کسی کتاب سے پہلے ایک زندہ آواز کے طور پر محفوظ ہوا۔ میرے والد نے اپنے نام کے ساتھ “صدیقی” لکھا ہے۔ اس نسبت نے بھی زندگی بھر بہت سے قیاس آرائیوں کو جنم دیا۔ کم لوگ جانتے تھے کہ ان کا “صدیقی” کوئی نسلی یا خاندانی دعویٰ نہیں تھا، بلکہ اپنے استاد، اردو کے ممتاز ادیب رشید احمد صدیقی، سے محبت اور احترام کا اظہار تھا۔ لیکن پھر میں نے یہ بھی سیکھا کہ ہر نام کی وضاحت کرنا ضروری نہیں ہوتا۔ انسان کی اصل شناخت اس کے کردار، اس کی دوستیوں اور اس کی اقدار سے بنتی ہے، نہ کہ صرف اس کے نام سے۔ وقت کے ساتھ مجھے یہ احساس بھی ہوا کہ میری کشش کسی فرقہ وارانہ شناخت کی طرف نہیں تھی۔ میں نے کبھی کربلا کو “شیعہ” یا “سنی” عینک سے نہیں دیکھا۔ مجھے اپنی طرف کھینچنے والی چیز ہمیشہ اس کی اخلاقی معنویت رہی— ظلم کے سامنے انکار، اقتدار کے مقابلے میں سچ، اور تاریخ کے مشکل ترین لمحے میں بھی حق کا ساتھ دینے کا حوصلہ۔ شاید اسی لیے میں اکثر سوچتی ہوں کہ اگر میں آج ایک نسبتاً “مشکل” عورت ہوں— شاید یہ “انٹرسیکشنل فیمنسٹ” کا ایک سلیس یا مہذب اردو ترجمہ بھی ہو— اگر میں نے سوال کرنا، اختلاف کرنا، اور ابیوسِو اور اہانت آمیز طاقت کے بجائے انصاف اور مظلوم کے ساتھ کھڑا ہونا سیکھا ہے، تو اس کی تشکیل میں، اللہ کی توفیق اور اسی کی رضا سے، کربلا کو اس کے کرب اور بلا سمیت محسوس کرنے کی صلاحیت کا بھی حصہ ہے۔ میرے نسائی شعور کی تشکیل صرف کتابوں یا نظریات سے نہیں ہوئی؛ حضرت زینبؑ کی استقامت، ان کی خطابت اور ان کے اخلاقی عزم نے بھی مجھے اتنا ہی متاثر کیا۔ میرے لیے نسائیت کبھی محض حقوق کی بحث نہیں رہی، بلکہ یہ بھی ایک سوال رہا ہے کہ تاریخ کے کس رخ پر کھڑا ہونا ہے۔ اسی لیے یہ مضمون شیعہ شاعری یا سنی شاعری کے بارے میں نہیں ہے، بلکہ اس اخلاقی روایت کے بارے میں ہے جو کربلا سے جنم لیتی ہے اور ہر دور میں نئے معنی اختیار کرتی ہے۔ آج جب میں دنیا کے مختلف حصوں میں ظلم، جنگ، نسل کشی، قبضے یا ریاستی جبر کی خبریں پڑھتی ہوں تو میرے ذہن میں بار بار کربلا ایک مذہبی واقعے کے طور پر نہیں، بلکہ ایک اخلاقی پیمانے کے طور پر ابھرتی ہے۔ شاید اسی لیے یہ واقعہ ہر دور میں زندہ رہتا ہے۔ اسی ذاتی پس منظر کے ساتھ میں نے اس مضمون کے لیے چودہ شعرا کا انتخاب کیا ہے۔ ان کا مختصر تعارف بھی شامل کیا ہے، کیونکہ اب نئی نسل کو علم سوشل میڈیا دیتا ہے، جس کے مضر پہلو بھی ہیں۔ یہ بھی حقیقت ہے کہ اب ٹی وی چینلز پر محرم کے حوالے سے وہ عقیدت اور احتیاط نہیں دکھائی دیتی جو ایک عہد میں تھی، یا کم از کم نوّے کی دہائی تک تھی، جب میں خود پی ٹی وی کی اینکر تھی اور محرم میں یہ تصور ہی نہیں تھا کہ دوپٹا سر پر نہ ہو، شوخ، چنچل غزلیں اور گانے پیش کیے جائیں، یا ساز و آہنگ کا استعمال ہو۔ یہاں ایک اور وضاحت بھی ضروری ہے۔ یہ ترتیب نہ ان شعرا کے ادبی مرتبے کی عکاس ہے، نہ ان کی تاریخی اہمیت کی، نہ ہی ان کے مقام کی کوئی درجہ بندی۔ نہ میرا کوئی مقام ہے، نہ منصب، نہ بساط۔ یہ صرف میرے حافظے کی ترتیب ہے۔ جس شاعر کا منتخب کلام جس لمحے میرے ذہن میں آیا، وہ اسی مقام پر آتا گیا۔ شاید اسی لیے اس فہرست میں سید محسن نقوی کے ساتھ منشی دلگیر بھی ہیں، پروین شاکر کے ساتھ دیوی روپ کماری بھی، جون ایلیا کے ساتھ میر انیس بھی، اور آخر میں اقبالؔ بھی۔ میری یادداشت نے انہیں اسی مجلس میں بٹھایا ہے؛ میں نے صرف اس مجلس کو لفظوں میں منتقل کر دیا ہے۔ ہر شاعر کے پورے حسینی سرمایۂ کلام میں سے میں نے صرف وہ کلام منتخب کیا ہے جو برسوں سے میرے حافظے میں زندہ ہے۔ کہیں ایک مصرع، کہیں ایک شعر، کہیں دو اشعار، کہیں ایک بند، اور کہیں ایک طویل اقتباس۔ یہ تفاوت شعوری ہے، کیونکہ بعض اوقات ایک مصرع پوری فکر کی نمائندگی کر دیتا ہے، اور بعض اوقات کسی شاعر کے ساتھ انصاف صرف ایک شعر نقل کر کے نہیں ہو سکتا۔ یہ انتخاب غیر معمولی طور پر مشکل تھا۔ بہت سے شاعر، بہت سے اشعار اور بہت سی آوازیں دل میں رہ گئیں۔ اس لیے اس مضمون کو ایک انتخاب سے زیادہ ایک اعتراف سمجھا جائے؛ ان چودہ شاعروں کا اعتراف، جنہوں نے مختلف ادوار میں میرے لیے کربلا کو صرف ایک تاریخی واقعہ نہیں، بلکہ زندگی گزارنے کا ایک اخلاقی استعارہ بنا دیا۔ جون ایلیا: غم کی ایک داخلی زبانان کو میں نے بچپن میں دیکھا۔ جون انکل اور زاہدہ حنا آنٹی سے آٹوگراف بھی لیا۔ ان پر ایک بلاگ بھی لکھا ہے۔ جون ایلیا، جیسا کہ ہم سب جانتے ہیں، ان کے یہاں مذہبی استعارے ہمیشہ وجودی سوالوں کے ساتھ جڑے ہوئے دکھائی دیتے ہیں۔ ان کا حسینی کلام بھی میرے لیے محض عقیدت کا اظہار نہیں، بلکہ انسان کی اخلاقی تنہائی اور حق کے انتخاب کی قیمت کا استعارہ ہے۔ ان کے متعدد اشعار میرے حافظے میں محفوظ ہیں، اور اس انتخاب میں یہ دو اشعار پیشِ خدمت ہیں، کیونکہ یہ ہر بار نئے معنی کے ساتھ تڑپتے ہیں اور مجھ جیسی خطاکار کو بھی تڑپاتے ہیں۔ بِٹھاتے تھے نبیصلى الله عليه وسلم کاندھوں پہ جن کووہ نیزوں سے گرائے جا رہے ہیں ہوا تھا جون قائم جن سے پردہوہ بازاروں میں لائے جا رہے ہیں — جون ایلیا احمد فراز: سلام بھی، احتجاج بھیاحمد فراز کی شاعری میں کربلا صرف ماضی کا ایک واقعہ نہیں، بلکہ ہر اس عہد کی علامت ہے جہاں ظلم کو اقتدار کا نام دے دیا جاتا ہے۔ ان کے یہاں سلام اور مزاحمت ایک دوسرے سے جدا نہیں ہوتے۔ حسینؑ، تجھ پہ کہیں کیا سلام ہم جیسےکہ تو عظیم ہے، بے ننگ و نام ہم جیسے برنگِ ماہ ہے بالائے بام تجھ جیسا، توفرشِ راہ، کئی زیرِ بام ہم جیسے تمہیں بھی ضد ہے کہ مشقِ ستم رہے جاریہمیں بھی ناز کہ جور و جفا کے عادی ہیں تمہیں بھی زعمِ مہابھارتا لڑی تم نےہمیں بھی فخر کہ ہم کربلا کے عادی ہیں — فراز اختر عثمان: لبیک کے بعد کا سوالاختر عثمان کی غزل کے یہ دو اشعار میرے نزدیک جدید حسینی شاعری کے مؤثر ترین اشعار میں شمار ہوتے ہیں۔ ان میں عقیدت بھی ہے، احتساب بھی، اور اپنے ضمیر سے، اور ہم سب کے ضمیر سے، ایک جائز اور بے رحم سوال بھی۔ میں نے اس غزل سے صرف ایک شعر نہیں، بلکہ دو اشعار منتخب کیے ہیں، کیونکہ میرے نزدیک دونوں ایک دوسرے کی تکمیل کرتے ہیں۔ کہتے ہو کہ ہو اسوۂ شبیر پہ قائمدربار میں کیوں جاتے ہو، سر کیوں نہیں جاتا جب روح سے کہتے ہو کہ لبیک حسیناپھر جی سے یزیدوں کا یہ ڈر کیوں نہیں جاتا — اختر عثمان شبیر حسن خاں (جوش ملیح آبادی): بیداری کی صداجوش کا لہجہ ہمیشہ مجھے مسحور کرتا رہا ہے۔ ان کے یہاں حسینؑ صرف ایک تاریخی شخصیت نہیں، بلکہ انسانی آزادی اور حریت کی علامت ہیں۔ جوش کی انقلابی شاعری میں کربلا کسی فرقے کی میراث نہیں رہتی، بلکہ پوری انسانیت کی اخلاقی قوت بن جاتی ہے۔ میں نے ان کا یہی شعر منتخب کیا ہے، کیونکہ اس میں ان کی پوری فکری جہت سمٹ آئی ہے۔ جوش کو میں نے بچپن میں دیکھا تھا۔ ہم ان کے گھر بھی جاتے تھے، اور ایک بار وہ بھی ہمارے یہاں تشریف لائے تھے۔ ان دنوں وہ پی ٹی وی پر ممنوع تھے۔ انسان کو بیدار تو ہو لینے دوہر قوم پکارے گی ہمارے ہیں حسینؓ — جوش ملیح آبادی پروین شاکر: زینبؑ کی آنکھ سے کربلاان کو بھی بچپن میں دیکھا۔ میں نے پروین شاکر کو پی ٹی وی کے مشاعروں میں بھی سنا۔ ان کا تحت اللفظ بھی غضب کا تھا اور داد دینے کا انداز بھی۔ افسر بننے سے پہلے ہی وہ اردو شاعری کی شہزادی بن چکی تھیں۔ ان کا آبائی تعلق بہار کے ایک شیعہ سید گھرانے سے تھا، اور ابتدا میں، اس زمانے کے رواج کے مطابق، پی ٹی وی کے مشاعروں میں جب بھی شریک ہوئیں، ساڑی کا آنچل سر پر لیتی تھیں۔ میرے ابوجان اور ان کے درمیان جو خط و کتابت ہوئی، وہ کتابی شکل میں موجود ہے اور ان پر ہونے والی کئی قومی اور عالمی سطح کی تحقیقات میں ایک مستند حوالہ بھی ہے۔ ان سے کچھ اور حوالوں سے بھی دل اور روح کا تعلق ہے، جس میں کرب بھی ہے اور ایک اَن کہا دکھ بھی، جسے اشارتاً ایک مضمون میں سمیٹا ہے: “ڈائنو سار کی ڈائری سے ایک ادھورا صفحہ — ایلیٹ اور ایلیٹزم کی بھینٹ چڑھ جانے والی پاکستانی بہاری بین الاقوامی شاعرہ کے نام”۔ اس مضمون کو اب تک کوئی نہیں سمجھا، اور شاید میری خیریت بھی اسی میں ہے۔ یہ مضمون میری کتاب بے وقت کی راگنی میں شامل ہے۔ اس بے پایاں مقبولِ سخن کی شہزادی کا نام آتے ہی محبت، نسائی احساس اور جدید غزل ذہن میں آتی ہے، لیکن ان کے حسینی اشعار مجھے ہمیشہ متاثر کرتے ہیں۔ ان کے یہاں حضرت زینبؑ کا کردار محض صبر کی علامت نہیں، بلکہ تاریخ کی گواہ بن جاتا ہے۔ شاید میرے اپنے نسائی شعور کی وجہ سے بھی ان کے یہ اشعار مجھے دوسروں سے زیادہ قریب محسوس ہوتے ہیں۔ گرچہ لکھی ہوئی تھی شہادت امامؑ کیلیکن مرے حسینؑ نے حجت تمام کی زینبؑ کی بے ردائی نے سر میرا ڈھک دیاآغازِ صبحِ نو ہوئی وہ شامِ شام کی اک خوابِ خاص چشمِ محمدؐ میں تھا چھپاتعبیر نورِ عینِ محمدؐ نے عام کی بچوں کی پیاس مالکِ کوثرؐ پہ شاق تھیساقی کو ورنہ مے کی ضرورت نہ جام کی — پروین شاکر سید محسن نقوی: سوال جو ختم نہیں ہوتےان سے خط و کتابت رہی، جب میں ایک نوجوان ٹی وی اینکر تھی اور اردو نثری نظم کا ایک مجموعہ شائع کروا بیٹھی تھی۔ اس کا احوال بھی ایک مضمون میں قلم بند کیا ہے: “سید محسن نقوی: اتنے اچھے کیوں لگتے ہو”، جو ہم سب میں شائع ہوا۔ اگر مجھ سے پوچھا جائے کہ جدید دور میں کس شاعر نے کربلا کو عام قاری کے دل تک سب سے زیادہ پہنچایا، تو میں بلا تردد مقتول سید محسن نقوی کا نام لوں گی۔ ان کے کلام میں کلاسیکی روایت بھی ہے اور جدید احساس بھی۔ ان کا ہر سوال آج بھی زندہ معلوم ہوتا ہے۔ لٹ کے آباد ہے اب تک جو، وہ گھر کس کا ہےسب سے اونچا ہے جو کٹ کر بھی، وہ سر کس کا ہے ظلم شبیر کی ہیبت سے لرزتے کیوں کرکس نبیصلى الله عليه وسلم کا ہے نواسہ، یہ پسر کس کا ہے جس کو دستک سے بھی پہلے ملے خیراتِ نجاتکاش سوچے کبھی دنیا کہ یہ در کس کا ہے جس نے مقتل کی زمیں چھو کے معلّیٰ کر دیپوچھنا کرب و بلا سے یہ ہنر کس کا ہے کس کی ہجرت کے تسلسل سے شریعت ہے رواںقافلہ آج تلک شہر بدر کس کا ہے تخت والوں نے مؤرخ بھی خریدے ہوں گےذکر دنیا میں مگر شام و سحر کس کا ہے لاشِ اکبرؑ پہ قضا سوچ رہی ہے اب تکجس میں ٹوٹی ہے یہ برچھی، وہ جگر کس کا ہے کون ہر شامِ غمِ شہؑ میں لہو روتا ہےآسمانوں سے اِدھر دیدۂ تر کس کا ہے ہاتھ اٹھاتا ہوں تو ایوانِ ستم کانپتے ہیںسوچتا ہوں میرے ماتم میں اثر کس کا ہے جس کی حد ملتی ہے جنت کی حدوں سے، محسنؔجز حسین ابنِ علیؑ اور سفر کس کا ہے — محسن نقوی افتخار عارف: نسبتوں کا تسلسلمحترم افتخار عارف صاحب کو بہت بچپن میں اپنے گھر پر دیکھا تھا۔ اولین تعارف کسوٹی ٹی وی پروگرام کے ستارے کے طور پر ہوا۔ پھر ان کی غزلوں اور نظموں کی مداح ہوئی۔ بعد ازاں، پی ٹی وی نے ایک نئی پہچان دلائی تو وہاں بھی ان کا انٹرویو کرنے کا شرف حاصل ہوا، اور انہوں نے کئی صنفی معاملات پر میری activism اور media advocacy میں میرا ساتھ دیا ہے۔ افتخار عارف کے یہاں کربلا صرف ایک مقام نہیں، بلکہ ایک روحانی اور تہذیبی سلسلہ ہے، جو مدینہ، نجف اور کربلا کو ایک ہی اخلاقی روایت میں باندھ دیتا ہے۔ ان کے منتخب اشعار میں مجھے ہمیشہ ایک غیر معمولی وقار محسوس ہوتا ہے۔ حسینؑ، تم نہیں رہے، تمہارا گھر نہیں رہامگر تمہارے بعد ظالموں کا ڈر نہیں رہا مدینہ و نجف سے کربلا تک ایک سلسلہادھر جو آ گیا، وہ پھر اِدھر اُدھر نہیں رہا صدائے استغاثہ حسینؑ کے جواب میںجو حرف بھی رقم ہوا، وہ بے اثر نہیں رہا صفیں جمیں تو کربلا میں بات کھل کے آگئیکوئی بھی حیلۂ نفاق کارگر نہیں رہا بس ایک نام، اُن کا نام، اور اُن کی نسبتیںجز اُن کے پھر کسی کا دھیان عمر بھر نہیں رہا کوئی بھی ہو، کسی طرف کا ہو، کسی نسب کا ہوجو تم سے منحرف ہوا، وہ معتبر نہیں رہا — افتخار عارف دیوی روپ کماری: عقیدت کی کوئی سرحد نہیںعقیدت کا کوئی مذہب نہیں۔ میرے اس انتخاب میں دیوی روپ کماری کی موجودگی شاید بعض قارئین کو حیران کرے، مگر میرے نزدیک اردو کی اصل وسعت یہی ہے۔ امام حسینؑ کی عظمت صرف مسلمانوں کی میراث نہیں، بلکہ ہر اس انسان کی ہے جو ظلم کے خلاف کھڑا ہونے کا حوصلہ رکھتا ہے۔ دیوی روپ کماری اردو ادب کی تاریخ میں پہلی اور واحد غیر مسلم خاتون مرثیہ گو شاعرہ کی حیثیت سے جانی جاتی ہیں۔ ان کا تعلق آگرہ کے ایک کشمیری پنڈت خاندان سے تھا، اور انہوں نے امام حسینؑ کی شان میں انتہائی جذباتی اور عقیدت مندانہ اشعار اور مرثیے کہے۔ دیوی روپ کماری کے اشعار آفاقی انسانی روایت کی ایک خوبصورت مثال ہیں۔ ان کا ایک بہت مشہور کلام اکثر سوشل میڈیا اور ادبی حلقوں میں پڑھا اور سراہا جاتا ہے۔ بھارت میں اگر آتا حُسینؑ تو پردے میں اُتارا جاتاچاندِ بنو ہاشم کا یوں دھوکے سے نہ مارا جاتا سر چرنوں سے نہ اٹھتے اور پوجا کرتے ہمہمارے دیش کی بھاشا میں اسے بھگوان پکارا جاتا صد شکر کہ ہم مسلمان نہ ٹھہرےورنہ قتلِ شبیرؑ میں ہمیں بھی پکارا جاتا — دیوی روپ کماری حبیب جالب: کربلا بطور مزاحمتحبیب جالب کا شمار ان شاعروں میں ہوتا ہے جنہوں نے کربلا کو محض ایک تاریخی یا مذہبی واقعے کے طور پر نہیں دیکھا، بلکہ اسے ہر عہد کی سیاسی اور اخلاقی مزاحمت کا استعارہ بنایا۔ جُھکے گا ظُلم کا پرچم، یقین آج بھی ہےمرے خیال کی دنیا حسین آج بھی ہے صعوبتوں کے سفر میں ہے کاروانِ حسینؑیزید چین سے مسند نشین آج بھی ہے — حبیب جالب ادیب رائے پوری: ریت پر لکھی ہوئی ابدیتادیب رائے پوری کی نظم ریت پر میں مجھے ہمیشہ ایک عجیب تصویریت محسوس ہوئی ہے۔ لفظ جیسے صحرا میں چلتے ہیں اور ہر استعارہ تشنگی، وفا اور قربانی کا نیا مفہوم پیدا کرتا ہے۔ میں اس خوب صورت نظم کے ساتھ برسوں سے چل رہی ہوں اور گریہ کرتی ہوں۔ یہاں چند اشعار ہی درج ہیں: آلِ بتولؓ کے سوا کوئی نہیں کھلا سکاقطرۂ آب کے بغیر اتنے گلاب ریت پر عشق میں کیا بچائیے، عشق میں کیا لٹائیےآلِ نبیؐ نے لکھ دیا سارا نصاب ریت پر پیاسا حسینؓ کو کہوں، اتنا تو بے ادب نہیںلمسِ لبِ حسینؓ کو ترسا ہے آب ریت پر آلِ نبیؐ کا کام تھا، آلِ نبیؐ ہی کر گئےکوئی نہ لکھ سکا، ادیبؔ، ایسی کتاب ریت پر — ادیب رائے پوری منشی چنّو لال دلگیر: زینبؑ کی آوازمیری ادبی یادداشت میں اس نوحے کی جگہ کتابوں سے پہلے آواز کی ہے — سید ناصر جہاں کی آواز کی۔ وہ بھی ابّوجان کے دوستوں میں تھے اور ہمارے گھر ان کا آنا جانا بھی تھا۔ بچپن میں اسے سنتی تھی اور شاید پوری معنویت سمجھے بغیر ہی دل میں محفوظ کر لیتی تھی۔ بعد میں جب اسے پڑھا تو احساس ہوا کہ اس کی اصل قوت حضرت زینبؑ کے دکھ کو ایک بہن کے دکھ میں بدل دینا ہے۔ گھبرائے گی زینبؑبھیّا، تمہیں گھر جا کے کہاں پائے گی زینبؑ گھبرائے گی زینبؑ پوچھیں گے جو سب لوگ کہ بازو پہ ہوا کیایہ نیل ہے کیسا کس کس کو نشاں رسی کے دکھلائے گی زینبؑگھبرائے گی زینبؑ بے پردہ ہوئی، قید بھی خواہر نے اُٹھائیاور موت نہ آئی کیا جانیے کیا کیا ابھی دُکھ پائے گی زینبؑگھبرائے گی زینبؑ — منشی چنّو لال دلگیر مرزا غالب: مختصر مگر مکملغالب کے حسینی حوالے تعداد میں کم ہیں، لیکن ان میں عقیدت کی شدت غیر معمولی ہے۔ بعض اوقات ایک شعر پوری شخصیت کا تعارف بن جاتا ہے۔ غالب اس شدت میں ایک مزاحمتی شاعر اور سپاہی لگتے ہیں۔ یہاں ان کے اس مشہور و معروف سلام کا صرف ایک شعر لکھ رہی ہوں: نبیصلى الله عليه وسلم کا ہو نہ جسے اعتقاد، کافر ہےرکھے امام سے جو بغض، کیا کہیں اس کو — غالبؔ میر انیس: جہاں ایک شعر کافی نہیںمیر انیس کے ساتھ سب سے بڑی مشکل انتخاب کی تھی۔ ان کے مرثیوں میں سے صرف ایک شعر چن لینا میرے لیے ممکن ہی نہیں تھا۔ انیس کو پڑھتے ہوئے محسوس ہوتا ہے کہ ان کے ہاں ہر بند اگلے بند کا دروازہ کھولتا ہے۔ کیا اشعار ہیں — ہائے، ہائے، ہائے، ہائے۔۔۔۔ آج شبیرؔ پہ کیا عالمِ تنہائی ہےظلم کی چاند پہ زہراؔ کی گھٹا چھائی ہے اس طرف لشکرِ اعدا میں صف آرائی ہےیاں نہ بیٹا، نہ بھتیجا، نہ کوئی بھائی ہے — میر انیس علامہ اقبال: اختتام نہیں، آغازصرف یہاں پر میں نے شعوری طور پر اقبالؔ کو آخر میں رکھا ہے۔ اس لیے نہیں کہ وہ اس فہرست کے آخری شاعر ہیں، بلکہ اس لیے کہ میرے لیے ان کا یہ شعر ہمیشہ اختتام کے بجائے آغاز کا احساس پیدا کرتا ہے۔ اقبال کے یہاں حسینؑ صرف تاریخ کا ایک کردار نہیں، بلکہ ملت کے ضمیر کو جگانے والی آواز ہیں۔ ان کے وسیع حسینی تصور میں سے میں نے صرف ایک شعر منتخب کیا ہے، کیونکہ بعض اوقات ایک شعر پوری فکر کا خلاصہ بن جاتا ہے۔ قافلۂ حجاز میں ایک حسینؓ بھی نہیںگرچہ ہے تاب دار ابھی گیسوئے دجلہ و فرات اس مضمون کو لکھتے ہوئے مجھے بار بار احساس ہوا کہ اصل مشکل چودہ شاعر منتخب کرنا نہیں تھی، بلکہ ان چودہ شاعروں میں سے ان کے کلام کا انتخاب کرنا تھا۔ کئی بار دل چاہا کہ ترتیب بدل دوں، کسی شاعر کو نکال کر کسی اور کو شامل کر لوں، یا کسی ایک شعر کی جگہ پوری نظم رکھ دوں۔ شاید یہی ایک قاری کی بے بسی بھی ہے اور خوش نصیبی بھی۔ میں ایک بار پھر یہ واضح کرنا چاہتی ہوں کہ یہ نہ حسینی شاعری کا نمائندہ انتخاب ہے اور نہ کسی قسم کی ادبی درجہ بندی۔ یہ صرف میرے حافظے، میری تربیت، میرے مطالعے اور میری زندگی کے مختلف مرحلوں میں میرے ساتھ چلنے والے چودہ شعرا کی ایک ذاتی مجلس ہے۔ اگر ان تمام برسوں میں کربلا نے مجھے کوئی ایک سبق دیا ہے تو وہ یہی ہے کہ تاریخ ہمیشہ طاقتوروں کی نہیں ہوتی، بلکہ سچ بولنے والوں کی بھی ہوتی ہے۔ شاید اسی لیے میری وابستگی کسی فرقے سے نہیں، بلکہ اس اخلاقی روایت سے ہے جو ہر دور میں یہ سوال پوچھتی ہے کہ جب حق اور اقتدار آمنے سامنے ہوں تو انسان کس طرف کھڑا ہوگا۔ میری خواہش ہے کہ یہ مضمون پڑھنے والا ہر فرد ان اشعار پر اکتفا نہ کرے، بلکہ اصل دیوانوں، سلاموں، نوحوں، مرثیوں، نظموں اور غزلوں کی طرف لوٹے، کیونکہ ادب کی حقیقی رفاقت ہمیشہ اصل متن سے ہوتی ہے، انتخاب سے نہیں۔ اور اگر کبھی کوئی شعر آنکھیں بھر دے تو رکیں، اس لمحے کو ضائع نہ کریں، کیونکہ شاید وہی لمحہ کربلا کا اصل پیغام ہے۔ اہلِ بیتؑ کی محبت مجھ پر اور میرے ابوجان پر اللہ کا خصوصی احسان ہے، اور ہم اس محبت کی قبولیت کی درخواست کرتے ہیں۔ میرا پرسہ، میرا گریہ وہاں تک پہنچے۔



