90 F
Pakistan
Monday, July 20, 2026
HomePoliticsڈھولا ول ول قتل کریسی

ڈھولا ول ول قتل کریسی

شیدے ریڑھی والے نے آج میرا خوب مذاق اُڑایا۔ وہ کہہ رہا تھا بابو جی آپ مجھے طعنہ دیتے تھے کہ میں روزانہ سبزی کا نیا ریٹ لگاتا ہوں جبکہ مارکیٹ کمیٹی تو نکالتی ہی روزانہ نیا ریٹ ہے مگر اب آپ کو پٹرول بھی روزانہ نئے ریٹ پر ملے گا پھر اس نے بڑے راز دارانہ انداز میں کہا سبزیاں تو پھر بھی سستی ہو جاتی ہیں، پٹرول کا ریٹ تو ہر روز بڑھے گا کم نہیں ہو گا، آپ لکھ لیں بابو جی۔ میں نے کہا شیدے ایسی باتیں نہ کرو، وزیروں نے پریس کانفرنس میں کہا ہے اوگرا روزانہ تیل کی قیمت کا تعین کرے گا وہ بڑھ بھی سکتی ہے اور کم بھی ہو سکتی ہے۔ شیدے نے مسکراتے ہوئے کہا بابو جی آپ نے وہ پنجابی کی کہاوت سنی ہوئی ہے ناں ”او دن ڈبا جدوں گھوڑی چڑھیا کبا“۔ اب آپ انتظار ہی کرتے رہ جائیں گے مگر قیمت کم نہیں ہو گی۔ اُس نے کہا یہ جو میں نے تختی لٹکا رکھی ہے جس پر لکھا ہے،آج نقد کل اُدھار، کئی لوگ خوش ہو جاتے ہیں کہ چلو کل آ کر اُھار لے لیں گے، مگر جب کل آتی ہے تو پھر یہی تختی اُن کا منہ چڑا رہی ہوتی ہے۔تیل کی قیمت میں کمی کا حال بھی ایسا ہی ہو گا، وہ اگلے دن بھی بڑھے گی کم نہیں ہو گی۔ میں نے کہا شیدے کیوں میرا صبح صبح دماغ خراب کررہے ہو، سبزی دو میں جاؤں۔اس نے کہا دماغ تو اب پوری قوم کا خراب کرنے کی سکیم حکومت نے نکال دی ہے۔اب پٹرول پمپ والے تھوڑا پٹرول بیچیں گے کہ کل مزید قیمت بڑھے گی تو مہنگا بکے گا۔ یوں اکثر پٹرول کمیاب رہے گا۔ دوسری طرف غریب غرباء یہ سوچ کر زیادہ پٹرول ڈلوانے کی کوشش کریں گے کہ کہیں کل مزید مہنگا نہ ہو جائے۔ادھر رکشہ والے روزانہ کی بنیاد پر اپنے کرائے طے کریں گے، ویگن اور بسوں والوں کے لئے بھی ایک نئی مصیبت آ گئی ہے وہ روزانہ کیا ریٹ نکالیں۔منڈی سے بازاروں تک پھل اور سبزیاں لانے والے ڈالے بھی کرایوں کا تعین روزانہ کریں گے اور یوں ایک مسلسل جنجال پورہ ہمیں گھیر لے گا۔میں شیدے ریڑھی والے کی باتیں سن کر سوچنے لگا اگر اسے اتنی عقل ہے کہ روزانہ تیل کی قیمت رکھنے سے کیا بے چینی اور بے یقینی آئے گی تو وہ شہ دماغ جو حکومت اور اوگرا میں بیٹھے ہیں، کیا انہیں اتنی بھی عقل نہیں۔ ہمارے دوست خضر حیات سندھو جو اس زمانے کے ایم ایس سی پاس سیاستدان ہیں جب تعلیم کی شرط ہی نہیں ہوتی تھی۔ یہ دور کی کوڑی لائے ہیں کہ حکومت نے عوام کی توجہ ہر معاملے سے ہٹا کر پٹرول کی قیمت میں اُلجھا دی ہے،اب وہ روزانہ یہی سوچتے رہیں گے کل پٹرول سستا ہو یا مہنگا، آج ڈلواؤں یا کل ڈلواؤں۔ حافظ طاہر اشرفی نے مولانا فضل الرحمان کو مناظرے کا چیلنج دے دیا پٹرولیم کے وزیر علی پرویز ملک اور وزیر اطلاعات عطاء تارڑ نے جو پریس کانفرنس کی،اُس کا زیادہ تر حصہ عوام کو قربانی کے لئے تیار رہنے سے متعلق تھا، ویسے بھی جب بڑی عید پر بکرے کی قربانی کرتے ہیں تو اُسے بہت پیار کرتے ہیں۔ تازہ روٹی پکا کے کھلاتے ہیں، پانی پلاتے ہیں، اس کی پیٹھ پر پیار سے ہاتھ پھیرتے ہیں، یہ جانتے ہوئے بھی کہ یہ ابھی چند لمحے بعد ایک تیز دھار چھری کے نیچے آ جائے گا۔ کچھ اسی قسم کی صورت حال اس پریس کانفرنس میں نظر آئی۔ میرے نزدیک تو یہ پریس کانفرنس زخموں پر نمک چھڑکنے کے مترادف تھی۔اس سے بہتر تو یہ ہوتا ایک پریس ریلیز جاری کر کے روزانہ کی بنیاد پر تیل کی قیمت رکھنے اور اضافے کا اعلان کر دیا جاتا۔یہ عوام کو بے وقوف سمجھ کر طفل تسلیاں دینے کی باتیں اس دور آگہی میں زیب نہیں دیتیں۔ صاف لگ رہا ہے کہ حکومت کے شہ دماغوں نے یہ راستہ نکالا ہے، مہینے میں تیس مرتبہ قیمت بڑھا کر اپنا ہدف پورا کر لو۔ مثلاً فرض کرتے ہیں مہینے میں بیس دن اوسطاً پانچ روپے فی لٹر قیمت بڑھائی جاتی ہے اور باقی دس دن برقرار رکھی جاتی ہے تو مہینے میں سو روپے فی لٹر بڑھ جائیں گے۔ ویسے اگر حکومت یکمشت سو روپیہ بڑھاتی تو ایک طوفان آ جاتا۔ یہ قسطوں میں قتل کرنے کا نظام کسی انتہائی شاعر اور سنگدل دماغ کی اختراع ہے۔ اس کے بے شمار اثرات ہو سکتے ہیں اور معاشرے میں بے یقینی بھی بڑھ سکتی ہے۔ اس حوالے سے ہمارے دوست سینیٹر صحافی ظفر آہیر نے چند سوال لکھ بھیجے ہیں۔ وہ پوچھتے ہیں، روزانہ بدلتے پٹرول کے نرخوں کے ساتھ ٹرانسپورٹ کے کرائے کیسے مقرر اور نافذ ہوں گے؟ صنعتیں اور دیگر کاروبار اپنی پیداواری لاگت کا درست تعین کیسے کریں گے؟ فیکٹریاں، تاجر اور مال سپلائی کرنے والے روزانہ بدلتی لاگت کے ساتھ قیمتیں کیسے برقرار رکھیں گے؟ منڈیوں میں اشیائے خوردونوش کے نرخ کیسے مقرر ہوں گے اور انہیں کیسے نافذ کیا جائے گا؟ مہنگائی پر کیسے قابو پایا جائے گا جبکہ بنیادی ایندھن کی قیمت ہی روزانہ تبدیل ہو رہی ہو۔ کیا اس نئے نظام کے لئے موثر نگرانی، ضابطہ ء کار اور عوامی تحفظ کا کوئی طریقہء کارموجود ہے؟ اور سب سے اہم سوال یہ ہے کیا اس پالیسی سے عوام کی زندگی آسان ہوگی یامزید غیر یقینی اور مہنگائی کا شکارہو جائے گی؟ ملتان: جاوید ہاشمی کیخلاف بجلی چوری کا مقدمہ درج میرا نہیں خیال کہ ہمارے پالیسی سازوں، وزراء اور سوچ کے بادشاہوں نے ان سوالات کے بارے میں کچھ سوچا ہو۔ بس انہوں نے تو لاٹھی چلانی تھی سو چلا دی ہے۔ ان پر تو اس کا کوئی اثر نہیں ہونا، پٹرول و ڈیزل انہیں مفت ملتا تھا اور اب بھی ملتا رہے گا۔ پچیس تیس گاڑیوں کے ساتھ ان کی آنیاں جانیاں جاری رہیں گی۔یہ عام آدمی کا مسئلہ ہے جو روزانہ پٹرول کی قیمت پر نظریں جمائے اور سر کھپائے گا۔ کہیں پٹرول ملے گا کہیں مالکان قیمت بڑھنے کی امید پر پٹرول پمپ بند کر دیں گے۔ صاف نظر آ رہا ہے کہ اس فیصلے میں حماقت زیادہ نظر آ رہی ہے، منطق کا دور دور تک نشان نظر نہیں آ رہا۔ پٹرول اور ڈیزل سے معیشت کا پہیہ چلتا ہے۔ جب یہ پہیہ ہی ڈانواڈول ہوجائے گا تو کیسی معیشت اور کیسا اقتصادی استحکام؟ ہے کسی کے پاس اس فیثا غورث سوال کا جواب؟ پاکستان فلم انڈسٹری کے لیجنڈ اداکار ندیم نے زندگی کی 85 بہاریں دیکھ لیں ٭٭٭٭٭

Read full story on Daily Pakistan

RELATED ARTICLES

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

- Advertisment -
Google search engine

Most Popular

Recent Comments