74.6 F
Pakistan
Saturday, September 12, 2026
HomePoliticsچینی فوج کی پیش قدمی، انڈیا کے سرحدی دیہات کے رہائشی خوف...

چینی فوج کی پیش قدمی، انڈیا کے سرحدی دیہات کے رہائشی خوف کا شکار

چین کے ساتھ انڈیا کی سرحد کے دور دراز دیہات میں خوف و ہراس پھیل گیا ہے، جہاں قبائلی برادریوں کا کہنا ہے کہ انہیں تیزی سے بڑھتے ہوئے خطرے یعنی آگے بڑھتی ہوئی چینی فوج کے باعث اپنے آبائی یاک چرانے اور شکار کرنے کی زمینوں سے پیچھے دھکیلا جا رہا ہے۔ دی انڈپینڈنٹ کو موصول ہونے والی سیٹلائٹ تصاویر اروناچل پردیش میں انڈیا اور چین کی متنازع سرحد کے ساتھ اور اس کے قریب متعدد مقامات پر بنیادی ڈھانچے میں تیزی سے توسیع کو ظاہر کرتی ہیں، جن میں نئی عمارتیں، سڑکیں اور ہیلی پیڈز شامل ہیں۔ یہ تصاویر ہمالیہ میں سرحد کے انتہائی ناقابل رسائی حصوں میں سے ایک کے ساتھ بدلتے ہوئے منظر نامے کا ایک نادر بصری ریکارڈ پیش کرتی ہیں، جہاں علاقائی دعوؤں کے تنازع اور مستقل انڈین موجودگی برقرار رکھنے میں مشکل نے سرحد کے قریب رہنے والی برادریوں کو تیزی سے تشویش میں مبتلا کر دیا ہے۔ تکوک مرا نے انڈیا کے اروناچل پردیش میں سرحد سے تقریباً 20 کلومیٹر دور اپنے دور دراز گاؤں سے فون پر دی انڈپینڈنٹ سے بات کی، جس پر چین مکمل طور پر دعویٰ کرتا ہے اور اسے زنگنان یا جنوبی تبت کہتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ چینی فوج سے لڑنے کے لیے تیار ہیں، اگر نوبت یہاں تک پہنچتی ہے۔ تکوک مرا کا کہنا ہے: ’چینی اس وقت ہماری آبائی زمین پر قبضہ کر رہے ہیں۔ ہم یہیں کھاتے ہیں، زندہ رہتے ہیں اور اپنا روزگار چلاتے ہیں اور یہ ہماری زمین ہے۔ وہ پہلے ہی انڈین علاقے کے اندر بہت دور تک داخل ہو چکے ہیں۔ ’میں قطعی طور پر نہیں کہہ سکتا کہ انہوں نے کتنے کلومیٹر رقبہ پر قبضہ کیا ہے، لیکن انہوں نے کافی حصہ لے لیا ہے۔‘ 17 جون، 2020 کو چین کی سرحد پر واقع علاقے گن گیر میں دیہاتی لکڑیاں لے جا رہے ہیں جب کہ انڈین بارڈر سکیورٹی فورس کا اہلکار سرحد سے ملحق شہر لیہہ جانے والی شاہراہ پر پہرہ دے رہا ہے (اے ایف پی) چین کے صدر شی جن پنگ اس ہفتے کے آخر میں انڈین وزیراعظم نریندر مودی سے ملاقات کے لیے انڈیا جا رہے ہیں۔ ان کے ساتھ چین کا ایک بڑا وفد بھی ہوگا جو گذشتہ کئی سال میں انڈیا جانے والا سب سے بڑا چینی وفد ہے۔ دونوں ملکوں کی حکومتیں سرحد پر کشیدگی کو کم ظاہر کرنے کی کوشش کر رہی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ وہاں 2020 جیسا کوئی باقاعدہ فوجی ٹکراؤ جاری نہیں، جس میں انڈیا کے کم از کم 20 فوجی مارے گئے تھے۔ سیٹلائٹ تصاویر اور سرحدی دیہات کے رہائشیوں کے بیانات ایک مختلف صورت حال دکھاتے ہیں۔ ان سے پتہ چلتا ہے کہ چین متنازع علاقے میں مسلسل آگے بڑھ رہا ہے اور وہاں تعمیرات کر رہا ہے۔ یہ معاملہ اب بھی دونوں ملکوں کے سفارتی اور فوجی حکام کے درمیان مذاکرات کا حصہ ہے۔ وینٹور کی فراہم کردہ سیٹلائٹ تصاویر کا جائزہ لینے والے ماہرین نے اپر سبان سیری وادی میں کئی مقامات پر حالیہ تعمیرات اور بنیادی ڈھانچے میں تبدیلیوں کی نشاندہی کی ہے۔ مرا کا گاؤں گیلیمو بھی اسی وادی میں واقع ہے۔ عالمی سطح پر عوامی ذرائع سے انٹیلی جنس معلومات جمع کرنے والی کمپنی جینز کے مطابق، تبت کی لہونزے کاؤنٹی کے شمال میں ژاری قصبے کے قریب دو مقامات پر سب سے زیادہ واضح سرگرمیاں دیکھی گئی ہیں۔ یہ علاقے سرحد کے اس جانب ہیں جو چین کے کنٹرول میں ہے۔ جینز کے ماہرین کا کہنا ہے کہ ’سیٹلائٹ تصاویر سے تصدیق ہوتی ہے کہ ان علاقوں میں حال ہی میں تعمیرات ہوئی ہیں۔‘ ان کے مطابق جب ان تصاویر کا موازنہ سرحد کے بارے میں انڈیا اور چین کے الگ الگ دعوؤں سے کیا جاتا ہے تو معلوم ہوتا ہے کہ کچھ تعمیرات ایسے علاقے میں ہیں، جس پر دونوں ملک اپنا حق جتاتے ہیں۔ اس طرح یہ تعمیرات براہ راست متنازع علاقے میں واقع ہیں۔ قصبے کے جنوب میں ایک مقام پر 2019 کے آغاز میں تعمیراتی کام شروع ہوا تھا اور اسی سال اگست تک وہاں پہلی عمارتیں نظر آنے لگی تھیں۔ یہ کام اب بھی جاری ہے۔ وہاں زمین ہموار کی گئی ہے، تعمیراتی اور انجینیئرنگ گاڑیاں موجود ہیں اور سیمنٹ پلانٹ لگایا جا رہا ہے۔ تجزیہ کاروں نے دی انڈپینڈنٹ کو بتایا کہ اس جگہ کے فوجی استعمال کے امکان کو رد نہیں کیا جا سکتا۔ قصبے کے اندر ایک اور تعمیراتی مقام کے بارے میں تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اس کے فوجی مرکز ہونے کا امکان تقریباً پچاس فیصد ہے۔ 19 مئی، 2008 کو انڈیا کی شمال مشرقی ریاست سکم میں تاجروں کو لے جانے والی چینی گاڑیاں 15 ہزار فٹ بلند نتھولا درے پر چین اور انڈیا کی سرحد عبور کرنے کے بعد انڈین علاقے میں داخل ہو رہی ہیں (اے ایف پی) قریب ہی سڑک کے ایک حصے کو چوڑا کیا گیا ہے اور اس کی ڈھلوان کم کی گئی ہے۔ ان تبدیلیوں سے بھاری سامان کی نقل و حرکت آسان ہو جاتی ہے اور عموماً اس کے بعد سڑک کو پختہ کیا جاتا ہے تاکہ اسے پورا سال استعمال کیا جا سکے۔ لہونزے کے جنوب کی تصاویر میں ایک نیا ہیلی پیڈ بھی نظر آتا ہے، جو دو چھوٹے ہیلی پیڈز کی جگہ بنایا گیا ہے۔ اس سے مزید جنوب میں بھی ایک نیا ہیلی پیڈ تعمیر کیا گیا ہے۔ اگست 2026 کی وینٹور کی تازہ ترین تصویر سے پتہ چلتا ہے کہ کم از کم ایک عمارت پر اب چھت ڈال دی گئی ہے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ تعمیراتی کام اب بھی جاری ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق اس جگہ کے فوجی نوعیت کا ہونے کا امکان زیادہ ہے۔ انہوں نے اس کی وجہ وہاں کی ترتیب، فوجی طرز کی گاڑیوں کی موجودگی اور ساتھ قائم تربیتی علاقے کو قرار دیا ہے۔ فروری سے مئی 2026 کے درمیان اس مقام کو قصبے سے ملانے والی ایک نئی سڑک بھی بنائی گئی۔ قصبے کے قریب فروری سے مئی 2026 کے درمیان ایک سڑک بھی تعمیر کی گئی۔ یہ الزامات ایسے وقت سامنے آئے ہیں جب چین اور انڈیا کے تعلقات ایک حساس مرحلے سے گزر رہے ہیں۔ برکس سربراہی اجلاس میں شرکت کے لیے شی جن پنگ کا دہلی کا دورہ، وادی گلوان میں 2020 کی سرحدی جھڑپ کے بعد ان کا انڈیا کا پہلا دورہ ہے۔ اس جھڑپ کے بعد دونوں جوہری طاقتوں کے تعلقات کئی دہائیوں کی بدترین سطح پر پہنچ گئے تھے۔ توقع ہے کہ شی جن پنگ کے ساتھ تقریباً 400 عہدیداروں کا وفد بھی ہوگا۔ چینی سرگرمیوں پر مقامی لوگوں میں بڑھتی تشویش کے دوران حقائق جاننے والے دو آزاد گروپوں نے زمینی صورت حال کا جائزہ لینے کے لیے گیلیمو اور تاکسنگ کا دورہ کیا۔ مشرقی ہمالیہ میں بلندی پر واقع یہ دور دراز دیہات چین اور انڈیا کی سرحد سے تقریباً 15 سے 20 کلومیٹر دور ہیں۔ آل ٹیگن سٹوڈنٹس یونین کے صدر تدک پاکبا آٹھ افراد کے ایک گروپ کو گیلیمو اور تاکسنگ لے گئے۔ انہوں نے مقامی رہائشیوں، قبائلی برادریوں اور فوجی سامان اٹھانے والے مزدوروں سے براہ راست معلومات حاصل کیں۔ یہ یونین اروناچل پردیش کی مقامی ٹیگن برادری کی نمائندگی کرتی ہے۔ پاکبا کا کہنا ہے کہ مبینہ طور پر چین جس انداز میں اب وہاں دراندازی کر رہا ہے، ایسا پہلے کبھی نہیں دیکھا گیا۔ 5 جولائی، 2006 کی اس تصویر میں نتھولا سرحد پر چینی فوج کے ایک افسر انڈین فوجی افسر سے ہاتھ ملا رہے ہیں (اے ایف پی) ان کا کہنا ہے کہ ’سرحدی دیہات میں صرف خوف و ہراس ہی نہیں بلکہ زمینی حقیقت بھی یہی ہے۔ انڈین فوج پیچھے جا رہی ہے اور چینی فوج آگے بڑھ رہی ہے۔‘ 11 سے 13 اگست کے درمیان مقامی رہنما پاکبا اور ان کی ٹیم نے تین روز تک علاقے کا جائزہ لیا۔ انہوں نے کئی ایسی جگہوں پر چینی پیش قدمی کی اطلاع دی جہاں عام طور پر انڈین فوج گشت کرتی تھی۔ ان مقامات میں شکار اور یاک چرانے کے دور دراز علاقے بھی شامل ہیں، جہاں مقامی انڈین دیہاتی کئی سال سے جاتے رہے ہیں۔ پاکبا کا کہنا ہے: ’اب دیہاتیوں کو ان علاقوں میں جانے سے روک دیا گیا ہے۔ اس سے مقامی لوگوں میں خوف پھیل گیا ہے اور بعض لوگ سرحدی علاقوں سے نقل مکانی کر رہے ہیں۔‘ ان کا مزید کہنا ہے: ’یہ سب بہت حالیہ ہے اور اس سال جون سے ہو رہا ہے۔‘ حقائق جاننے والی ٹیم کی رپورٹ اپر سبان سیری کے ڈپٹی کمشنر اور وزیر اعلیٰ کے دفتر میں جمع کروائی گئی ہے۔ دی انڈپینڈنٹ کو دستیاب اس رپورٹ میں تاکسنگ اور گیلیمو کے سرحدی علاقے میں چینی پیپلز لبریشن آرمی کی مبینہ موجودگی اور سرگرمیوں پر ’فوری کارروائی‘ کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق اسے ’عام ترقیاتی مسئلہ‘ نہیں بلکہ ’انتہائی اہم دفاعی اور قومی معاملہ‘ سمجھا جانا چاہیے۔ یہ معاملہ سب سے پہلے ناہ ویلفیئر سوسائٹی نے اٹھایا تھا۔ یہ مقامی قبائلی تنظیم ناہ برادری کی نمائندگی کرتی ہے، جو کئی نسلیں پہلے تبت سے آ کر اپر سبان سیری ضلع میں آباد ہوئی تھی۔ تنظیم نے اپر سبان سیری کے ڈپٹی کمشنر کو ایک تحریری درخواست دی، جس میں دعویٰ کیا گیا کہ چینی فوج نے کئی ایسی جگہوں پر سڑکیں، پل اور فوجی کیمپ بنا لیے ہیں جہاں مقامی برادریاں روایتی طور پر مویشی چراتی، شکار کرتی اور جنگلات سے پیداوار حاصل کرتی تھیں۔ درخواست میں کہا گیا: ’تاکسنگ میں چینی فوج کی موجودہ سرگرمیوں کا مقصد اور رفتار بہت تشویش ناک ہے۔ ہم ہر روز اپنی زمین تھوڑی تھوڑی کرکے کھو رہے ہیں۔‘ انڈیا کی ریاست اروناچل پردیش کے ضلع اپر سبان سیری میں واقع دور دراز سرحدی گاؤں گیلیمو کا ایک منظر (فراہم کردہ تصویر) مرا کے لیے چین کے ساتھ انڈیا کی سرحد پر اپنی روایتی زمین تک رسائی ختم ہونا محض ایک علاقائی تنازع نہیں بلکہ ذاتی نقصان ہے۔ انڈیا اور چین کے درمیان 1962 کی جنگ کے بعد سے یہ آبائی زمین ان کے خاندان کے پاس رہی ہے۔ 38 سالہ مرا کہتے ہیں: ’میں ایک سچا محب وطن ہوں۔ ہمیں اپنے ملک اور اپنی زمین کی حفاظت کے لیے ہتھیار دیے جائیں۔‘ ہمالیہ کے جنگلات میں شکار اور مویشی چرانے والی قبائلی برادریاں اس سرحدی تنازع میں محض خاموش تماشائی نہیں ہیں۔ وہ متنازع علاقوں میں فوجیوں کی نقل و حرکت کے بارے میں انڈین فوج کو معلومات بھی دیتی ہیں۔ مرا کا کہنا ہے کہ انہوں نے جون میں ہی انڈین فوج کو چینی فوجیوں کی موجودگی سے آگاہ کر دیا تھا، جس کے بعد فوج نے علاقے میں اپنی سرگرمیاں بڑھا دیں۔ مرا نے اپنے گاؤں میں بجلی، سڑکوں، علاج معالجے اور سکولوں جیسی بنیادی سہولتیں نہ ہونے پر مایوسی ظاہر کی۔ انہوں نے اس صورت حال کا موازنہ سرحد کے قریب چین کی تیز رفتار تعمیرات سے کیا۔ وہ کہتے ہیں: ’جب ہم اپنے گاؤں گیلیمو پہنچتے ہیں تو ہمیں محسوس ہوتا ہے کہ ہم دنیا سے مکمل طور پر کٹ گئے ہیں۔ بنیادی سہولتیں نہ ہونے کی وجہ سے مقامی لوگ روزگار کے لیے ضلعی علاقوں کی طرف چلے جاتے ہیں، اسی لیے سرحدی علاقہ آہستہ آہستہ خالی ہو رہا ہے۔‘ ان کا خیال ہے کہ دور دراز علاقوں سے لوگوں کی اس نقل مکانی کی وجہ سے بھی چینی فوج کو آگے بڑھنے کا موقع مل رہا ہے۔ حقائق جاننے والا دوسرا مشن پیپلز پارٹی آف اروناچل پردیش نے بھیجا تھا۔ یہ جماعت انڈیا کی حکمران بھارتیہ جنتا پارٹی کی اتحادی ایک علاقائی جماعت ہے۔ اس نے چار افراد پر مشتمل ایک ٹیم سرحدی علاقوں میں بھیجی۔ پارٹی کے بڑے مشیر اور ریاست کے سابق وزیر کاپا بینگیا بھی اس ٹیم میں شامل تھے۔ ٹیم نے تاکسنگ، گیلیمو اور سرحد کے قریب ترین دیہات میں شامل مازا کا دورہ کیا۔ بینگیا کہتے ہیں: ’چینی فوج پہلے ہی آگے بڑھ رہی ہے اور ہمارے گشتی دستے کو اپنی ہی زمین کی طرف جانے کی اجازت نہیں دی جا رہی۔‘ رپورٹ کے مطابق تاکسنگ کے دور دراز علاقے میں واقع اہم سرحدی مقام نانگا پہاڑ کو مقامی لوگوں کے لیے مکمل طور پر ممنوع علاقہ قرار دے دیا گیا ہے۔ ناہ اور دوسری قبائلی برادریاں روایتی طور پر اس علاقے کو استعمال کرتی رہی ہیں۔ انڈین فوج نے متنازع علاقے میں چینی دراندازی کی اطلاعات کو مجموعی طور پر مسترد کرتے ہوئے انہیں ’غلط اور بے بنیاد‘ قرار دیا ہے۔ مزید پڑھ اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field) تاہم انڈیا کی وزارت خارجہ کا جواب اتنا واضح نہیں تھا۔ وزارت نے سرحدی مسائل کو دونوں ملکوں کے درمیان پرامن تعلقات برقرار رکھنے کا ’زیادہ سنگین‘ پہلو قرار دیا۔ انڈین حکومت کے ترجمان رندھیر جیسوال نے کہا: ’ہم یہ بھی کہہ چکے ہیں کہ سرحدی معاملات کی صورت حال ہمارے مجموعی باہمی تعلقات پر اثر انداز ہوگی۔‘ چین نے بھی ایک بیان جاری کیا، لیکن اس نے نئی سرحدی کشیدگی کی نہ تصدیق کی اور نہ تردید۔ بیجنگ میں وزارت خارجہ کے ترجمان گو جیاکن نے کہا: ’چین اور انڈیا کی سرحد پر صورت حال اس وقت مجموعی طور پر مستحکم ہے۔‘ انڈین حکومت کی جانب سے تشویش کی تصدیق کے قریب ترین بیان اروناچل پردیش کے وزیراعلیٰ پیما کھانڈو نے دیا۔ انہوں نے وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ سے اپنی ملاقات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ وزیر دفاع ’اس معاملے پر بہت فکرمند ہیں اور سرگرمی سے کام کر رہے ہیں۔‘ ان کے مطابق آنے والے دنوں میں وہ ’یقینی طور پر ضروری بنیادی ڈھانچے کے لیے مدد فراہم کریں گے۔‘ اروناچل پردیش کے مقامی عوامی رہنما اور اپر سبان سیری ضلع کے رہائشی اجے مرتیم کہتے ہیں، ’اگر انڈین حکومت نے تاکسنگ، مازا، گیلیمو اور شریچو وادی میں چین کی توسیع نہ روکی تو چین اور انڈیا کے درمیان نئی جنگی حدود اپر سبان سیری ضلع میں بنیں گی۔‘ مرتیم کے مطابق اروناچل پردیش کی بڑی مقامی برادریوں میں شامل ٹیگن قبیلہ اور اس کی ذیلی ناہ برادری تاکسنگ سے صرف ایک گھنٹے کی مسافت پر واقع پوترانگ جھیل پر مذہبی رسومات ادا کرتی ہے۔ تاہم حالیہ دنوں میں چینی فوج نے قبائلی لوگوں کو بدھ مت کے اس قدیم مقدس مقام پر جانے سے روک دیا ہے۔ وہ کہتے ہیں: ’ہم سب محب وطن ہیں۔ بین الاقوامی سرحد کے ساتھ رہنے والے لوگ صرف دور دراز دیہات کے باشندے نہیں بلکہ سرحد پر قوم کی آنکھیں اور کان بھی ہیں۔‘ دہلی کی جواہر لعل نہرو یونیورسٹی میں چینی امور کے پروفیسر سری کانت کونڈاپلی کہتے ہیں کہ اروناچل پردیش میں ہونے والی سرگرمیاں چین کی ’سلامی سلائسنگ‘ حکمت عملی کا حصہ ہیں۔ اس سے مراد ایک ہی بار بڑی دراندازی کرنے کے بجائے چھوٹے چھوٹے قدم اٹھا کر آہستہ آہستہ اپنی پوزیشن مضبوط کرنا ہے۔ وہ وضاحت کرتے ہیں: ’پہلے چینی کچھ یاک چھوڑتے ہیں اور انڈین فوج کے ردعمل کا انتظار کرتے ہیں۔ اگر کئی ماہ تک کوئی ردعمل نہ آئے تو وہ ایک چھوٹا سا شیڈ بناتے ہیں۔ پھر اسے مستقل عمارت میں بدل دیتے ہیں اور جب انہیں کسی مزاحمت کا سامنا نہ ہو تو وہاں فوج کی ایک چھوٹی کمپنی تعینات کر دیتے ہیں۔‘ انہوں نے اسے ایک ایسا ’غیر واضح علاقہ‘ قرار دیا جہاں میک موہن لائن، یعنی انڈیا کی ریاست اروناچل پردیش اور تبت کے درمیان عملی سرحد، قانونی طور پر واضح نہیں ہے۔ انڈین حکومت نے سرحدی دیہات کے چینی منصوبے جیسا اپنا پروگرام شروع کرنے کی کوشش کی ہے۔ چین نے اپنے سرحدی دیہات میں لوگوں کو آباد کرنے میں کامیابی حاصل کی ہے اور انہیں ’شیاو کانگ‘ یعنی ’خوش حال آبادیاں‘ کہتا ہے۔ اس طرح چین اپنے علاقائی دعوے مضبوط کرتا ہے۔ کونڈاپلی کے مطابق انڈیا کا ’وائبرنٹ ولیج پروگرام‘ کامیاب نہیں ہوا کیوں کہ اس کے لیے ایک پورا نظام قائم کرنے کی ضرورت ہے۔ وہ کہتے ہیں: ’چین نے لونگجو میں تقریباً 100 مثالی دیہات تعمیر کیے اور وہاں سے اس نے اروناچل پردیش کے ان علاقوں کی طرف پھیلنا شروع کیا جن پر انڈیا اپنا دعویٰ کرتا ہے۔‘ کونڈاپلی کا کہنا ہے کہ انڈیا کا عملی سرحد، یعنی لائن آف ایکچوئل کنٹرول، تک باقاعدگی سے نہ پہنچ پانا چین کو اپنی زمین پر تھوڑا تھوڑا قبضہ کرنے کی حکمت عملی جاری رکھنے کا موقع دیتا ہے۔ وہ کہتے ہیں: ’جب تک آپ اپنا بنیادی ڈھانچہ تیار کرکے لائن آف ایکچوئل کنٹرول پر اپنی پوزیشن مضبوط نہیں کرتے، آپ کے پاس چین پر دباؤ ڈالنے کا کوئی ذریعہ نہیں ہوگا۔ چینی فوج 24 گھنٹوں کے اندر لائن آف ایکچوئل کنٹرول تک پہنچ سکتی ہے۔ چین نے 1980 کی دہائی میں سڑکوں کی تعمیر شروع کر دی تھی، جبکہ ہم ابھی جاگے ہیں۔‘ سرحدی معاملہ انڈیا میں بحث کا ایک بڑا موضوع ہے اور مقامی لوگ اس ہفتے کے آخر میں ہونے والے سربراہی اجلاس کے دوران سامنے آنے والی کسی بھی پیش رفت پر گہری نظر رکھیں گے۔ تاہم شی جن پنگ اور نریندر مودی کی پریس سے براہ راست بات چیت کا امکان بہت کم ہے۔ کونڈاپلی کے مطابق اس بات کا امکان بھی کم ہے کہ دونوں میں سے کوئی رہنما یہ معاملہ اٹھائے گا۔ چین اگلے سال برکس کی میزبانی سنبھالنے والا ہے، اس لیے دونوں ملک اس سال کے مذاکرات کو کامیاب ظاہر کرنے میں گہری دلچسپی رکھتے ہیں۔ چین سرحد انڈیا تبت شی جن پنگ نریندر مودی برکس دور دراز کے انڈین سرحدی دیہات کے رہائشیوں کے مطابق انہیں خدشہ ہے کہ پیش قدمی کرتی چینی فوج انہیں ان کی آبائی زمینوں سے بے دخل کر دے گی۔ شویتا شرما ہفتہ, ستمبر 12, 2026 – 11: 45 Main image:

پلینیٹ لیبز سے حاصل کی گئی یکم نومبر، 2020 کی سیٹلائٹ تصویر میں انڈیا اور چین کی متنازع سرحد کے قریب ایک نیا تعمیر شدہ چینی گاؤں دیکھا جا سکتا ہے (اے ایف پی)

ایشیا type: news related nodes: انڈیا چین کے نئے ایٹلس ڈرون نظام سے پریشان انڈیا چین سرحدی کشیدگی سے بڑے تصادم کا خطرہ ہے: انڈین آرمی انڈیا اور چین کے متنازع سرحد سے متعلق مذاکرات برکس: شی جن پنگ کا 7 سال بعد دورہ انڈیا، کیا تعلقات بہتر ہوں گے؟ SEO Title: چینی فوج کی پیش قدمی، انڈیا کے سرحدی دیہات کے رہائشی خوف کا شکار copyright: IndependentEnglish origin url: https: //www. independent. co. uk/asia/india/india-china-border-clash-arunachal-taksing-gelemo-b3045737. html show related homepage: Hide from Homepage

Read full story on Independent Urdu

RELATED ARTICLES

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

- Advertisment -
Google search engine

Most Popular

Recent Comments