68.1 F
Pakistan
Monday, June 22, 2026
HomeEnvironmentچھت پر فش فارم: فیصل آباد میں شہری ماہی پروری کا تجربہ

چھت پر فش فارم: فیصل آباد میں شہری ماہی پروری کا تجربہ

زرعی یونیورسٹی فیصل آباد نے شہری علاقوں میں ماہی پروری کو فروغ دینے کے لیے جدید ’روف ٹاپ بایئو فلوک سسٹم‘ متعارف کرایا ہے۔ یہ نظام کم پانی اور محدود جگہ میں زیادہ مچھلی پیدا کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ اس منصوبے کے سربراہ اور زرعی یونیورسٹی فیصل آباد کے ڈپارٹمنٹ آف زوالوجی، وائلڈ لائف اینڈ فشریز کے ایسوسی ایٹ پروفیسر ڈاکٹر عبدالمتین نے انڈپینڈنٹ اردو سے گفتگو میں بتایا کہ وہ اس ٹیکنالوجی کو پاکستان میں زیادہ مؤثر بنانے پر کام کر رہے ہیں۔ ان کے مطابق: ’ہم نے بایئو فلوک ایکوا کلچر تلپیا مچھلی کے لیے لگایا ہے۔ یہ باقاعدہ ایک شوکیس ہے تاکہ ہم کسانوں کو کم خرچ، ماحول دوست اور پائیدار ایکوا کلچر سسٹم دے سکیں۔‘ انہوں نے بتایا کہ یونیورسٹی میں بایئو فلوک ایکوا کلچر کے تحت 10 فٹ قطر کے دو ٹینک لگائے گئے ہیں۔ ان دو ٹینکوں سے چھ ماہ میں اتنی مچھلی حاصل ہو گی جتنی عام طور پر آدھے ایکڑ پر بنائے گئے تالاب سے حاصل ہوتی ہے۔ ڈاکٹر عبدالمتین کے مطابق: ’اسے آپ اپنے گھر، لان یا چھت پر کہیں بھی بنا سکتے ہیں۔ اس طرح کے دو ٹینک بنانے پر ابتدائی طور پر تقریباً ڈیڑھ سے دو لاکھ روپے خرچ آتا ہے اور یہ سیٹ اپ کم از کم 10 سال تک چل سکتا ہے۔‘ روف ٹاپ بایئو فلوک سسٹم متعارف کم پانی اور محدود جگہ میں زیادہ مچھلی پیدا کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے (نعیم احمد/انڈپینڈنٹ اردو) ان کا کہنا تھا کہ بایئو فلوک کلچر پر آنے والے اخراجات اس سے حاصل ہونے والی آمدن کے مقابلے میں نہ ہونے کے برابر ہیں۔ انہوں نے کہا: ’اس طرح کے ایک ٹینک سے ایک سیزن میں کم از کم 200 کلوگرام مچھلی آسانی سے حاصل ہو جاتی ہے۔ ہمارے پاس دو ٹینک ہیں، اس لیے یہ پیداوار 400 کلوگرام تک پہنچ سکتی ہے۔ اس طرح لاگت پہلے ہی سیزن میں پوری ہو جاتی ہے اور پھر اگلے نو سال تک یہ نظام بہت کم خرچ پر چلتا رہتا ہے۔‘ ڈاکٹر عبدالمتین کا کہنا ہے کہ بایئو فلوک کلچر کو چلانے کی لاگت نہایت کم ہے۔ اسے لگانے کے بعد اصل خرچ صرف مچھلیوں کی خوراک پر آتا ہے، لیکن روایتی ماہی پروری کے مقابلے میں یہ خرچ بھی تقریباً آدھا رہ جاتا ہے۔ ان کے مطابق اس نظام میں قدرتی طور پر بننے والے بیکٹیریا یا بایئو فلوک کو بھی مچھلیاں خوراک کے طور پر استعمال کرتی ہیں۔ انہوں نے بتایا: ’ہم ہر کسان کے لیے دستیاب ہیں۔ میرے پاس روزانہ دو، تین کسان یا شہری آتے ہیں جو یہ کام کر رہے ہیں یا کرنا چاہتے ہیں۔ ہم ان کی رہنمائی کرتے ہیں۔ خود جا کر ان کا کام دیکھتے ہیں اور تکنیکی مشاورت بھی فراہم کرتے ہیں۔‘ زرعی یونیورسٹی فیصل آباد اس ٹیکنالوجی کو پاکستان میں زیادہ مؤثر بنانے پر کام کر رہی ہے (نعیم احمد/انڈپینڈنٹ اردو) ڈاکٹر عبدالمتین نے بتایا کہ فیصل آباد سمیت ملک کے مختلف حصوں کے کئی جدت پسند کاشت کار اور شہری ان سے یہ طریقہ سیکھ کر اچھی آمدن حاصل کر رہے ہیں۔ ان کے بقول: ’شاہ کوٹ میں عمران صاحب نامی ایک ترقی پسند کسان ہیں جو یہ نظام بہت اچھے انداز میں چلا رہے ہیں۔ وہ اس میں مہاشیر مچھلی کلچر کر رہے ہیں۔ ’انہوں نے پامفرٹ مچھلی بھی کلچر کی تھی اور اب وہ تلپیا فش کلچر کر رہے ہیں۔ وہ اپنی مچھلی منڈی میں نہیں بیچتے بلکہ انہوں نے اپنا سیل پوائنٹ بنایا ہوا ہے۔ اسی طرح ڈجکوٹ میں بھی کئی کسان یہ کام کر رہے ہیں۔ بے شمار کسان اس طرف آ رہے ہیں اور یہ شعبہ مزید ترقی کرے گا۔‘ ڈاکٹر عبدالمتین نے موسمیاتی تبدیلی کے تناظر میں بایئو فلوک ایکوا کلچر کی اہمیت بھی واضح کی۔ انہوں نے بتایا کہ ایک ایکڑ رقبے میں عموماً تین سے ساڑھے تین ہزار تلپیا مچھلی ڈالی جاتی ہے۔ ان کے مطابق: ’ایک ایکڑ میں تقریباً 4048 مربع میٹر جگہ ہوتی ہے اور اس میں تقریباً 60 لاکھ لیٹر پانی ہوتا ہے۔ اس پانی کی سطح مسلسل برقرار رکھنی پڑتی ہے۔ اگر یہی تین سے ساڑھے تین ہزار مچھلی ہم بایو فلوک میں کلچر کرنا چاہیں تو ہمیں صرف 30 سے 40 فٹ جگہ درکار ہو گی۔‘ انہوں نے لیبر لاگت کے حوالے سے بھی دونوں طریقوں کا موازنہ کیا۔ ان کے مطابق 60 لاکھ لیٹر پانی کے لیے تقریباً پانچ دن تک ٹیوب ویل چلانا پڑتا ہے، جب کہ 40 ہزار لیٹر پانی عام پمپ کے ذریعے آدھے سے ایک گھنٹے میں حاصل ہو جاتا ہے۔ ڈاکٹر عبدالمتین کہتے ہیں کہ ’بایو فلوک ٹینک میں پانی کی سطح برقرار رہتی ہے کیونکہ اس میں رساؤ نہیں ہوتا۔ ہاں، بخارات بننے سے تھوڑا پانی کم ہو سکتا ہے۔ اس کے مقابلے میں عام تالاب میں رساؤ بھی ہوتا ہے اور پانی بخارات بن کر اڑتا بھی ہے، اس لیے روزانہ پانی پورا کرنا پڑتا ہے۔‘ انہوں نے کہا کہ ایک ایکڑ کے تالاب کی دیکھ بھال پر لیبر لاگت بھی زیادہ آتی ہے اور اسے سنبھالنا بھی مشکل ہوتا ہے۔ ان کے مطابق: ’جتنی بڑی واٹر باڈی ہو گی، اسے سنبھالنا اتنا ہی مشکل ہو گا۔ اس کے برعکس، جتنا چھوٹا یونٹ ہو گا، اسے سنبھالنا اتنا ہی آسان ہو گا۔‘ مزید پڑھ اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field) ڈاکٹر عبدالمتین نے مزید بتایا کہ بایو فلوک ایکوا کلچر اس لحاظ سے بھی مؤثر ہے کہ اس پر بجلی کا خرچ بہت کم، بلکہ نہ ہونے کے برابر ہے۔ انہوں نے کہا کہ ’یہ دو ٹینک ہیں اور ان کے لیے تقریباً 100 واٹ کا پمپ لگا ہوا ہے، جو ایک بلب جتنی بجلی لیتا ہے۔ ہم نے اس کے لیے سولر سسٹم لگا رکھا ہے۔ نہ ہمیں بجلی کا مسئلہ ہے اور نہ جگہ کا۔‘ ان کا کہنا تھا کہ وسائل اور موسم دونوں کے لحاظ سے یہ طریقہ زیادہ مفید ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ اس کا درجہ حرارت ہمارے کنٹرول میں ہے اور اس کی آکسیجن بھی ہمارے کنٹرول میں ہے۔ موسمیاتی تبدیلی ہو رہی ہے۔ کئی مرتبہ درجہ حرارت بہت زیادہ ہو جاتا ہے جس سے تالابوں میں بڑی تعداد میں مچھلیاں مر جاتی ہیں، لیکن اس نظام میں ایسا نہیں ہوتا کیونکہ یہ کنٹرولڈ کنڈیشنز میں چلتا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ تالاب میں باہر سے کئی چیزیں شامل ہو سکتی ہیں۔ نہری پانی آ سکتا ہے۔ کوئی جڑی بوٹی داخل ہو سکتی ہے۔ کوئی گوشت خور مچھلی آ سکتی ہے۔ کوئی جرثومہ داخل ہو سکتا ہے یا کوئی پرندہ اوپر سے گزرتے ہوئے کوئی چیز تالاب میں گرا سکتا ہے۔ اس سے تالاب کا پانی زہریلا ہو سکتا ہے۔ ان کے مطابق بایئو فلوک نظام ان خطرات سے بڑی حد تک محفوظ ہے۔ یہ نظام مؤثر، محفوظ، با کفایت اور پائیدار ہے۔ مچھلی فش فارمنگ فش فارم فیصل آباد پاکستانی معیشت زرعی یونیورسٹی فیصل آباد کے ایسوسی ایٹ پروفیسر ڈاکٹر عبدالمتین کہتے ہیں کہ ’روف ٹاپ بایئو فلوک سسٹم‘ کم پانی اور محدود جگہ میں زیادہ مچھلی پیدا کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ نعیم احمد سوموار, جون 22, 2026 – 08: 45 Main image:

فیصل آباد میں فش فارمنگ کے لیے ’روف ٹاپ بایو فلوک سسٹم‘ کا تجربہ (نعیم احمد/انڈپینڈنٹ اردو)

معیشت jw id: bAVjOlrk type: video related nodes: پنجاب: سیلاب فش فارمز کی مچھلیاں بہا لے گیا، کروڑوں کا نقصان چارسدہ: جدید فش فارمنگ سے زیادہ مچھلیاں حاصل کرنے والے نوجوان سانگھڑ: مچھلی کا وہ حلوہ جسے آپ ’کھائیں گے تو بار بار آئیں گے‘ سیلاب زدہ تھائی ریسٹورنٹ جہاں لوگ تیرتی مچھلیوں کے بیچ کھانا کھاتے ہیں SEO Title: چھت پر فش فارم: فیصل آباد میں شہری ماہی پروری کا تجربہ copyright: show related homepage: Hide from Homepage

Read full story on Independent Urdu

RELATED ARTICLES

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

- Advertisment -
Google search engine

Most Popular

Recent Comments