زمبابوے کے تیز گیند باز بلیسنگ مزارانی پر پاکستان سپر لیگ (پی ایس ایل) میں کھیلنے پر دو سال کی پابندی عائد کر دی گئی ہے۔ یہ فیصلہ اس وقت سامنے آیا جب انہوں نے اسلام آباد یونائیٹڈ کے ساتھ معاہدے کے باوجود انڈین پریمیئر لیگ (آئی پی ایل) کی ٹیم کولکتہ نائٹ رائیڈرز میں شمولیت اختیار کر لی۔ 29 سالہ مزارابانی، جو آئی پی ایل اور پی ایس ایل کی نیلامی میں فروخت نہیں ہو سکے تھے بعد میں اسلام آباد یونائیٹڈ کی جانب سے سائن کیے گئے تھے۔ تاہم انہوں نے کولکتہ نائٹ رائیڈرز کی طرف سے کھیلنے کو ترجیح دی، جہاں انہیں مستفیض الرحمان کے متبادل کے طور پر شامل کیا گیا ہے۔ مستفیض کو بھارتی کرکٹ بورڈ (بی سی سی آئی) کی ہدایات پر ریلیز کیا گیا تھا۔ گزشتہ سال سے آئی پی ایل اور پی ایس ایل کے انعقاد کے اوقات تقریباً ایک ہی ہیں، جس کی وجہ سے کسی بھی بین الاقوامی کھلاڑیوں کے لیے دونوں لیگز میں بیک وقت شرکت کرنا ناممکن ہو گیا ہے۔ پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) نے منگل کو ایک بیان میں کہا کہ واضح پیشکش اور بنیادی شرائط کی غیر مبہم منظوری کے باوجود کھلاڑی نے ایک متصادم انتظام کی خاطر اپنی ان ذمہ داریوں کو نظر انداز کرنے کا فیصلہ کیا۔ پی سی بی کا مزید کہنا تھا کہ بغیر کسی معقول وجہ کے اس طرح کے وعدوں سے پیچھے ہٹنا معاہدے کی خلاف ورزی ہے اور ان اصولوں کے منافی ہے جو عالمی پیشہ ورانہ کھیلوں کے نظم و ضبط کو چلاتے ہیں۔ یاد رہے کہ گزشتہ سال جنوبی افریقہ کے باؤلر کوربن بوش پر بھی ایک سال کی پابندی لگائی گئی تھی، جنہوں نے ممبئی انڈینز کی طرف سے کھیلنے کے لیے پشاور زلمی کے ساتھ کیے گئے معاہدے کو ٹھکرا دیا تھا۔
پی ایس ایل : پی سی بی نے زمبابوین کھلاڑی پر دو سال کیلئے پابندی لگادی
RELATED ARTICLES



