68.5 F
Pakistan
Thursday, September 17, 2026
HomeEnvironmentپابندی کے باوجود مشہور آن لائن اسٹورز پر زہریلی اسکن وائٹننگ کریموں...

پابندی کے باوجود مشہور آن لائن اسٹورز پر زہریلی اسکن وائٹننگ کریموں کی فروخت جاری

بین الاقوامی سطح پر پارہ یعنی سیماب کی مصنوعات پر پابندی عائد ہوئے ایک دہائی سے زیادہ کا عرصہ گزرنے کے باوجود، عالمی سطح پر رنگت نکھارنے والی زہریلی کریمیں اب بھی ایمیزون، ٹیمو اور ٹک ٹاک شاپ جیسی بڑی آن لائن ویب سائٹس پر دستیاب ہیں۔ ایک عالمی جائزے کے مطابق صحت عامہ کے اداروں اور انتظامیہ کی سالہا سال کی کوششوں کے باوجود ان نقصان دہ مصنوعات کی فروخت کو مکمل طور پر نہیں روکا جا سکا۔ پارے کو انسانی صحت کے لیے نقصان دہ تسلیم کیا جاتا ہے۔ ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن کے مطابق پارہ انسان کے گردوں، دماغ اور نروس سسٹم کو شدید نقصان پہنچا سکتا ہے۔ اسی خطرے کے پیش نظر 2013 میں مناماتا کنونشن کے تحت 150 سے زائد ممالک نے ایک عالمی معاہدے پر دستخط کیے تھے جس کے تحت پارے پر مشتمل مصنوعات کی تیاری، برآمد اور فروخت پر مکمل پابندی لگائی گئی تھی۔ تاہم اس تمام تر قانون سازی کے باوجود یہ کریمیں امریکہ، فرانس، بھارت، متحدہ عرب امارات اور بیلجیم جیسے ممالک میں آن لائن خریداروں کو پیش کی جا رہی ہیں۔ برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق یکم ستمبر تک دستیاب عوامی معلومات کے جائزے میں 20 سے زیادہ ایسی مصنوعات کا پتا چلا، جو ایمیزون، ٹیمو اور ٹک ٹاک شاپ کے مختلف مارکیٹ پلیسز پر صارفین کو فروخت کے لیے دستیاب تھیں۔ رائٹرز کے مطابق آن لائن مارکیٹ میں مسئلہ صرف پابندی کے باوجود مصنوعات کی موجودگی تک محدود نہیں بلکہ بعض فروخت کنندگان ان مصنوعات کو مختلف یا گمراہ کن ناموں سے دوبارہ فروخت کرتے ہیں۔ بعض ایسی مصنوعات، جنہیں ایک ویب سائٹ سے ہٹایا جاتا ہے، کچھ ہی عرصے بعد دوسرے نام یا نئے فروخت کنندہ کے ذریعے دوبارہ نظر آنے لگتی ہیں۔ رائٹرز نے امریکا میں ایمیزون، ٹیمو اور ٹک ٹاک شاپ کے علاوہ فرانس، بھارت، متحدہ عرب امارات اور بیلجیئم میں ایمیزون کے تھرڈ پارٹی مارکیٹ پلیسز پر ایسی 20 سے زیادہ مصنوعات کی نشاندہی کی۔ تاہم، رائٹرز ان تمام مصنوعات میں پارے کی موجودگی کی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں کر سکا۔ ان مصنوعات کی فہرست میں پارے کو بطور جزو بھی ظاہر نہیں کیا گیا تھا۔ رائٹرز کے صحافیوں نے بعض مصنوعات خود بھی خریدیں۔ لندن میں موجود صحافی نے ایمیزون کی برطانیہ، فرانس، بیلجیئم اور بھارت کی ویب سائٹس سے مبینہ طور پر پارے والی کئی مصنوعات خریدیں، جبکہ امریکا میں موجود صحافی نے ٹیمو اور ٹک ٹاک شاپ سے پاکستان میں تیار کردہ ’پارلی بیوٹی کریمز‘، میکسیکو میں تیار کردہ تین اقسام کی بلیچنگ کریمیں اور فلپائن میں تیار کردہ جلد سفید کرنے والے صابن خریدے۔ ان مصنوعات کے مینوفیکچررز نے رائٹرز کی جانب سے تبصرے کے لیے بھیجی گئی درخواستوں کا جواب نہیں دیا۔ ماہرین کے مطابق ان مصنوعات کی مانگ کی ایک بڑی وجہ ان کا نسبتاً تیزی سے جلد کو گورا یا سفید کرنے کا دعویٰ ہے۔ یونیورسٹی آف ایسٹ لندن کے ماہر زہریات ونسٹن مورگن نے کہا کہ پارہ چند دنوں میں جلد کو ہلکا کرنے کا اثر پیدا کر سکتا ہے، جبکہ قانونی کاسمیٹک اجزا، جیسے کوجک ایسڈ یا آربوٹن، عموماً اس رفتار سے اثر نہیں دکھاتے۔ ان کریموں کی مسلسل فروخت کی ایک بڑی وجہ ان کی قیمت کا کم ہونا اور جلد پر فوری اثر دکھانے کی صلاحیت ہے۔ 2021 میں بوسٹن یونیورسٹی کی ایک تحقیق میں بتایا گیا تھا کہ قانونی کاسمیٹک جزو کوجک ایسڈ پر مشتمل جلد ہلکی کرنے والی مصنوعات کی اوسط قیمت تقریباً 24. 89 ڈالر فی اونس تھی۔ اس کے مقابلے میں رائٹرز کو امریکا میں فروخت کے لیے ملنے والی بعض مبینہ پارہ رکھنے والی مصنوعات کی قیمت تقریباً 6. 50 ڈالر فی اونس تھی۔ عالمی ادارہ صحت کے مطابق پارے کی ایسی کوئی مقدار معلوم نہیں جس کے انسانی صحت پر اثرات کو محفوظ قرار دیا جا سکے۔ امریکا میں فوڈ اینڈ ڈرگ ایڈمنسٹریشن کاسمیٹکس میں کل پارے کی مقدار کو ایک حصے فی ملین تک محدود کرتی ہے۔ ماہر ونسٹن مورگن کے مطابق بعض غیر قانونی مصنوعات میں اس سے کہیں زیادہ مقدار پائی جا سکتی ہے۔ رائٹرز ان کے بتائے گئے اعداد و شمار کی آزادانہ تصدیق نہیں کر سکا، تاہم برطانوی اور امریکی حکام ماضی میں ایسی مصنوعات کی نشاندہی کر چکے ہیں جن کے تجربات میں پارے کی بہت زیادہ مقدار سامنے آئی تھی۔ آن لائن پلیٹ فارمز کا کہنا ہے کہ وہ پارے والی ایسی مصنوعات کی فروخت کی اجازت نہیں دیتے۔ ایمیزون، ٹیمو اور ٹک ٹاک نے رائٹرز کو بتایا کہ وہ اپنی پالیسیوں کے خلاف موجود مصنوعات کو ہٹانے اور متعلقہ فروخت کنندگان کے خلاف کارروائی کرنے کے اقدامات کر رہے ہیں۔ تاہم رائٹرز کے جائزے کے وقت یکم ستمبر تک ان میں سے زیادہ تر مصنوعات متعلقہ ویب سائٹس پر موجود تھیں۔ ایمیزون نے کہا کہ اس کے پاس مصنوعات کی فہرست بنانے سے پہلے فروخت کنندگان کی تصدیق، لازمی تعمیری دستاویزات اور بعض صورتوں میں تھرڈ پارٹی لیبارٹری ٹیسٹنگ جیسے حفاظتی اقدامات موجود ہیں۔ کمپنی کے مطابق وہ اپنے نظام کو مزید بہتر بنا رہی ہے اور ایسے فروخت کنندگان کے اکاؤنٹس معطل کر رہی ہے جو ان نظاموں سے بچنے کی کوشش کرتے ہیں۔ ٹک ٹاک نے کہا کہ وہ اپنی پالیسیوں کی خلاف ورزی کرنے والی مصنوعات کو ہٹا رہا ہے۔ اس کی پالیسی میں ایسی مصنوعات کی ممانعت ہے جن کا مقصد جلد کو بلیچ، سفید یا ہلکا کرنا یا جلد میں موجود میلانن کی مجموعی مقدار کم کرنا ہو۔ ٹیمو نے بھی کہا کہ جائزے کے بعد قانون یا اس کی پلیٹ فارم پالیسی کی خلاف ورزی کرنے والی مصنوعات کو ہٹا دیا جائے گا۔ رائٹرز نے بھارت میں ایمیزون کے ایک تھرڈ پارٹی سیلر کی ایسی فہرست بھی دیکھی جس میں امریکی فوڈ اینڈ ڈرگ ایڈمنسٹریشن کی جانب سے نشان زد ’چاندنی‘ کریم کو ’بیوٹی برائٹننگ کریم‘ کے نام سے پیش کیا گیا تھا۔ مصنوعات کی تصویر میں اصل نام کو دھندلا کر دیا گیا تھا۔ اس کریم کے پاکستانی مینوفیکچرر ایس جے انٹرپرائزز نے رائٹرز کے سوالات کا جواب نہیں دیا۔ صحت عامہ کے ماہرین کا کہنا ہے کہ تھرڈ پارٹی مارکیٹ پلیسز کی ساخت بھی اس مسئلے کو پیچیدہ بناتی ہے، کیونکہ ایک ہی ویب سائٹ پر بڑی تعداد میں آزاد فروخت کنندگان اپنی مصنوعات پیش کرتے ہیں۔ گرین فائر لا کے وکیل ریچل ڈوٹی، جن کی فرم نے ایمیزون کے خلاف ایک دہائی تک قانونی کارروائی کی، نے کہا کہ ان پلیٹ فارمز کے کاروباری ماڈل اور تھرڈ پارٹی سیلرز کی بڑی تعداد مصنوعات کی نگرانی کو مشکل بناتی ہے۔ ایمیزون نے ان کے مؤقف پر تبصرہ کرنے سے گریز کیا۔ امریکی فوڈ اینڈ ڈرگ ایڈمنسٹریشن نے رائٹرز کو بتایا کہ اسے ان مصنوعات اور دیگر جعلی یا غیر قانونی مصنوعات پر شدید تشویش ہے اور انہیں مارکیٹ سے ہٹانا اس کی ترجیحات میں شامل ہے۔ ادارے کے مطابق اس نے ایسے مینوفیکچررز اور ڈسٹری بیوٹرز کو خبردار کیا ہے کہ وہ غیر قانونی فروخت بند کریں۔ عالمی ادارہ صحت نے بھی تسلیم کیا کہ آن لائن اور سرحد پار ای کامرس کے ذریعے پارے والی جلد ہلکی کرنے کی مصنوعات کی فروخت جاری ہے، جس سے حکام کے لیے نگرانی اور قانون کا نفاذ زیادہ مشکل ہو جاتا ہے۔ ادارے کے ترجمان کے مطابق حکومتوں، آن لائن پلیٹ فارمز، فروخت کنندگان اور دیگر متعلقہ فریقوں کے درمیان مزید ضابطہ کاری اور تعاون کی ضرورت ہے۔ اس معاملے میں حالیہ حکومتی کارروائی کی ایک مثال فرانس میں سامنے آئی۔ 28 اگست کو فرانسیسی حکام نے ’ایڈوانسڈ بیوٹی کریم، پرل شائن، پارلی گولڈی‘ نامی جلد سفید کرنے والی کریم واپس منگوانے کا نوٹس جاری کیا۔ رائٹرز نے اس کریم کو اگست کے آغاز میں آن لائن دستیاب پایا تھا، جبکہ 31 اگست تک یہ ایمیزون کی بیلجیئم ویب سائٹ پر بھی موجود تھی۔ فرانسیسی حکام کے مطابق جلد کو ہلکا کرنے والی مصنوعات میں پارہ باقاعدگی سے پایا جاتا ہے اور اس کی موجودگی بعض صورتوں میں جان بوجھ کر شامل کی جاتی ہے تاکہ جلد کے رنگ کا تعین کرنے والے مادے میلانن کی تیاری کو روکا جا سکے۔ حکام نے کہا کہ غیر محفوظ اور قواعد کی خلاف ورزی کرنے والی مصنوعات کی نشاندہی ہونے پر انہیں متعلقہ پلیٹ فارمز یا کمپنیوں کو رپورٹ کیا جاتا ہے۔ امریکی ایف ڈی اے نے گزشتہ سال پارے والی مصنوعات کے معاملے پر زیرو مرکری ورکنگ گروپ کے شریک کوآرڈینیٹر مائیکل بینڈر سے بھی رابطہ کیا۔ بینڈر نے اس سے کئی سال پہلے ادارے کی توجہ ان مصنوعات کی جانب مبذول کرائی تھی۔ ایف ڈی اے نے ان سے دستیاب مصنوعات کی فہرست اور ایسی مصنوعات کے بارے میں معلومات طلب کیں جو ممکنہ طور پر مختلف برانڈ نام یا پیکیجنگ کے ساتھ فروخت کی جا رہی ہوں۔ رواں سال مئی میں ایف ڈی اے نے پارے والی جلد ہلکی کرنے والی کریموں کی ایک فہرست جاری کرتے ہوئے صارفین کو انہیں خریدنے سے خبردار کیا تھا۔ عالمی ادارہ صحت کا کہنا ہے کہ صارفین کو اس خطرناک کیمیائی مادے سے بچانے کے لیے زیادہ سخت قوانین اور متعلقہ اداروں کے باہمی تعاون کی اشد ضرورت ہے۔

Read full story on Aaj

RELATED ARTICLES

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

- Advertisment -
Google search engine

Most Popular

Recent Comments