64.9 F
Pakistan
Tuesday, May 5, 2026
HomeEnvironmentنظامِ شمسی کے آخری کناروں پر موجود فلکیاتی جسم پر زمین جیسا...

نظامِ شمسی کے آخری کناروں پر موجود فلکیاتی جسم پر زمین جیسا ماحول دریافت

نظامِ شمسی کے انتہائی دور دراز حصے، جہاں سردی اور خاموشی کا راج ہے، وہاں ایک نئی سائنسی دریافت نے ماہرینِ فلکیات کو چونکا دیا ہے۔ اب تک یہ سمجھا جاتا تھا کہ ان دور افتادہ برفانی اجسام میں صرف پلوٹو ہی ایسا ہے جس کے گرد فضا موجود ہے، لیکن اب ایک نئے دریافت ہونے والے جسم نے اس تصور کو بدل دیا ہے۔ فلکیات سے دلچسپی رکھنے والوں کے لیے یہ خبر خاص طور پر اہمیت رکھتی ہے، کیونکہ یہ کائنات کا ایک نیا باب کھولتی ہے۔ نیچر اسٹرونومی جریدے میں شائع ہونے والی رپورٹ کے مطابق یہ خلائی جسم، جسے (612533) 2002 XV93 کا نام دیا گیا ہے، نیپچون سیارے سے بھی آگے واقع ہے اور ان اجسام میں شامل ہے جنہیں ٹرانس نیپچونین آبجیکٹس کہا جاتا ہے۔ اس کا قطر تقریباً 500 کلومیٹر ہے، جو پلوٹو اور ایریس جیسے بڑے اجسام کے مقابلے میں کافی چھوٹا ہے۔ ماہرین کے مطابق اس کی فضا نہایت پتلی ہے، جو زمین کی فضا کے مقابلے میں لاکھوں گنا کمزور اور پلوٹو کی فضا سے بھی کئی گنا ہلکی ہے۔ سائنسدانوں کا خیال ہے کہ اس فضا میں میتھین، نائٹروجن یا کاربن مونو آکسائیڈ جیسی گیسیں شامل ہو سکتی ہیں۔ اس دریافت نے ماہرین کو حیران کر دیا ہے کیونکہ پہلے یہ سمجھا جاتا تھا کہ اتنے چھوٹے اور سرد اجسام پر فضا قائم نہیں رہ سکتی۔ رائٹرز کے مطابق ماہر فلکیات کواریماٹسو کا کہنا ہے کہ یہ دریافت ظاہر کرتی ہے کہ نظام شمسی کے بیرونی حصے میں موجود یہ چھوٹے برفیلے اجسام اتنے ساکت نہیں جتنے پہلے سمجھے جاتے تھے۔ ان کے مطابق ان میں ایسے عمل جاری ہو سکتے ہیں جن کا ہمیں پہلے اندازہ نہیں تھا۔ سائنسدانوں نے اس فضا کی موجودگی کی دو ممکنہ وجوہات بیان کی ہیں۔ ایک خیال یہ ہے کہ اس جسم کے اندر سے گیسیں خارج ہو رہی ہیں، جیسے کہ برفانی آتش فشاں کے ذریعے، جس سے فضا برقرار رہتی ہے۔ دوسرا امکان یہ ہے کہ کسی چھوٹے خلائی جسم کے ٹکرانے سے عارضی طور پر گیسیں خارج ہوئیں، جنہوں نے فضا بنا دی۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر یہ فضا عارضی ہے تو آنے والے برسوں یا دہائیوں میں ختم ہو سکتی ہے، لیکن اگر یہ برقرار رہتی ہے یا موسم کے ساتھ بدلتی ہے تو اس کا مطلب ہوگا کہ اندرونی طور پر گیسوں کی فراہمی جاری ہے۔ اس تحقیق کے لیے جاپان میں موجود زمینی دوربینوں کا استعمال کیا گیا۔ سائنسدانوں نے ایک خاص طریقہ اپنایا جس میں اس جسم کو ایک دور دراز ستارے کے سامنے سے گزرتے ہوئے دیکھا گیا۔ اس دوران ستارے کی روشنی میں آنے والی تبدیلیوں سے اس جسم کی خصوصیات کا اندازہ لگایا گیا۔ یہ خلائی جسم کوائپر بیلٹ نامی علاقے میں واقع ہے، جو نیپچون سے آگے پھیلا ہوا ہے۔ خیال کیا جاتا ہے کہ یہ تقریباً 4. 5 ارب سال پرانا ہے اور نظام شمسی کی ابتدا کے زمانے کا حصہ ہے۔ یہ سورج کے گرد ایک بیضوی مدار میں گردش کرتا ہے اور ایک چکر مکمل کرنے میں اسے 247 سال لگتے ہیں۔ ماہرین کے مطابق اس کی ساخت میں برف، چٹانیں اور نامیاتی مادے شامل ہو سکتے ہیں۔ دریافت کے وقت یہ سورج سے تقریباً 5. 5 ارب کلومیٹر کے فاصلے پر تھا، جو زمین اور سورج کے فاصلے سے کئی گنا زیادہ ہے۔ اگرچہ اس کا موجودہ نام کچھ زیادہ متاثرکُن نہیں، لیکن ماہرین کو امید ہے کہ مستقبل میں اسے کوئی بامعنی نام دیا جائے گا۔ اس دریافت نے ایک بار پھر یہ سوال اٹھایا ہے کہ کائنات میں کتنے ایسے راز ابھی باقی ہیں، جو ہماری نظروں سے اوجھل ہیں، مگر خاموشی سے اپنی کہانی سنا رہے ہیں۔

Read full story on Aaj

RELATED ARTICLES

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

- Advertisment -
Google search engine

Most Popular

Recent Comments