خاطر غزنوی صاحب کی غزل کا ایک شعر بر محل ہے کہ ۔۔گو ذرا سی بات پر برسوں کے یارانے گئے لیکن اتنا تو ہوا کہ کچھ لوگ پہچانے گئے ہندوستان کے خلاف معرکہ حق نے پاکستان کے دوست اور دشمن بالکل صاف کردیے ہیں ۔ اس فتح نے پاکستان کے مخالفین اور پاکستان کے ہمدروں کے درمیان ایک واضح لکیر کھینچ دی ہے ۔پاکستان کو دنیا میں ملنے والی پذیرائی سے جو لوگ ناخوش ہیں وہ ہندوستان کے دکھ میں شریک ہیں ۔عمران خان کی بہن نورین نیازی کا بیان کہ مئی کا معرکہ مودی اور پاکستانی افواج کاکوئی اسٹیج کیا ڈرامہ تھا ،اسی سوچ کی عکاسی کرتا ہے۔اگر نورین نیازی کی یہ بات مان لیں تو یہ بھی ماننا پڑے گا کہ نریندر مودی جس کو کسی مسلمان کا وجود تک گوارا نہیں اس مودی نے پاکستان کو فتح دلوا کرخود شکست قبول کرکے دنیا میں پاکستان کی خاطر ذلالت کمالی؟وہ مودی جو ”اکھنڈ بھارت “کے پاٹ کرتا نہیں تھکتا اس نے پاکستان کے ساتھ جنگ جیسا فکس میچ کھیل لیا؟نورین نیازی کہتی ہیں کہ اگر جنگ اصلی تھی تو مودی پھر رکا کیوں؟ وہ تو دومنٹ میں پاکستان کو ”فکس“ کردیتا؟نوری نیازی کو خبر ہو کہ مودی اس لیے رک گیا کیونکہ پاکستان کے ڈرون دلی میں وزیراعظم ہاوس تک پہنچ گئے تھے ۔ مودی اس لیے رک گیا کیونکہ جس ایس فور ہنڈرڈ”دفاعی حصار“ پر مودی کو مان اور غرور تھا پاکستان کے جے ایف سیونٹین تھنڈر نے اس کی بیٹریاں تباہ کرکے اس دفاعی چھتری میں سوراخ کردیے تھے ۔مودی اس لیے رک گیا کیونکہ لائن آف کنٹرول پرہندوستانی سینا کے ڈھائی سو جوان مارے جاچکے تھے ۔ مودی اس لیے رک گیا کہ کیونکہ پاکستان نے اس کے سب سے خطرناک ہتھیار رافیل کے ٹکڑے پنجاب کے کھلیانوں میں بکھیر دیے تھے ۔ مودی اس لیے رک گیا کیونکہ پاکستان کی سائبر آرمی نے گجرات کا پاور کنٹرول ہیک کرکے ان کی بتی گل کردی تھی ۔نیازی صاحبہ مودی اس لیے بھی رک گیا تھا کیونکہ اس کو بتادیا گیا تھا کہ چار گھنٹوں میں پاکستان دلی تک پہنچ گیا ہے ۔چند گھنٹے اور جنگ جاری رہی تو بھارت” ایکس انڈیا“ ہوجائے گا ۔محترمہ نے ٹرمپ کے بھی لتے لیے تو ان کو پھر خبر ہو کہ یہ وہی ٹرمپ ہے جس کے آنے پر پوری پی ٹی آئی نے مٹھایاں کھالی تھیں اور بھنگڑے ڈالے تھے ۔وہی ٹرمپ ہے جس کی جیت پرآپ کی پارٹی کے بھگوڑے اڈیالہ جیل کے تالے کھولنے کے لیے ٹرمپ کی پاکستان آمد کی بشارتیں دے رہے تھے ۔اور یہ وہی ٹرمپ ہیں جن کو آپ کا بھائی واشنگٹن میں ملا تو کشمیر کا سودا ہوگیا اس کے باوجود پاکستان واپسی پر انہوں نے فرمایا کہ لگتا ہے میں آج ورلڈ کپ جیت کر آیا ہوں ۔ اگر ٹرمپ اس وقت آپ کے بھائی کی سرکار میں اچھا تھا تو اب شہبازاور فیلڈ مارشل کے دورمیں برا کیسے ہوگیا؟ کیا آپ اسی فلسفے پر چل رہی ہیں کہ عمران نہیں توپاکستان نہیں؟(خدانخواستہ )۔تیسری بات انہوں نے اسرائیل کو تسلیم کرنے کی کہی تو نورین نیاز ی کو پھر خبر ہو کہ ان کے بھائی تھے جو اس ناجائز یہودی ریاست کو تسلیم کرنے کے درپے تھے ۔ اللہ نے مدد کی اور ان کو وقت سے پہلے ہی رخصت کردیا گیا ورنہ آپ جو بات کہہ رہی ہیں وہ ان کے دورمیں ہونے کا خدشہ موجود تھا۔اسرائیل سے رابطے مشرف کے دورمیں ضرورتھے اور عمران خان مشرف کے ریفرنڈم کے پولنگ ایجنٹ تھے ۔ان کے خلاف بھی اسی وجہ سے ہوگئے تھے کیونکہ انہوں نے شیروانی سلوانے کا کہا تھا لیکن شیروانی پہنا جمالی صاحب کو دی تھی۔اس اسرائیل سے رابطوں کا انکشاف آپ کی اپنی پارٹی کے رہنماسابق وزیرخارجہ خورشید محمود قصوری اپنی کتاب میں کرچکے ہیں ۔ ان کے اسرائیل سے رابطوں کے باوجود عمران خان صاحب نے ان کو اپنی پارٹی میں شامل کیا تو ایجنڈا کافی صاف لگتا ہے۔موجودہ حکومت میں کوئی ایسا ہے تو نام بتائیں ۔جہاں تک اسرائیل کو تسلیم کرنے کی بات ہے تو حضرت قائد اعظم ایک پالیسی دے گئے تھے آج تک حکومتیں اسی پر کاربند ہیں ۔پاکستان نے اسرائیل کوتسلیم کرنے کے لیے دو” بینچ مارک“ بنائے ہوئے ہیں ۔پہلے نمبر پر فلسطین کی خود مختار ریاست فلسطینی عوام کی امنگوں کے مطابق قائم کی جائے جس کا دارلحکومت بیت المقدس ہو۔ دوسرے نمبر پر اسرائیل اپنی 1967والی سرحدو ں پر واپس جائے ۔ تمام مقبوضہ علاقے واپس کرے تو پاکستان اس سے تعلقات قائم کرنے کا سوچ سکتا ہے۔ان دواقدام کے پورا ہونے تک کوئی بھی حکومت اسرائیل کو تسلیم کرنے کا سوچ بھی نہیں سکتی اور یہ کسی حکمران کا فیصلہ نہیں ہے بلکہ قائد اعظم کا فرمان ہے اور اس عوام کا فیصلہ ہے ۔ معرکہ حق نے ایک اور چہرے کو بھی عیاں کردیا ہے گو کہ مولانا فضل الرحمان کی مجبوری نورین نیازی والی نہیں ہے ۔لیکن مولانا کی مجبوری شاید اس سے بھی زیادہ بڑی ہے۔ ان کی پہلی مجبوری یہ ہے کہ ان کو ذاتی جیب سے اخراجات کرنے پڑ رہے ہیں ویسے ان کی ذاتی جیب بھی ذاتی تو نہیں ہے لیکن حکومتی خزانہ ان سے دور ہے اور کافی عرصہ سے دور ہے اس لیے فرسٹریشن لازمی ہے ۔دوہزار چوبیس سے وہ ناراض ہیں ۔ان کی چھوٹی سی خواہش ہے کہ ان کو ملک کا صدر بنادیا جائے۔ اب صدر بنانے کے لیے ملک کی چاروں اسمبلیوں میں کوئی نمائندگی تو ہونی چاہئے لیکن مولانا کھیلنے کو چاند مانگے ہی جارہے ہیں ۔ اب جب کوئی چاند ان کو دلانے والا راضی نہیں ہوا تو مولانا نے تنقید کے لیے سب سے آسان ہدف مسلح افواج کی طرف رخ کرلیا۔ذاتی سیاست کے لیے افواج کے شہداکی توہین کسی صورت بھی مناسب نہیں ۔لوگ ان کو سمجھا رہے ہیں کہ وہ معافی مانگ لیں لیکن ان کو بھی اسی طرح اپنی” جتھے بندی“ پرغرور ہے جس طرح پی ٹی آئی کو اقتدار سے باہر ہونے کے بعد تھا۔پی ٹی آئی نے شوق پورا کرلیا ہے اور تمام تر فوج مخالفت اور پروپیگنڈے کے عمران خان جیل میں ہی ہیں تو مولانا بھی شوق پورا کرلیں ۔ویسے مولانا کے بھائی نے ”تڑی“ لگائی ہے کہ ہمت ہے تو مولانا کیخلاف مقدمہ درج کرکے دیکھو۔ ان کے بھی خبر ہو کہ مولانا کے خلاف دو مقدمات درج ہوچکے ہیں اب جو انہوں نے کرنا ہے وہ کرلیں ۔اسی طرح مولانا غفور حیدری نے کہا ہے کہ وہ جی ایچ کیو کے باہر احتجاج کریں گے تو ان کو بھی خبر ہو کہ سکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ ”خوش آمدید“ آجا میرے بالما تیرا انتظار ہے۔ویسے مولانا کی ایک تکلیف جینوین بھی ہے کہ سینیٹ میں ان کی نمائندگی کم سے کم تر ہوتی جارہی ہے اور سینیٹ کی سیٹ ایسا اے ٹی ایم ہے جس کے جانے سے مولانا شدید صدمے سے دوچار ہوسکتے ہیں ۔۔کیونکہ سینیٹ کا ٹکٹ نہیں ہوگا تا اعظم سواتی اور طلحہ محمود جیسے لوگ مولانا کے درپر کیسے آئیں گے؟۔



