وہ دوہرا فائدہ اٹھا رہا تھا۔ نوجوان ڈینٹسٹ کا انکل بھی تھا اور سینئر بھی۔ ادھیڑ عمر ڈاکٹر صاحب کمرے میں موجود تھے، ٹریٹمنٹ چل رہا تھا۔ وہ زیرِ لب مسکرائے جا رہے تھے۔ نوجوان ڈینٹسٹ باہنر تھا، قابل تھا۔ وہ بار بار مریضہ سے ایک ہی سوال کر رہا تھا: ”منہ بند ہو رہا ہے، تکلیف تو نہیں ہو رہی؟ ”مریضہ ہر بار کسی نہ کسی دانت میں تکلیف کی شکایت کرتی تھی۔یہ عمل کافی دیر سے جاری تھا۔ ڈینٹسٹ کو سمجھ نہیں آ رہی تھی، مسئلہ حل کیوں نہیں ہو رہا؟ یہ اس کا روزانہ کا کام تھا، جسے محاورۃً یوں بھی کہا جا سکتا تھا: ”بائیں ہاتھ کا کھیل تھا“۔ وہ آج بھی کئی مردوں کے کئی دانت لگا چکا تھا۔ مردوں کا منہ بھی ٹھیک سے بند ہو جاتا تھا اور انہیں تکلیف بھی نہیں ہوتی تھی۔ خاتون مریضہ کا نہ ٹھیک سے منہ بند ہو پا رہا تھا اور وہ تکلیف کی شکایت بھی کر رہی تھی۔ نوجوان ڈینٹسٹ کچھ سمجھ نہیں پا رہا تھا۔ادھیڑ عمر سینئر مدد کو آئے۔ انہوں نے ڈینٹسٹ کو دوسرے کمرے آنے کا اشارہ کیا۔ دوسرے کمرے میں اپنے جونیئر سے کہا: ”کون سی خاتون ہے جس کا منہ بند ہو تو اسے تکلیف نہ ہو؟ اس لئے خاتون سے یہ سوال چھوڑیں اور خود فیصلہ کریں۔ انہیں کہیں وہ منہ کھلا رکھیں اور بتائیں، تکلیف تو نہیں ہو رہی؟“ نوجوان پہلے ان کی بات مذاق سمجھا، لیکن ان کے چہرے پر شدید سنجیدگی طاری تھی۔ آخر بزرگوں کا بتایا ہوا نسخہ آزمایا، ڈینٹسٹ معالج اور مریضہ، دونوں نے سکون پایا۔ مریضہ کی شکایتیں بھی دور ہو گئیں اور ڈینٹسٹ کو بھی اگلا مریض دیکھنے کا موقع اسی زندگی میں مل گیا۔کسی خاتون سے یہ گزارش کرنا کہ وہ ٹھیک سے منہ بند کریں، انتہائی غیر مشرقی حرکت ہے۔ پھر یہ توقع رکھنا کہ خاتون کا منہ بند ہو اور اسے تکلیف بھی نہ ہو، انتہائی غیر روایتی، غیر انسانی اور تاریخی شعور سے بے بہرہ ہونے کی علامت ہے۔ خواتین بولتی ہی اچھی لگتی ہیں۔ ہاتھی کے دانت کھانے کے اور، دکھانے کے اور ہو سکتے ہیں، لیکن خاتون کے دانت میں بھلے کتنا ہی درد ہو، مسکرانے سے—جی ہاں، کسی پر مسکرانے سے—باز نہیں رہ سکتی۔ خاتون موجود ہو، مسکرا رہی ہو، بھلے کسی پہ ہی مسکرا رہی ہو، تو دنیا خوبصورت ہو جاتی ہے۔ بے شک، وجودِ زن سے ہے تصویرِ کائنات میں رنگ۔ حضرات خواتین کے بے جا بولنے کی شکایتیں کرتے کرتے موٹیویشنل سپیکر بن گئے ہیں، لائف گرو بن گئے ہیں۔ کوئی بتلائے کہ ہم بتلائیں کیا۔ یقین کیجیے، جب سے سوشل میڈیا پر مرد حضرات نے نان اسٹاپ تقاریر کا سلسلہ شروع کیا ہے، خواتین کا چہرہ اس بات کی تفسیر ہے: ”شرم تم کو مگر نہیں آتی“۔ کئی خواتین بزبانِ حال کہہ رہی ہوتی ہیں: ہم آہ بھی کرتے ہیں تو ہو جاتے ہیں بدنام، وہ مسلسل گفتگو بھی کرتے رہیں تو چرچا نہیں ہوتا۔ مرد وہی کامیاب ہے جس کے کرتوتوں کا چرچا نہیں ہوتا۔چرچے اور خرچے میں مرد کی ترجیح ہمیشہ خرچہ رہا ہے، اگرچہ چند معاملات ایسے بھی ہیں، لوگ ایک روپے کا خرچہ کرتے ہیں اور کئی ہزار کا چرچا۔ کئی معاملات ایسے ہیں کہ ان کا چرچہ ہو جائے تو پرچہ نہیں، پرچے ہو سکتے ہیں۔ اچھی بات ہے کہ اب پرچوں کا رواج ختم ہوتا جا رہا ہے، ہر چیز آن لائن ہو رہی ہے۔ پہلے کسی کو لائن پر لاتے لاتے عمریں بیت جاتی تھیں،اب سوشل میڈیا کی بدولت ہر شے کی لائنیں لگی ہوئی ہیں۔ دنیا سچ مچ بازار بن چکی ہے، جہاں ہر چیز دستیاب ہے، ہر سودا نقد ہے۔ کوئی دام لگانے والا ہو، ارجنٹ دستیاب ہے،لیکن آج کے دور میں بھی ایسا میٹریل موجود ہے جو کم یاب نہیں، نایاب ہے۔ انسان جب کوئی چیز بناتا ہے تو کوشش کرتا ہے کہ ہر چیز ایک جیسی ہو۔ گھر میں ایک جیسا فرنیچر رکھنا لوگ پسند کرتے ہیں، فون کا ایک ماڈل۔ہر طرح کے آدمی کے پاس ایک جیسے فیچرز اویلیبل ہوتے ہیں۔ خالقِ کائنات کی مخلوق تنوع سے عبارت ہے۔ کوئی بھی شخص دوسرے شخص جیسا نہیں ہو سکتا۔ عقلمند تو یہاں تک فرما گئے ہیں کہ کوئی شخص اپنے جیسا بھی نہیں ہو سکتا۔ ہر آدمی ہر لحظہ بدلتا ہے، ہر نفس عمرِ گزشتہ کی ہے میت فانی، زندگی مرمر کے جیے جانے کا ہی نام نہیں، زندگی ہر لمحہ نئی سوچ، نئے خیالات کا نام ہے۔کئی حر لشکر ِ یزید چھوڑ دیتے ہیں، تو کئی پارسا دنیا کی خاطر بے حیا بن جاتے ہیں۔ ایک دن ان کا پردہ اٹھتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کرے، بندے کی زندگی میں بندے کے اعمال پر پردہ پڑا رہے۔ کسی نے بالکل بجا فرمایا تھا: خوش قسمت وہی ہے، جس کے عیب چھپے رہیں۔ عیب چھپے رکھنے کے لئے بہت ضروری ہے کہ بندے کا منہ ٹھیک سے بند رہے۔ لوگوں کے عیبوں کا چرچا کرنا کوئی اچھی بات نہیں۔ کسی کی اصلاح کی نیت ہو تو بھی طریقہ کار بہترین ہونا چاہئے۔ اچھی بات اچھے طریقے سے کہنا ہی انسانی، اخلاقی اور مذہبی رویہ ہے۔لوگوں کے بارے میں منہ بند رکھنا چاہئے،اپنے عیبوں کے بارے میں بھی منہ بند رکھنا چاہئے،غیبوں کے بارے میں بھی منہ بند رکھنا چاہئے۔ خوش اخلاقی سب سے بڑا زیور ہے۔ اعلیٰ ظرف ہونا سب سے بڑی خوبی ہے۔ دعا مانگنا چاہئے کہ بندہ خود بھی اعلیٰ ظرف ہو اور بندے کے ارد گرد موجود لوگ بھی اعلیٰ ظرف ہوں۔ خاموشی اعلیٰ ظرفی کی نشانی ہے، خاموشی حکمت بھی ہے، دانش بھی ہے، نجات بھی ہے۔ لوگ بہت کوشش کرتے ہیں بندے کا منہ کھلا رہے، بندہ دوسروں کے بارے میں منہ کھولے اور ایسا کھولے کہ اس کے بعد پنڈورا باکس کھل جائے۔ شیطان منہ کھولتا ہے اور اس آدمی کو پسند کرتا ہے جو بات بے بات منہ کھولتا ہے، لوگوں کی عیب جوئی کرتا رہتا ہے، لوگوں میں فساد ڈالتا رہتا ہے۔ بدنیتی کے ساتھ بولے جانے والا سچ بھی بعض اوقات وبال ہو سکتا ہے۔ نیک نیتی سے اختیار کی گئی خاموشی جنت کا باعث بن سکتی ہے۔طعنہ دینا انتہائی غیر اسلامی فعل ہے۔ نام لے کر لوگوں کو شرمندہ کرنا غیر اسلامی فعل ہے۔ کسی کی برائی کا تذکرہ کرنا غیر اسلامی فعل ہے۔ الفاظ ہی اسلامی یا غیر اسلامی نہیں ہوتے، بدن بولی— جسے انگریزی میں باڈی لینگویج کہا جاتا ہے—وہ بھی اسلامی اور غیر اسلامی ہو سکتی ہے۔منہ بند رکھنا سیکھیے، یہی کامیابی ہے۔ بنگلادیش بورڈ نے پاکستان کے ساتھ ٹیسٹ سیریز میں طلبا کا داخلہ مفت کر دیا ٭٭٭٭٭



