پاکستان میں ایک عجیب المیہ جنم لے چکا ہے۔ یہاں آزادیِ اظہار اور آزادیِ انتشار کے درمیان فرق تقریباً مٹ چکا ہے۔ دنیا کے اکثر ممالک میں ریاستی مفادات، قومی سلامتی اور ملکی وقار کے حوالے سے ایک واضح سرخ لکیر موجود ہوتی ہے۔ آپ متحدہ عرب امارات چلے جائیں، سعودی عرب کا رخ کر لیں یا خلیج کے کسی اور ملک میں قدم رکھیں، وہاں ریاست اور ملک کے خلاف منظم مہم جوئی کو اظہارِ رائے نہیں سمجھا جاتا۔ وہاں ریاست پر تنقید کی حدود ہیں اور قومی مفاد کو سیاسی مفاد پر ترجیح دی جاتی ہے۔ مگر پاکستان میں صورت حال اس کے برعکس دکھائی دیتی ہے۔ یہاں بعض یوٹیوبرز اور سوشل میڈیا کے نام نہاد مبصرین نے اپنی دکان ہی اس اصول پر کھول رکھی ہے کہ جتنا زیادہ پاکستان کو بدنام کیا جائے گا، اتنے زیادہ ویوز ملیں گے، اتنی زیادہ بیرونی توجہ حاصل ہوگی اور اتنے ہی زیادہ ڈالر اکاو¿نٹس میں آئیں گے۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ اس کاروبار کو صحافت کا نام دیا جا رہا ہے۔حال ہی میں دنیا نے ایک غیر معمولی سفارتی پیش رفت دیکھی۔ ایران اور امریکہ کے درمیان کشیدگی کم کرنے اور مذاکرات کی راہ ہموار کرنے کے حوالے سے پاکستان کے کردار کا ذکر عالمی سطح پر ہوا۔ وزیر اعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کی سفارتی کاوشوں کو مختلف حلقوں میں سراہا گیا۔ سفارت کاری کی دنیا میں کامیابیاں اچانک نہیں ملتیں۔ ان کے پیچھے مہینوں بلکہ برسوں کی محنت، روابط، معلومات کا تبادلہ اور خاموش سفارت کاری کارفرما ہوتی ہے۔آئی ایس آئی ، سفارت کار اوردیگر ادارے مسلسل کام کرتے رہے تاکہ ایران و امریکہ کی قیادت کے مزاج کو سمجھا جائے،ان کی شخصیت میں موجود لچک اور بے لچک خواص کو سمجھا جائے۔ان کی ترجیحات اور خدشات کو سمجھ کر ایک قابلِ عمل راستہ نکالا جا سکے۔یہ کام بہت کامیابی سے انجام دیا گیا۔مگر حیرت کی بات یہ ہے کہ جب دنیا پاکستان کے مثبت کردار کا اعتراف کر رہی ہو تو ملک کے اندر سے چند آوازیں فوراً یہ ثابت کرنے نکل پڑتی ہیں کہ پاکستان نے کچھ نہیں کیا، سب جھوٹ ہے، سب ڈرامہ ہے اور ہر کامیابی محض ایک فریب ہے۔ملک سے باہر بیٹھے عمران ریاض، صابر شاکر،معید پیرزادہ جنگ رکوانے کا کریڈٹ پاکستان کو دینے سے انکاری ہیں،انہوں نے اپنے وی لاگز میں جنگ بند کروانے کے مثبت پہلو کمزور کئے۔عمران ریاض کو چھوڑ کر غلط کیا گیا، اب وہ باہر بیٹھ کر ہر وقت پاکستان کے بارے میں پروپیگنڈہ کرتا رہتا ہے۔سوال یہ ہے کہ آخر دنیا غلط ہے یا وہ چند یوٹیوب چینل درست ہیں جو ہر واقعے کی ایک ہی تشریح پیش کرتے ہیں؟اختلافِ رائے ہر شہری کا حق ہے۔ تنقید جمہوریت کا حسن ہے۔ حکومتوں کو سوالوں کا سامنا کرنا چاہیے اور ریاستی اداروں کو بھی جوابدہ ہونا چاہیے۔ لیکن تنقید اور مسلسل تخریب میں فرق ہوتا ہے۔ اگر کسی شخص کے تجزیے کا ہر نتیجہ پاکستان کی ناکامی، ہر خبر کا مطلب پاکستان کی رسوائی اور ہر کامیابی کا انجام پاکستان کی تضحیک ہو تو پھر سوال اٹھتا ہے کہ اس طرزِ عمل کا مقصد کیا ہے؟یہ لوگ غداری کے مرتکب ہو رہے ہیں، ان کے پاسپورٹ کیسنل کئے جائیں اور مقدمات چلائے جائیں۔افسوس یہ بھی ہے کہ ریاستی ادارے اکثر ایسے عناصر کے سامنے بے بس دکھائی دیتے ہیں۔ پاکستان میں قانون کی گرفت عام آدمی کے لیے تو بہت تیز ہے لیکن سوشل میڈیا کے بعض طاقتور کرداروں کے لیے حیرت انگیز حد تک سست نظر آتی ہے۔ بیرونِ ملک بیٹھ کر پاکستان کے خلاف منظم بیانیہ بنانا، غیر مصدقہ الزامات پھیلانا اور ہر قومی کامیابی کو مشکوک قرار دینا گویا ایک منافع بخش صنعت بن چکا ہے۔پاکستان میں اگر سونے کے پہاڑ بھی نکل آئیں تو یہ بدگمان لوگ اسے پیتل بتا کر پاکستان کی اہمیت کم کرنے کی کوشش کریں گے۔مزید افسوس ناک پہلو یہ ہے کہ ہماری حکومتیں اکثر اپنی ذمہ داریاں دوسروں پر منتقل کر دیتی ہیں۔ ہر بحران میں نظریں کسی ایک شخصیت یا ادارے کی طرف اٹھ جاتی ہیں۔ گویا حکومتوں کا کام صرف بیانات جاری کرنا رہ گیا ہے جبکہ عملی اقدامات کوئی اور کرے۔ اگر قومی تشخص واقعی اہم ہے تو پھر اس کے تحفظ کے لیے واضح پالیسی، موثر قانون سازی اور مستقل حکمتِ عملی کہاں ہے؟۔ اس وقت میں مالم جبہ کے حسین پہاڑوں میں موجود ہوں۔ قدرت کی بے مثال صناعی، ٹھنڈی ہوائیں، سبز ڈھلوانیں اور پاک فوج کے زیر انتظام بہترین سہولیات یہ احساس دلاتی ہیں کہ پاکستان واقعی ایک غیر معمولی ملک ہے۔ یہاں ایسے مناظر موجود ہیں جن پر دنیا رشک کر سکتی ہے۔ مگر اسی جنت نظیر ماحول میں جب موبائل اسکرین پر چند یوٹیوبرز کی گفتگو سنائی دیتی ہے تو دل میں ایک کسک پیدا ہوتی ہے۔ سوال ابھرتا ہے کہ آخر کیوں کچھ لوگ ہر حال میں اس ملک کی تصویر کو مسخ کرنے پر مصر ہیں؟۔اصل مسئلہ صرف یوٹیوبرز نہیں۔ مسئلہ ایک ایسے نظام کا بھی ہے جس میں میرٹ کمزور اور شور شرابا طاقتور ہو چکا ہے۔ جہاں قابلیت سے زیادہ ہنگامہ آرائی کو اہمیت ملتی ہے، وہاں سنجیدہ مکالمہ پس منظر میں چلا جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ شور مچانے والے نمایاں ہیں اور ملک کے لیے مثبت کام کرنے والے اکثر گمنام رہ جاتے ہیں۔ یہاں پیمرا کے اس ضابطے کا ذکر بھی ضروری ہے جس کے تحت ٹی وی چینلز کو اپنے نشریاتی وقت کا ایک حصہ عوامی آگاہی اور قومی مفاد کے پیغامات کے لیے مختص کرنا ہوتا ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا اس وقت کو زیادہ موثر انداز میں استعمال نہیں کیا جا سکتا؟ کیا پاکستان کی سیاحت، ثقافت، برآمدات، سائنسی کامیابیوں، کھیلوں، نوجوانوں کی اختراعات اور عالمی سطح پر حاصل ہونے والی کامیابیوں کو منظم انداز میں اجاگر نہیں کیا جا سکتا؟ اگر مخالف بیانیے چوبیس گھنٹے متحرک ہیں تو قومی تشخص کے دفاع کے لیے بھی ایک مربوط اور جدید حکمت عملی درکار ہے۔پاکستان کا امیج صرف حکومت کا نہیں، ہم سب کا مشترکہ اثاثہ ہے۔ اس کی تعمیر میں دہائیاں لگتی ہیں اور اسے نقصان پہنچانے کے لیے چند منٹ کافی ہوتے ہیں۔ اختلافِ رائے ضرور ہونا چاہیے، مگر ایسا اختلاف جو حقائق پر مبنی ہو، بہتری کا راستہ دکھائے اور قومی مفاد کو مکمل طور پر نظر انداز نہ کرے۔ اگر آزادیِ اظہار کی آڑ میں ہر مثبت پیش رفت کو مشکوک اور ہر قومی کامیابی کو مذاق بنا دیا جائے تو پھر سوال صرف سیاست کا نہیں رہتا، سوال پاکستان کے اجتماعی تشخص کا بن جاتا ہے۔وقت آ گیا ہے کہ ریاست، حکومت، میڈیا اور معاشرہ اس موضوع پر سنجیدگی سے غور کریں۔ ورنہ وہ دن دور نہیں جب پاکستان کی سب سے بڑی جنگ سرحدوں پر نہیں بلکہ بیانیے کی دنیا میں لڑی جا رہی ہوگی، اور اس جنگ میں نقصان دشمن سے زیادہ اپنے ہی ہاتھوں ہو رہا ہوگا۔
ملکی امیج کا تحفظ: یوٹیوبروں کو لگام ڈالنے کی ضرورت
RELATED ARTICLES



