مصنف: ارشادالعصر جعفریقسط: 31سلمان نے کچھ کہنے کے لیے منہ کھولا ہی تھا کہ زاور نے اچانک پوچھا: ”اور 1912 میں؟“عبدالودود نے اسے دیکھا۔
مردہ خانے سے باہر نکل آئے، راہداری پہلے جیسی نہیں تھی،دیواروں پر لگی گھڑیوں میں مختلف اوقات تھے، اس کے چہرے پر خوف نہیں صرف سوال تھا
RELATED ARTICLES



