فیٹی جگر یعنی جگر میں ضرورت سے زیادہ چربی جمع ہونے کی شکایت آج کل بہت سے لوگوں میں پائی جاتی ہے۔ اس کی تشخیص کے بعد اکثر افراد یہ سوچتے ہیں کہ کیا اس تبدیلی کو ختم کیا جا سکتا ہے، اگر وہ اپنی خوراک بہتر کرلیں، ورزش شروع کردیں اور وزن کم کرلیں تو کیا جگر دوبارہ اپنی معمول کی حالت میں آ سکتا ہے؟ ماہرین کے مطابق فیٹی جگر میں خاص طور پر ابتدائی مرحلے میں نمایاں بہتری ممکن ہے۔ اگر جگر میں چربی جمع ہونے کی بنیادی وجوہات پر قابو پالیا جائے تو جگر کی صحت اور اس کے کام میں بہتری آسکتی ہے۔ تاہم ہر شخص میں صحت یابی کی رفتار اور نتیجہ مختلف ہوسکتا ہے۔ جگر کی صحت کتنی بہتر ہو سکتی ہے؟ انڈین ایکسپریس کے مطابق ہیپاٹولوجی کے ماہر ڈاکٹر امیت منڈوٹ کہتے ہیں کہ اگر فیٹی جگر کا مسئلہ ابتدائی مرحلے میں سامنے آجائے اور اس کی وجہ کو دور کرنے کی کوشش کی جائے تو جگر میں موجود اضافی چربی کم ہوسکتی ہے۔ ان کے مطابق وزن کو قابو میں رکھنا، صحت بخش غذا لینا اور باقاعدگی سے جسمانی سرگرمی کرنا جگر کی صحت بہتر بنانے میں اہم کردار ادا کرسکتا ہے۔ چربی کم ہونے سے جگر اپنے معمول کے سائز اور کام کے قریب آسکتا ہے۔ تاہم یہ ضروری نہیں کہ ہر مریض کا جگر مکمل طور پر پہلے جیسی حالت میں واپس آجائے۔ اس کا انحصار اس بات پر ہوتا ہے کہ بیماری کس مرحلے میں ہے اور جگر میں سوزش یا زخم بننے کا عمل شروع ہوا ہے یا نہیں۔ کن عوامل سے صحت یابی متاثر ہوتی ہے؟ ماہر کے مطابق جگر میں موجود چربی کی مقدار، سوزش، فائبرسس یعنی جگر میں زخم بننے کا عمل، جسمانی وزن اور مجموعی میٹابولک صحت اس بات پر اثر انداز ہوتے ہیں کہ جگر کتنی تیزی سے بہتر ہوگا۔ ذیابیطس، انسولین کی مزاحمت اور کولیسٹرول کی زیادتی بھی جگر میں چربی جمع ہونے کے عمل کو جاری رکھ سکتی ہے۔ اس کے علاوہ الکحل کا استعمال، بعض ادویات اور جگر کی دیگر بیماریاں بھی اس مسئلے کی شدت اور علاج کے نتیجے پر اثر ڈال سکتی ہیں۔ عام طور پر ابتدائی مرحلے پر اٹھائے گئے اقدامات جگر کی چربی کو کم کرنے اور مزید نقصان کو روکنے کا بہتر موقع فراہم کرتے ہیں. ماہر کے مطابق جتنا جلدی فیٹی جگر پر توجہ دی جائے، اتنا ہی جگر میں مزید نقصان کو روکنے اور چربی کم کرنے کا موقع بہتر ہوتا ہے۔ صرف 5 فیصد وزن کم کرنے سے بھی فائدہ جن افراد کا وزن زیادہ ہے، ان کے لیے معمولی وزن کم کرنا بھی فائدہ مند ثابت ہوسکتا ہے۔ ماہر کے مطابق جسمانی وزن کا تقریباً 5 فیصد کم کرنے سے جگر میں موجود چربی کم ہونے میں مدد مل سکتی ہے۔ اگر وزن اس سے زیادہ کم کیا جائے تو بعض افراد کو مزید فائدہ حاصل ہوسکتا ہے۔ تاہم وزن کم کرنے کے لیے بہت سخت یا فوری طریقہ اختیار کرنے کے بجائے آہستہ آہستہ اور مستقل بنیادوں پر تبدیلیاں لانا بہتر ہے۔ ہر شخص کے لیے وزن کم کرنے کا مناسب ہدف اس کے موجودہ وزن، صحت اور دیگر بیماریوں کے مطابق مختلف ہوسکتا ہے۔ خوراک میں کیا تبدیلی لائیں؟ فیٹی جگر میں کھانے پینے کی عادات بہتر بنانا بہت اہم ہے۔ میٹھے مشروبات، زیادہ چینی، ریفائنڈ کاربوہائیڈریٹس اور بہت زیادہ پراسیس شدہ کھانوں کا استعمال کم کرنا جگر میں اضافی چربی کم کرنے میں مددگار ہوسکتا ہے۔ اس کے ساتھ متوازن غذا اور مناسب مقدار میں صحت بخش غذائیں استعمال کرنا ضروری ہے۔ ذیابیطس، کولیسٹرول اور بلڈ پریشر جیسے مسائل کو بھی قابو میں رکھنا چاہیے۔ ورزش وزن کم کیے بغیر بھی فائدہ دے سکتی ہے فیٹی جگر کو بہتر بنانے کے لیے ورزش بھی اہم کردار ادا کرتی ہے۔ باقاعدہ چہل قدمی، ایروبک ورزش اور جسم کو مضبوط بنانے والی ورزشیں جگر اور جسم کے میٹابولک نظام کی صحت بہتر بنانے میں مدد کرسکتی ہیں۔ خاص بات یہ ہے کہ جسمانی سرگرمی سے بعض افراد کو وزن میں بڑی کمی کے بغیر بھی فائدہ ہوسکتا ہے۔ تاہم ورزش کا انتخاب عمر اور صحت کی صورتحال کے مطابق کرنا بہتر ہے۔ بہتری آنے میں کتنا وقت لگتا ہے؟ فیٹی جگر میں بہتری ہر شخص میں مختلف وقت لے سکتی ہے۔ ماہر کے مطابق مستقل طور پر صحت مند طرز زندگی اپنانے کے بعد چند ہفتوں سے چند ماہ کے دوران جگر میں موجود چربی کم ہونا شروع ہوسکتی ہے۔ اکثر جگر کی چربی کم ہونے کا عمل جگر کے سائز میں نمایاں تبدیلی سے پہلے شروع ہوجاتا ہے۔ اسی لیے صرف جگر کا سائز دیکھ کر صحت یابی کا اندازہ لگانا درست نہیں۔ باقاعدہ طبی معائنہ اور ضرورت کے مطابق خون کے ٹیسٹ یا امیجنگ ٹیسٹ یہ جاننے میں مدد دیتے ہیں کہ جگر علاج اور طرز زندگی میں تبدیلیوں کا کس طرح جواب دے رہا ہے۔ کیا فیٹی جگر میں جگر ہمیشہ بڑا ہوجاتا ہے؟ ضروری نہیں۔ فیٹی جگر ہونے کا مطلب یہ نہیں کہ ہر شخص کا جگر بڑا ہوجائے گا۔ بعض افراد میں جگر میں کافی مقدار میں چربی موجود ہوسکتی ہے لیکن اس کا سائز واضح طور پر بڑھا ہوا نہیں ہوتا۔ جگر کا سائز چربی کی مقدار، سوزش اور بیماری کے مرحلے سمیت مختلف عوامل سے متاثر ہوسکتا ہے۔ اسی لیے نارمل سائز کا جگر ہونے سے فیٹی جگر کے امکان کو مکمل طور پر رد نہیں کیا جاسکتا۔ کب فیٹی جگر خطرناک بن سکتا ہے؟ فیٹی جگر اس وقت زیادہ سنجیدہ مسئلہ بن سکتا ہے جب جگر میں چربی کے ساتھ سوزش اور خلیوں کو مسلسل نقصان پہنچنے لگے۔ طویل عرصے تک جاری رہنے والی سوزش جگر میں فائبرسس یعنی داغ یا زخم بننے کا سبب بن سکتی ہے۔ اگر یہ نقصان وقت کے ساتھ بڑھتا جائے تو جگر سروسس جیسی سنگین بیماری کا شکار ہوسکتا ہے۔ موٹاپا، ذیابیطس، انسولین کی مزاحمت اور دیگر میٹابولک مسائل رکھنے والے افراد میں اس خطرے پر خاص توجہ دینا ضروری ہے۔ اس لیے فیٹی جگر کو نظر انداز کرنے کے بجائے بروقت اس کی وجہ معلوم کرنا اور طرز زندگی میں مناسب تبدیلیاں لانا اہم ہے۔ ابتدائی مرحلے میں فیٹی جگر میں نمایاں بہتری ممکن ہے، لیکن جگر مکمل طور پر نارمل ہوگا یا نہیں، اس کا انحصار بیماری کے مرحلے اور سوزش یا فائبرسس کی موجودگی پر ہوتا ہے۔



