پاکستان میں ریپ کے واقعات نے ایک مرتبہ پھر ساری دنیا کو اپنی طرف متوجہ کر لیا ہے۔ ملک میں اکثر بچے، بچیاں، خواتین اور لڑکے گھروں پر محفوظ ہیں نہ باہر۔ اب تو شادی شدہ خواتین کے ریپ کے واقعات بھی سامنے آنا شروع ہو چکے ہیں جو ساری دنیا کو یہ سمجھنے پر مجبور کر رہے ہیں کہ کیا پاکستان بھی ریپ کے معاملے میں ہمسایہ ملک انڈیا کے نقش قدم پر چل رہا ہے؟ شادی دو انسانوں کے مابین روح اور وجود کا ایک ایسا خوبصورت، پاکیزہ اور معتبر بندھن مانا جاتا ہے جو باہمی احترام، گہرے لمس اور لازوال تحفظ کے احساس سے عبارت ہو۔ یہ رشتہ دل کے ملاپ کا نام ہے جہاں دو وجود مل کر زندگی کے سفر پر روانہ ہوتے ہیں لیکن جب اسی مقدس رشتے کی آڑ میں محبت کی جگہ جبر اور ہمدردی کی جگہ وحشت لے لے تو اس کا سارا تقدس خاک میں مل جاتا ہے۔ حال ہی میں پاکستان میں ایک دلدوز واقعے نے، جس میں کراچی میں 58 سالہ خاتون کو محض شریک حیات کے ساتھ جسمانی تعلق سے انکار کی پاداش میں بے دردی سے موت کے گھاٹ اتار دیا گیا، ہمارے ضمیر کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا۔ یہ سانحہ صرف ایک مظلومہ کے قتل کی لرزہ خیز داستان نہیں بلکہ اس بھیانک پسماندہ سوچ کا نوحہ ہے جو آج بھی شادی کو عورت کی مرضی کا جنازہ اور مرد کو اس کے مٹی کے وجود پر حاکمیت کا مطلق پروانہ سمجھتی ہے۔ ہمیں اب ایک بیدار معاشرے کے طور پر تسلیم کرنا ہوگا کہ نکاح نامہ کوئی ملکیت کا سرٹیفکیٹ نہیں بلکہ دو برابر کے انسانوں کا معزز ساتھ ہے، جہاں عورت کے جذبات اور جسمانی خود ورق پر اس کا احترام ہر حال میں لازم ہے۔ 12 ستمبر، 2020 کو کوئٹہ میں انسانی حقوق کی کارکن ایک خاتون کے مبینہ گینگ ریپ کے خلاف احتجاج میں شریک ہیں (اے ایف پی) اسی ایک مہینے کے قلیل عرصے کے دوران پاکستان میں ایک اور ہولناک موازنہ دیکھنے کو ملا جس نے اس معاشرے کے مکروہ چہرے کو بے نقاب کر دیا۔ ایک طرف کراچی کی وہ 58 خاتون تھیں جنہوں نے زندگی کی تمام دھوپ چھاؤں دیکھ لی تھی اور اپنی عمر، تھکن یا بیماری کے سبب حق انکار استعمال کرنا چاہا۔ دوسری طرف خانیوال کی وہ معصوم نوبیاہتا جوان بچی تھی جس نے ابھی زندگی کی دہلیز پر قدم ہی رکھا تھا کہ شادی کے فوراً بعد انہیں غیر فطری مطالبات کی نذر کر کے موت کی نیند سلا دیا گیا۔ یہ دونوں واقعات اس بات کا بین ثبوت ہیں کہ ہمارے معاشرے میں عورت چاہے عمر کے کسی بھی حصے میں ہو، اس کی زندگی اور اس کا حق خود ارادیت کبھی کبھی مردانہ انا اور اندھی ہوس کے سامنے ایک بے وقعت چیز ہے۔ ان دونوں خواتین کا قصور صرف اتنا تھا کہ انہوں نے ازدواجی تعلق میں اپنی مرضی اور انسانیت شامل کرنی چاہی، لیکن بدلے میں ایک کو ضعیفی میں سفاکی ملی اور دوسرے کو جوانی کی پہلی ہی صبح کفن پہننا پڑا۔ یہ موازنہ چیخ چیخ کر کہہ رہا ہے کہ یہاں مجرم کو عورت کے وجود سے غرض ہے، اس کی روح، عمر یا کیفیت سے نہیں۔ آئیے اب ذرا اس منافق معاشرے کے بے چینی کے شکار ان مردوں کی اس جبلت کا پوسٹ مارٹم کریں جو اب ایک ذہنی وبا بن چکی ہے۔ یہ ایک ایسا سماج ہے جو دنیا بھر میں اخلاقیات اور غیرت کا سب سے بڑا علمبردار بنتا ہے، لیکن جب انٹرنیٹ پر فحش مواد کی تلاش کی باری آتی ہے، تو ماضی میں سرچ لسٹ میں صف اول میں نظر آتا تھا لیکن اب سخت نگرانی اور پابندیوں کی وجہ سے صورت حال میں تبدیلی آئی ہے۔ سمارٹ فونز کی بدولت فحش سائٹس تک دن رات کی آسان اور مفت رسائی نے عورت کا ایک ایسا مسخ شدہ، بازاری اور غیر انسانی امیج بنا دیا ہے جہاں وہ کوئی جیتی جاگتی انسان نہیں بلکہ محض ایک کٹھ پتلی ہے جو ہر طرح کے فطری اور غیر فطری مطالبات پورے کرنے کے لیے پیدا کی گئی ہے۔ جب یہی لوگ اس ورچوئل دنیا کی غلاظت اور مصنوعی، بیمار فینٹسی کو حقیقی ازدواجی زندگی پر نافذ کرنے کی کوشش کرتے ہیں اور سامنے سے ’ناپسندیدگی‘ یا ’نہیں‘ کا لفظ سنتے ہیں تو ان کی انا کو تکلیف پہنچتی ہے۔ اس جنسی فرسٹریشن کا بدترین مظاہرہ ہم کووڈ کے ان دنوں میں بھی دیکھ چکے ہیں۔ اس گھٹن زدہ ماحول میں سماجی دباؤ اور نام نہاد سماجی انصاف کا کردار سب سے زیادہ مکروہ رہا۔ ہمارے ہاں پنگ پونگ کی گیند کی طرح سارا ملبہ عورت پر ہی گرا دیا جاتا ہے۔ خاندان کی پگڑی اچھلنے کا خوف، میکے والوں کی طرف سے ’صبر کرو اور سمجھوتہ کرو‘ کے روایتی زہریلے مشورے اور طلاق کے ساتھ جڑا ابدی سماجی کلنک وہ فولادی بیڑیاں ہیں جو عورت کے پاؤں میں باندھ دی جاتی ہیں۔ لڑکیوں کو بچپن سے یہ تو سکھایا جاتا ہے کہ ڈولی اٹھنے کے بعد اب وہاں سے جنازہ ہی نکلنا چاہیے لیکن انہیں کبھی یہ نہیں سکھایا جاتا کہ اگر شادی کے نام پر تمہارا جسمانی اور ذہنی استحصال ہو تو وہاں پورے حوصلے کے ساتھ ’نہیں‘ کیسے کہنا ہے۔ اس تاریک اور گھٹن زدہ ماحول میں خواتین کے حقوق کے لیے نبردِ آزما بین الاقوامی اور مقامی غیر سرکاری تنظیموں کا کردار اندھیرے میں جلتے ہوئے ایک دیے کی مانند ہے۔ دنیا کے ہر کونے میں یہ تنظیمیں مظلوم اور بے آسرا خواتین کے لیے ایک توانا آواز بن کر ابھری ہیں۔ مزید پڑھ اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field) یہ این جی اوز نہ صرف گھریلو اور ازدواجی تشدد کی چکی میں پسنے والی بیٹیوں کو مفت قانونی چارہ جوئی، نفسیاتی مرہم اور مامون پناہ گاہیں فراہم کرتی ہیں بلکہ عالمی سطح پر معاشرتی شعور کو بیدار کرنے کے لیے مہمات بھی چلاتی ہیں۔ اگرچہ پاکستان میں ’پنجاب پروٹیکشن آف ویمن ایکٹ‘ اور ’سندھ ڈومیسٹک وائلنس ایکٹ‘ جیسے چند قوانین موجود ہیں جو گھریلو تشدد پر کسی حد تک قدغن لگاتے ہیں اور متاثرہ خواتین کو عدالتی تحفظ یا مالی معاوضہ فراہم کرتے ہیں، لیکن نکاح کے خوبصورت پردے کے پیچھے چھپے اس قبیح ازدواجی جبر اور جنسی تشدد کو اب تک تعزیرات پاکستان میں ایک الگ اور مخصوص صریح جرم قرار نہیں دیا جا سکا۔ یہی وہ موڑ ہے جہاں پاکستان کے قانون سازوں اور ارکان پارلیمنٹ کے لیے اب یہ ناگزیر ہو چکا ہے کہ وہ روایتی مصلحتوں اور منافقت کے بت توڑ کر ازدواجی زیادتی کو بھی ایک سنگین اور ناقابل معافی جرم کے طور پر تسلیم کرتے ہوئے فوری اور جامع قانون سازی کریں۔ اب وقت آ گیا ہے کہ ہم اس بیمار اور منافقانہ سماج کا مرثیہ لکھیں جہاں کوئی بھی عورت نہ جوانی میں محفوظ ہے اور نہ ہی بڑھاپے کی دہلیز پر۔ یہ ایک ایسا معاشرہ بن چکا ہے جہاں بعض مردوں کو جنسی تسکین اور جانور جیسی بھوک کے علاوہ کچھ سجھائی نہیں دیتا اور جہاں عورت کا ’نہیں‘ کہنا اس کا اپنے موت کے پروانے پر دستخط کرنے کے مترادف ہے۔ نوٹ: یہ تحریر کالم نگار کی ذاتی آرا پر مبنی ہے، جس سے انڈپینڈنٹ اردو کا متفق ہونا ضروری نہیں۔ ریپ ریپ متاثرین اجتماعی زیادتی جنسی زیادتی خواتین نکاح نامہ کوئی ملکیت کا سرٹیفکیٹ نہیں بلکہ دو برابر کے انسانوں کا معزز ساتھ ہے، جس میں عورت کا احترام ہر حال میں لازم ہے۔ عروج رضا صیامی اتوار, جون 14, 2026 – 08: 15 Main image:
12 ستمبر، 2020 کو کوئٹہ میں انسانی حقوق کی کارکن ایک خاتون کے مبینہ گینگ ریپ کے خلاف احتجاج میں شریک ہیں (اے ایف پی)
خواتین type: news related nodes: لاہور ہائی کورٹ: موٹروے ریپ کیس کے دونوں مجرموں کی سزائے موت برقرار اسلام آباد: ’نوکری کے جھانسے‘ پر سنٹورس مال میں ریپ کا مقدمہ درج ریپ، قتل اور خفیہ تدفین: ایک انڈین مندر کے متعلق انکشافات انڈیا: کولکتہ میں کالج کی طالبہ کا گینگ ریپ، تین گرفتار SEO Title: عورت انسان ہے ملکیت نہیں copyright: show related homepage: Hide from Homepage



