73.6 F
Pakistan
Sunday, April 26, 2026
HomePoliticsعلامہ اقبال، حاجی فضل احمد اور اللہ کا فضل

علامہ اقبال، حاجی فضل احمد اور اللہ کا فضل

بچہ تصور کرتا ہے کہ میرا باپ ہر چیز جانتا ہے۔ بالغ ہو کر وہی بچہ کہتا ہے، ”چھوڑیے جی، ابا کو ان باتوں کا کیا پتا“! بچہ استاد کے بارے میں سوچتا ہے کہ اسے ہر بات کا علم ہے۔ بالغ ہو کر استاد شاگرد کی دنیائیں الگ ہونے پر استاد کی وہ ”توقیر“ نہیں ہوتی جو اولاد کے ہاتھوں باپ کی ہوتی ہے, الحمدللہ، میں اب بلوغ سے گزر کر کہولت کی حدود میں ہوں. والدین اور بیشتر اساتذہ خلد آشیانی ہو چکے ہیں، پس بچے اور باپ کا مذکورہ تعلق اب بے معنی ہے۔ اساتذہ کی دنیا الگ تھی یا ہے، لہٰذا استاد شاگرد کی نسبت سے بھی مذکورہ اصول بے معنی ہے، لیکن اسی اصول کے تحت میرا آج بھی ایمان ہے کہ چھٹی تا آٹھویں تک کے میرے استاد حاجی فضل احمد مرحوم ہر شے جانتے تھے۔ فائرنگ واقعہ میں گرفتارشخص کے بارے میں ابتدائی تفصیلات سامنے آ گئیں اس بظاہر مبالغہ آمیز گفتگو سے آپ سمجھیں گے کہ حاجی صاحب پی ایچ ڈی یا شاید بی اے، ایم اے ہوئے ہوں گے۔ نہ صاحب! وہ تو میٹرک بھی نہیں تھے۔ اس زمانے کے استاد آٹھویں جماعت پاس یا منشی فاضل، ادیب فاضل جیسے سند یافتہ ہوتے تھے۔ پتا نہیں انہیں پڑھانے والے کون ہوتے اور وہ پڑھتے کیا تھے۔ دیگر کا تو علم نہیں، آج بھی میرا ایمان ہے کہ حاجی فضل احمد مرحوم ہر بات، ہر شے، ہر چیز بلکہ بقول جوش ملیح آبادی کے ”آتش و دود و دخان و شعلہ و برق و شرر“ سبھی سے باخبر تھے۔ پڑھانے پر آتے تو الفاظ ہاتھ باندھے حاضر ہو جاتے۔ کاکل و رخسار سے آغاز تو بادہ و ساغر پر جا رکتے۔ اقبال کو میں نے پڑھا اور کچھ نہ کچھ پڑھ ہی لیا، لیکن کلام اقبال کا جو عرق، جو نچوڑ اور جو خمیرہ مرحوم حاجی فضل احمد کے ڈھابے سے ملا پھر کبھی سنا نہ پڑھا۔ تب ان دِنوں سمجھ کیا آتا، کچھ نہیں۔ پنڈی کے لوگ آملے کھاتے نہیں زہر مار کرتے ہیں لیکن جانتے ہیں کہ سواد حلق سے اترنے کے کہیں بعد آتا ہے اور لگاتار آتا ہے۔حاجی صاحب نے چھٹی ساتویں جماعت میں جو آملے کھلائے، کلام اقبال پڑھتے پڑھتے ان کا سواد تو اب آتا ہے۔ تاحال یہ معلوم نہیں کہ مشتبہ شخص نے حملہ کیوں کیا، پولیس بولے: ”اقبال کے ہاں جو چاہو ملتا ہے، گل و بلبل, بادہ و ساغر، صیاد و بسمل، بربط و مضراب، ریگزار چاہو تو وہ موجود اور نخلستان ڈھونڈو تو وہ حاضر، فرقت کا نوحہ ہو یا وصال کی چہکار، اقبال کی شاعری وہ مخزن ہے، مصطلحات کی وہ کان ہے جس میں ہر شے موجود ہے اور اقبال سب کو حقیقت کے لئے لیتا ہے۔ اظہار حقیقت کے لئے اسے جب یہ اتنا کچھ ناکافی لگا تو اس نے خود اپنی اصطلاحات وضع کر لیں۔ شاہین اقبال کی وہ جامع، لافانی و آفاقی ایجاد ہے جس میں متانت، جبروت اور استغنا سے لے کر جذبہ جہاد تک سبھی کچھ موجود ہے۔ اقبال کی کل شاعری شعر میں سمونا چاہو تو پہلا مصرع شاہین تو دوسرا خودی ہے”پھر حاجی صاحب نے کتاب ایک طرف رکھ دی اور جو بولے وہ ذہن میں چپک کر رہ گیا۔ تب کچھ زیادہ پلے نہیں پڑا تھا لیکن حاجی صاحب کے دیے آملوں کا سواد اب آج آرہا ہے۔“ہاں تو میں کہہ رہا تھا کہ اقبال نے معاصر اور قدیم شعراء کی جو بھی اصطلاح استعمال کی، صرف حقیقت کے لئے، یہاں مجاز نام کی شے نہیں ہے۔ مجاز کی ذرا سی جھلک اس کی اس غزل میں ہے جس کا پہلا شعر ہے: نہ آتے ہمیں اس میں تکرار کیا تھی/ مگر وعدہ کرتے ہوئے عار کیا تھی، لیکن پوری غزل میں ہلکے سے مجاز کے ساتھ حقیقت ہی کا بیان ہے“۔ ڈاکٹر فیصل کی سبکدوشی, عہدہ چھوڑ کر اسلام آباد روانہ، کمیونٹی میں تذبذب اور تشویش پڑھاتے تو خم کے خم لنڈھاتے: ”یہ جو موسیٰ علیہ السلام ہیں نا تو یاد رکھو، موسیٰ عربی نہیں، عبرانی کا لفظ ہے۔ عربی میں موسیٰ استرے کو کہتے ہیں“۔ یہاں انہیں صاعقہ یاد آگیا تو بولے: ”صاعقہ بجلی ہوتی ہے، بجلی کی تین قسمیں ہیں۔ چمکتی بجلی برق کہلاتی ہے، کڑکتی بجلی کو رعد کہتے ہیں اور صاعقہ گرنے والی بجلی ہے“ صاحب، یونیورسٹی میں میرے اکثر استاد عرب اور بیشتر الازہری تھے لیکن اس باریک بینی سے کبھی کسی نے نہ پڑھایا، سوائے ایک کے جن کا ذکر آئندہ کبھی۔ ان دنوں قرعہ اندازی سے نام نکل آتا تو آدھا حج وہیں سمجھ لیا جاتا۔ دوسرا حج تو تھا ہی ناممکن۔ یہ راز کبھی منکشف نہ ہو سکا کہ حاجی فضل احمد مرحوم ہر سال کیونکرحج کر لیتے۔ ہماری آخری ملاقات ہوئی تو میں یونیورسٹی سے فارغ اور وہ ریٹائرڈ تھے۔ میرے ”بڑے“ ہو جانے پر “احترام” سے پیش آئے۔ ترنت سے یہی سوال کیا تو بولے: ”یار میں اتنا مالدار کہاں؟ لاغر بوڑھے مجھ سے حج بدل کراتے تھے“ عرض کیا: ”حاجی صاحب لوگوں کا نام سالوں نہیں نکلتا تھا، آپ کا ہر سال کیسے نکل آتا تھا؟“ہلکی سی ابھرتی مسکراہٹ کا گلا دبا کر چہرہ مصنوعی خشونت میں لپیٹ کر بولے: توں ہن چپ کریں گا یا میں اوہ ہی حشر کراں تیرا؟ (تم چپ کرو گے یا میں تمہارا وہی حشر کروں)۔ ملزم کے پاس شاٹ گن اور متعدد چاقو موجود تھے، پولیس چیف کہوٹہ ان دنوں چھوٹا سا قصبہ تھا۔ پڑھے لکھے تو بہت لیکن افسر گنے چنے تھے، جیسے پروفیسر، اسسٹنٹ کمشنر، ڈاکٹر، بینک مینیجر،۔ حاجی صاحب چوتھے چھٹے اسکیل کے سکول ماسٹر تھے۔ قراقلی ٹوپی، دائیں ہاتھ میں ڈنڈا، بائیں میں کتابیں، ایک آدھ کتاب گاہے بغل میں بھی ملتی، دائیں کو جھکی گردن کہ گویا بایاں پاؤں دیکھ رہے ہوں۔ کوئی ”سلاماں لیکم“ کہتا تو اسے روک کر تجوید کے ساتھ السلام علیکم کہلواتے۔ حال پوچھنے پر کوئی ض پر زبر کے ساتھ اللہ کا فضل کہتا تو سب کام چھوڑ کر اللہ۔۔۔ کا فضل (ض سکون کے ساتھ) کہلواتے۔ یہ سہولت اسے دو دفعہ ملتی، غضب کا حافظہ تھا، یاد رکھتے۔ چنانچہ تیسری دفعہ کوئی اسی پرانے انداز میں اللہ کا فضل کہتا تو تمام مذکورہ بالا افسروں سمیت ڈنڈے کی ہلکی سی ضرب اس کا مقدر ہوتی۔ ڈنڈا کھا کر وہ ذرا فاصلے پر جا کر یہ ضرور کہتا: ”اللہ کا حاجی فضل احمد“، حاجی صاحب مسکرا کر چل پڑتے۔ ایف بی آئی کی حملہ آور کو حراست میں لینے کی تصدیق،ٹرمپ نے تصویر اور فوٹیج جاری کردی ان سب باتوں سے ماوراء حاجی صاحب کی اپنی اور طبع زاد شناخت حب رسولؐ تھی۔ گفتگو کا آغاز کوئی یا وہ خود کہیں سے کریں، گھما پھرا کر اس کا اختتام وہ حب رسوؐل کے کسی زاویہ ہی پر کرتے۔ میں کہولت زدہ، آج زندگی سے اتنا کچھ سیکھنے، پڑھنے، لکھنے کے بعد بھی تمنا کرتا ہوں کہ کاش حاجی صاحب ہوتے کہ میں ان سے وہ کچھ سیکھتا جو کسی اور سے نہیں سیکھ سکتا، نہ کوئی اور مجھے وہ کچھ سکھا سکتا ہے۔حاجی صاحب ہر بات اور ہر شے جانتے تھے۔ دُعا ہے کہ اللہ کریم انہیں اپنے محرم راز صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ جگہ دے تاکہ میں ان سے کچھ سیکھ سکوں۔ آمین۔ خاتون اول اور کابینہ کے تمام ممبران محفوظ ہیں، تقریب 30 منٹ کے لیے مؤخر کی گئی ہے: صدر ٹرمپ ٭٭٭٭٭

Read full story on Daily Pakistan

RELATED ARTICLES

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

- Advertisment -
Google search engine

Most Popular

Recent Comments