مصنف: ع۔غ۔ جانبازقسط: 125برنی کھجور 10 ریال، عجوہ کھجور ڈبہ 50ریال میں خرید کیں۔ آپ صلى الله عليه وسلم کے پیارے چچاحضرت امیر حمزہؓ یہاں شہید ہوئے۔ یہیں ان کا مزار ہے یہاں 67شہداء یک مقام پر دفن ہیں۔ پھر وادی جن کی طرف بس دوڑا دی۔ راستے میں کھجوروں کے باغات نے ایک سماں ہی باندھ دیا۔ ہرے بھرے نئے لگائے گئے درخت عجیب بہار دکھا رہے تھے۔ پھر آگے خشک علاقہ آیا تمام پہاڑی سلسلہ ہلکے پھلکے بادل آسمان پر دُھوپ کی شدّت کم ہوگئی۔وادیٔ جِن (صرف پاکستانی اُسے وادیٔ جن کہتے ہیں) ڈرائیور نے گاڑی نیوٹر گیئر میں گاڑی پیچھے کی طرف چلائی، پھر آگے آگے خود بخود چلنے لگی۔ سپید پکڑ رہی ہے۔ 130-120 کلو میٹر تک جاتی ہے۔ یہ کوئی قدرتی نظام ہے۔ کوئی کشش ثقل کا معاملہ لگتا ہے۔ اس قدرتی کشش ثقل کی لمبائی 10 کلو میٹر جب گاڑی اس حدود سے باہر نکل جاتی ہے تو پھر اُسی طرح گیئر لگا کر چلانی پڑتی ہے بس پھر واپس ہوئی۔21-4-2014. .. .. . مسجد نبویؐ میں منبر رسول صلى الله عليه وسلم تک رسائی ہوئی اور تیسری صف میں جگہ مل گئی۔ یہاں تہجد اور نماز فجر ادا کی گئیں۔ بائیں طرف حضرت بلالؓ کے اذان دینے کی جگہ پر بنایا گیا چبوترہ اپنی شان دکھا رہا تھا اور ساتھ ہی ”ریاض الجنۃ“ جو ہرطرف سے بالکل Pakced تھی اور تل دھرنے کو جگہ نہ تھی لہٰذا وہاں نوافل ادا نہ کرسکا۔ نماز سے فارغ ہو کر روضہ رسول صلى الله عليه وسلم کی زیارت کر کے درود و سلام پڑھتے ہوئے گیٹ نمبر 4سے باہر آکر گیٹ نمبر 8پر پہنچ کر بیگم کو ساتھ لیا۔ مجھ جیسا گناہگار اِس متبرک و عالی مقام جگہ پر اپنے آپ کو پا کر بس اللہ کی بڑائی ہی بیان کرسکا کہ وہ جس کو چاہے اپنے کرم سے نواز دے۔گیٹ نمبر 8 پر لائبریری کا پتہ کیا تو پتہ چلا کہ صبح 7بجے سے 1 بجے تک اور شام کو 4 بجے سے 6 بجے تک کھلتی ہے۔ لہٰذا ہوٹل واپس جانے کی بجائے عصر کی نماز مسجد نبوی صلى الله عليه وسلم میں ادا کی اور پھر دوبارہ لائبریری کا قصد کیا۔ وہاں تو عالم ہی کچھ اور تھا۔ نہ قلم نہ دوات نہ کاپی نہ کتاب وہاں تو سائنسی دنیا کا راج تھا۔ مختلف قرآنی آیات کا سائنسی طور طریقے سے فلموں کے ذریعے ڈسپلے کیا ہوا تھا۔ چلتے جائیے اور دیواروں پر لگی مختلف سکرینز پر ڈسپلے دیکھتے جائیے۔ یہ دیکھیں یہاں آبی حیات سے اس کی تشریح کی گئی ہے۔ آدمی حیران ہوتا ہے کہ چلو دیر سے ہی ہم سائنس کی طرف کچھ بڑھے تو سہی۔غرض اس طرح متعدد جگہ پر سکرینز پر دیکھتے جائیے اور آگے بڑھتے جائیے۔ اس ڈسپلے کی خوشہ چینی سے پُر مسرّت باہر آئے۔ اب کے ہوٹل کو واپسی روز مرّہ سے ہٹ کر ایک دوسرے راستے سے ہوئی۔ اُس راستے پر تحائف سے سجی دکانیں زائرین کو دعوت نظاّرہ ودے رہی تھیں کیونکہ وہ بازار زیادہ روشن اور دلکش بازار تھا۔22-4-2014. .. .. . ہوٹل سے درود و سلام پڑھتے علی الصبّح روانہ ہوئے اور فجر، ظہر اور عصر کی نمازیں مسجد نبوی صلى الله عليه وسلم میں باجماعت ادا کیں۔ مکہ مکرمہ جانے کی تیاری کرتے کچھ تھکاوٹ ہوجانے کی وجہ سے باقی نمازیں ہوٹل میں ہی ادا کیں۔ ہوٹل میں مکہ شریف جانے والے زائرین کی لسٹ لگ گئی جس میں بتایا گیا کہ بس 1 بجے روانہ ہوگی۔ لاہور گھر میں ”فرخ“ سے اور جدہ سے ”شان علی“ سے رابطہ ہوا۔23-4-2014. .. .. . بس ہوٹل سے اڑھائی بجے روانہ ہوئی۔ دیکھو دائیں بائیں ہوٹلوں کی لمبی قطاریں۔ سارا شہر سجا سجایا پیارا پیارا. .. .. . اطراف میں پھیلی چھوٹی بڑی پہاڑیاں بھی، ایک دلفریب اور رُوح پرور صورتِ حال۔ آگے آگیا حاجیوں کا بس ٹرمینلآگے آئی مسجد المیقات، وہاں رُکے احرام باندھے اور2 رکعت نماز ادا کی۔ عمرہ کی نیت کی اور پاؤں میں سلیپر پہنے اور لَبَّیْکَ اَللّٰھُمَّ لَبَّیْکَ کا تلبیہ پڑھتے پھر بس میں سوار ہوگئے۔ (جاری ہے)نوٹ: یہ کتاب ”بک ہوم“ نے شائع کی ہے (جملہ حقوق محفوظ ہیں)ادارے کا مصنف کی آراء سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ کسی دوستی، تعلق کا سہارا نہیں لیا، اجلاس کے بعد ہر کوئی مجھ سے سوال کر رہا تھا،واپس لاہور جاکر اندازہ ہوا کہ بار میں یہ خبر جنگل کی آگ کی طرح پھیل چکی تھی
عصر کی نماز مسجد نبوی صلى الله عليه وسلم میں ادا کی اور پھر دوبارہ لائبریری کا قصد کیا، عالم ہی کچھ اور تھا۔ نہ قلم نہ دوات نہ کاپی نہ کتاب وہاں تو سائنسی دنیا کا راج تھا
RELATED ARTICLES



