61 F
Pakistan
Wednesday, October 14, 2026
HomeHealth’’صرف بالغوں کیلئے ‘‘

’’صرف بالغوں کیلئے ‘‘

بچے ، بزرگ اور مریض میرا یہ کالم ہر گز نہ پڑھیں ۔ مریض پڑھیں گے تو ان کا بلڈ پریشر چڑھ جائے گا ، بزرگ پڑھیں گے تو ناسٹیلجیا کا شکار ہو جائیں گے اور اگر کسی بچے نے پڑھ لیا تو اس کا ایمان خونی رشتوں پر سے ہمیشہ ہمیشہ کیلئے اٹھ جائے گا ۔ میں اپنے پڑھنے والوں کیلئے کبھی یہ انتباہ نہ کرتا اگر درج ذیل خط میری نظروں سے نہ گزرا ہوتا ۔ خط کا متن پڑھئے گا ’’یہ کربلا سے بھی بد تر دور ہے ۔ قانون سے بھی ہماری کوئی امید نہیں ، ملک کا ہر سیاستدان اور قانون دان لالچی ہے ۔ میت پر بریانی کھانے والے لوگ کسی کی مدد نہیں کرتے ۔ کوئی شخص سڑک پر پڑی لاش کو اٹھانے کی کوشش بھی نہیں کرتا۔‘‘کراچی کے علاقے گلشن حدید کا ایک گھر کچھ ماہ پہلے تک شاہزیب ، ان کی اہلیہ صبا ، دو بیٹیوں ایزل اور آریہ ، شاہزیب کی بہن شمائلہ کیلئے سر چھپانے کی جگہ تھا ۔ چھ ماہ کی بیروز گاری کے باعث جنم لینی والی مالی مشکلات اور عزیز و اقارب کی بے رخی نے قطرہ قطرہ زندگی جینے والوں کی ہر ہر سانس پر پہرہ بٹھا دیا تھا ۔ نامساعد حالات نے گھر کے سربراہ شاہزیب کو اس حد تک دیوار سے لگا دیا کہ وہ اپنے ہاتھوں اپنا گلشن اجاڑنے پر مجبور ہو گئے ۔ شاہزیب لکھتے ہیں ۔۔۔’’بابا کی موت کے بعد لمبی بیروزگاری آ گئی ۔ 6 ماہ سے ہم رشتہ داروں سے مدد مانگ رہے ہیں ، کبھی راشن کیلئے ، کبھی بچوں کے دودھ کیلئے ، کبھی سلنڈر میں گیس بھروانے کیلئے ، ہم کہتے پھرتے کچھ پیسے دے دو ؟ ہماری خالاؤں نے ، ہمارے چچاؤں نے ، ہمارے کزنز نے ہمیں فون سروس پر بھی بلاک کر دیا ہے۔‘‘ایک چھت کے نیچے 5 اکٹھی لاشیں ملیں تو پورے محلے کی فضا سوگوار ہو گئی ۔ پولیس کی ابتدائی رپورٹ کے مطابق مرنے والے میاں ، بیوی ، دو کمسن بچیاں اور ایک 18 سالہ لڑکی ہے ۔ گھر کے سربراہ کا تحریر کردہ خط انہی لاشوں کے پاس پڑا ملا ۔ خط کی شکستہ تحریر میں مالی مشکلات اور رشتہ دارون کے مبینہ ناروا سلوک کا ذکر ہے ۔ دیکھئے گا ۔۔۔‘‘رشتہ داروں نے بے یارو مددگار چھوڑ دیا ۔ ہمیں ملتے ہیں نہ اپنے گھر بلانا گوارہ کرتے ہیں ۔ ہم ان کے گھر جاتے ہیں تو یہ لوگ ذلیل کر کے گھر سے نکال دیتے ہیں ۔ ان تمام حالات کو دیکھتے ہوئے ہم سب بہت ڈپریشن میں چلے گئے ہیں ، اتنا زیادہ توہین آمیز رویہ ہماری برداشت سے باہر ہو گیا ہے ، اب مزید برداشت کرنے کی ہمت نہیں رہی ۔ ہم سب نے مل کر فیصلہ کیا ہے کہ ان حالات میں مزید زندہ نہیں رہ سکتے۔‘‘ایس ایس پی ملیر ڈاکٹر عبدالخالق پیرزادہ کہتے ہیں میاں بیوی کی لاشیں صوفے پر پڑی ملیں ، دونوں کے سروں پر گولی لگنے کے نشانات تھے ۔ پستول مقتولہ کے ہاتھ میں اور ہاتھ گود میں تھا ۔ دونوں بچیوں اور 18 سالہ شمائلہ کی لاشیں بستر پر ملیں ۔ ڈاکٹر صاحب کا کہنا ہے کہ شبہ ہے دونوں کمسن بچیوں اور شمائلہ کو زہر دینے کے بعد میاں بیوی نے خود کو گولی مار کر خود کشی کر لی ۔ شاہزیب صاحب کے اس خط میں بظاہر وہی تمام قصہ درج ہے جو آج کے مادی دور میں ہمارے ہر گھر کا حصہ بن چکا ہے ۔ کمر دوہری کر دینے والی مہنگائی اور زندگی کی ہر حرارت چھین لینے والی بیروزگاری کے باعث بے حسی ، بے مروتی ، معاشرتی اقدار کی بے وقعتی تو اب ہماری روزمرہ کی زندگی کا جزو بن چکی ہے ۔ اس پر کیا رونا ؟ کیا ماتم کرنا ؟ لیکن میرے نزدیک خط کی درد انگیز اور رلا دینے والی تحریر اس لئے قابل ذکر ہو گئی کہ یہ خط 5 لاشوں کے قریب گرا پڑا ملا ۔ 5 لاشیں ، جو کبھی ایک باپ شاہزیب ، ایک ماں صبا ، ان کی 5 سالہ بیٹی ایزل ، 4 سالہ بیٹی آریہ اور شاہزیب کی 18 سالہ بہن شمائلہ کے ناموں کی شناخت رکھتی تھیں ۔ آج ڈیڈ باڈیز کے نام سے پہچانی جا رہی ہیں ۔ رہے نام اللہ کا

Read full story on 24 News Digital Urdu

RELATED ARTICLES

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

- Advertisment -
Google search engine

Most Popular

Recent Comments