کئی لوگوں کو صبح نیند سے جاگنے کے فوراً بعد محسوس ہوتا ہے کہ ان کا دل معمول سے زیادہ تیزی سے دھڑک رہا ہے۔ بعض اوقات یہ صرف چند لمحوں کے لیے ہوتا ہے اور پھر دل کی دھڑکن خود ہی معمول پر آجاتی ہے۔ لیکن اگر یہ مسئلہ بار بار ہو یا اس کے ساتھ دوسری علامات بھی ہوں تو اسے نظر انداز نہیں کرنا چاہیے۔ ماہرین کے مطابق صبح کے وقت دل کی دھڑکن تیز ہونے کی کئی عام وجوہات ہوسکتی ہیں، جن میں نیند کی کمی، ذہنی دباؤ، پانی کی کمی اور چائے یا کافی کا زیادہ استعمال شامل ہیں۔ جاگنے کے بعد دل تیز کیوں دھڑکتا ہے؟ جب ہم سو رہے ہوتے ہیں تو جسم آرام کی حالت میں ہوتا ہے۔ جاگنے کے بعد جسم دوبارہ کام شروع کرتا ہے اور دل بھی خون کو جسم کے مختلف حصوں تک پہنچانے کے لیے اپنی رفتار میں کچھ دیر کے لیے اضافہ کرسکتا ہے۔ خاص طور پر بستر سے اٹھ کر کھڑے ہونے پر ایسا محسوس ہوسکتا ہے۔ اگر دھڑکن کچھ دیر بعد خود معمول پر آ جائے اور کوئی دوسری تکلیف نہ ہو تو عموماً زیادہ پریشان ہونے کی ضرورت نہیں ہوتی۔ رات بھر پانی نہ پینا رات کو کئی گھنٹے پانی نہ پینے کی وجہ سے جسم میں پانی کی کمی ہوسکتی ہے۔ اس صورت میں خون کی گردش برقرار رکھنے کے لیے دل کو کچھ زیادہ تیزی سے کام کرنا پڑ سکتا ہے۔ اگر صبح دل تیز دھڑکنے کے ساتھ منہ خشک ہو، بہت زیادہ پیاس لگے یا چکر محسوس ہوں تو پانی کی کمی بھی ایک وجہ ہوسکتی ہے۔ ذہنی دباؤ اور پریشانی زیادہ پریشانی، ذہنی دباؤ اور بے چینی کا اثر دل کی دھڑکن پر بھی پڑ سکتا ہے۔ اگر کسی شخص کو رات بھر اچھی نیند نہ آئے یا وہ کسی پریشانی کی وجہ سے بار بار جاگتا رہے تو صبح دل تیز دھڑکنے کا احساس ہوسکتا ہے۔ چائے اور کافی کا زیادہ استعمال چائے، کافی اور انرجی ڈرنکس میں موجود کیفین بعض لوگوں میں دل کی دھڑکن تیز کرسکتی ہے۔ اگر رات کو زیادہ چائے یا کافی پی جائے تو نیند بھی متاثر ہوسکتی ہے اور اگلی صبح دھڑکن تیز محسوس ہوسکتی ہے۔ اس لیے اگر یہ مسئلہ بار بار ہو رہا ہے تو چائے، کافی اور انرجی ڈرنکس کی مقدار کم کرکے دیکھیں۔ نیند پوری نہ ہونا روزانہ مناسب نیند نہ لینا بھی جسم پر اثر ڈالتا ہے۔ رات کو دیر تک جاگنا، بار بار آنکھ کھلنا یا نیند کا معیار خراب ہونا بعض افراد میں صبح کے وقت دل کی دھڑکن بڑھنے کا سبب بن سکتا ہے۔ اس لیے کوشش کریں کہ روزانہ ایک مقررہ وقت پر سوئیں اور مناسب نیند لیں۔ تھائرائیڈ یا دل کی دھڑکن کا مسئلہ کبھی کبھار تیز دھڑکن کسی طبی مسئلے کی وجہ سے بھی ہوسکتی ہے۔ مثال کے طور پر تھائرائیڈ ہارمون زیادہ ہونے سے دل کی رفتار بڑھ سکتی ہے۔ اس کے ساتھ وزن کم ہونا، زیادہ پسینہ آنا، ہاتھ کانپنا اور بے چینی جیسی علامات بھی ہوسکتی ہیں۔ اسی طرح دل کی دھڑکن کا بے ترتیب ہونا بھی ایک وجہ ہوسکتی ہے۔ ایسی صورت میں خود سے وجہ معلوم کرنے کے بجائے ڈاکٹر سے معائنہ کروانا بہتر ہے۔ دل کی تیز دھڑکن ہو تو کیا کریں؟ اگر صبح اٹھتے ہی دل تیز دھڑکنے لگے تو فوراً گھبرانے کے بجائے کچھ دیر آرام سے بیٹھیں اور آہستہ آہستہ سانس لیں۔ بستر سے اچانک کھڑے ہونے کے بجائے پہلے کچھ دیر بیٹھیں اور پھر آہستہ سے اٹھیں۔ دن بھر مناسب مقدار میں پانی پئیں، نیند پوری کریں اور چائے، کافی یا انرجی ڈرنکس کا زیادہ استعمال نہ کریں۔ کن علامات میں فوراً محتاط ہونا چاہیے؟ اگر دل کی تیز دھڑکن کے ساتھ سینے میں درد یا دباؤ، سانس لینے میں مشکل، شدید چکر، بے ہوشی یا بہت زیادہ بے ترتیب دھڑکن محسوس ہو تو اسے معمولی مسئلہ سمجھ کر نظر انداز نہ کریں اور فوری طبی مدد حاصل کریں۔ صبح اٹھتے ہی کچھ دیر کے لیے دل کی دھڑکن تیز ہونا ہمیشہ دل کی بیماری کی علامت نہیں ہوتا۔ جسم کے جاگنے، پانی کی کمی، ذہنی دباؤ، نیند کی خرابی اور کیفین جیسی عام وجوہات بھی اس کی وجہ بن سکتی ہیں۔ تاہم، اگر یہ مسئلہ بار بار ہونے لگے تو ڈاکٹر سے مشورہ کرکے اصل وجہ معلوم کرنا بہتر ہے۔



